تازہ ترین
حضرت بل سری نگر میں بھیانک آتشزدگی تین شاپنگ کمپلیکس، سات رہائشی مکان خاکستر، ایک درجن گیس سلنڈر زور دار دھماکوں سے پھٹ گئے
سری نگر،17اپریل(یو این آئی)درگاہ حضرت بل سری نگر میں کشمیر یونیورسٹی کے سر سید گیٹ کے بالکل سامنے واقع ریسٹورینٹ سے آگ نمودار ہوئی جس نے آناً فاناً تین شاپنگ کمپلیکس اور ایک بستی کو لپیٹ میں لے لیا فائر اینڈ ایمرجنسی کے مطابق شاپنگ کمپلیکس میں موجود 10سے 20گیس سلنڈر زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس وجہ سے آگ نے بھیانک رخ اختیار کیا آگ کی اس واردات میں تین شاپنگ کمپلیکس اور سات رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ 17فائرٹینڈروں اور دو واٹر پمپوں کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا تاہم آتشزدگی کی اس بھیانک واردات میں کروڑوں روپیہ مالیت کی املاک راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوئی ۔
مقامی لوگوں نے الزام لگایاکہ ریسٹورینٹوں میں گھریلو استعمال کے گیس سلنڈر ڈمپ کئے گئے تھے اور جوں ہی آگ نمودار ہوئی تو گیس سلنڈر پھٹنے سے بستی بھی اس کی لپیٹ میں آئی۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شاپنگ کمپلیکس میں موجود ریسٹورینٹوں کو مقفل کیا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کا واقع رونما نہ ہو سکے۔
یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ درگاہ حضرت بل میں کشمیر یونیورسٹی کے سرسید گیٹ کے بالکل سامنے پیر کو قریب پونے نو بجے ایک کثیر المنزلہ شاپنگ کمپلیکس سے آگ نمودار ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے متصل مزید دو شاپنگ کمپلیکس بھی لپیٹ میں لے لئے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ کی واردات کے دوران شاپنگ کمپلیکس میں موجود 10سے 20گیس سلنڈر زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس وجہ سے آگ نے شاپنگ کمپلیکس کے متصل بستی کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔
فائر اینڈ ایمرجنسی اور مقامی لوگوں نے فوری طورپر آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی تاہم آتشزدگی کی اس واردات کے دوران تین شاپنگ کمپلیکس اور سات رہائشی مکانوں کونقصان پہنچا ہے۔
نامہ نگار نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے پیشہ وارانہ کام میں چند مقامی افراد نے رخنہ ڈال کر پائپوں کو چھین لیا جس وجہ سے فائر عملے کو آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران دقتوں کا سامنا کرناپڑا۔
ان کے مطابق آگ اس قدر بھیانک تھی کہ فائر اینڈ ایمرجنسی عملے کو آگ بجھانے کی کارروائی میں سات گھنٹے لگے ۔
فائر اینڈ ایمرجنسی کے جوائنٹ ڈائریکٹر بشیر احمد شاہ نے یو این آئی اردو کو بتایا :’ اپنی پوری زندگی میں اس طرح کی آگ نہیں دیکھی ۔ ‘
انہوں نے بتایا کہ صبح نو بجے فائر اینڈ ایمرجنسی کنٹرول روم کو فون کال موصول ہوئی کہ درگاہ حضرت بل میں شاپنگ کمپلیکس سے آگ نمودار ہوئی تو فوری طورپر فائر ٹینڈروں کو روانہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شاپنگ کمپلیکس میں لگ بھگ 40سے 50گیس سلنڈر موجود تھے جن میں سے کئی زور دار دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئے جس وجہ سے آگ نے سنگین رخ اختیار کیا اور فائر اینڈ ایمرجنسی عملے کو بھی آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔
ان کے مطابق شہر سری نگر میں قائم سبھی فائر اسٹیشنوں سے گاڑیاں جائے موقع پر طلب کی گئیں اور 17فائر ٹینڈر بیک وقت آگ بجھانے کی کارروائی میں مصروف رہے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ پانی ختم ہونے کے بعد کشمیر یونیورسٹی اور جھیل ڈل میں دو پمپ بھی نصب کرنے پڑے اور قریباً سہ پہر تین بجے کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔
جوائنٹ ڈائریکٹر نے مزید بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکاروں نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر آگ پر قابو پاکر ایک بڑے سانحہ کو رونما ہونے سے ٹال دیا۔
ان کے مطابق آتشزدگی کی اس واردات میں زائد از نصف درجن مکان اورتین شاپنگ کمپلیکسوں کی اوپری منزل کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رہائشی مکانوں کی بھی اوپری منزلیں ہی آگ کی اس واردات میں خاکستر ہوئیں۔
آگ بجھانے کے دوران چند مقامی افراد کی جانب سے فائر مینوں کی پائپ چھیننے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں جوائنٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ ہم بار ہاں لوگوں سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکاروں کو خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کی خاطر ان کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے بتایا کہ چند مقامی افراد کی جانب سے پائپیں چھیننے کے باعث ایک تو پانی ضائع ہوا دوسرا یہ کہ آگ بجھانے کی کارروائی میں بھی رخنہ پڑا۔
جوائنٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے اہلکار تربیت یافتہ ہوتے ہیں لہذا ان کے کام میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہئے۔
دریں اثنا مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شاپنگ کمپلیکس میں موجود سبھی ریسٹورینٹوں کو مقفل کیا جانا چاہئے کیونہ کمپلیکس کے نزدیک ہی بستی آبا د ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ریسٹورینٹ میں اگر گھریلو استعمال کے گیس سلنڈر نہ ہوتے تو اتنا بڑا سانحہ پیش نہیں آتا۔
مقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسٹورینٹوں میں گھریلو استعمال کے سلنڈر وں کو ڈمپ کرنے کا سخت نوٹس لے کر ملوثین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔
انہوں نے بتایا کہ آثار شریف درگاہ حضرت بل کو جاذب نظر بنانے کی خاطروہاں سے بستی کو اٹھا کر یہاں انہیں پلاٹ فراہم کئے گئے تھے لیکن مذکورہ شاپنگ کمپلیکس اور ریسٹورینٹ رہائشی لوگوں کے لئے اب وبال جان بن گئے ہیں جنہیں فوری طورپر بندکرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
