ہندوستان
کلام میر کی حقیقی تفہیم کا کام سب سے پہلے شمس الرحمن فاروقی نے انجام دیا:پروفیسر احمد محفوظ
مانو لکھنؤکیمپس میں اترپردیش اردو اکادمی کے تعاون سے توسیعی خطبہ کا انعقاد
لکھنؤکلام میر کی حقیقی تفہیم کا کام سب سے پہلے شمس الرحمن فاروقی نے انجام دی فاروقی سے پہلے تک میر کی باقاعدہ تفہیم و تشریح اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ میر کو عام طورپر سلیس اور سادہ شاعر کہا جاتارہا ان خیالات کا اظہار شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر احمد محفوظ نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ’کلام میر کی تفہیم‘کے موضوع پر توسیعی خطبہ کے دوران کیا پروفیسر احمد محفوظ مزید کہا کہ محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کے خیالات کلام میر کی حقیقی تفہیم کی راہ میں حائل رہے ہیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ میر کی شاعری کو سمجھنے کے لیے کلاسیکی شاعری کے بنیادی تصورات سے واقفیت ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ میر کی شاعری ہماری ادبی روایت کے ایک مرکز کے طور پر ہے۔صناعی اور دیگر فنی کاریگری اور حکمت عملی میر کی شاعری کا اہم پہلوہے۔پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ میرکا ایک خاص وصف ہے کہ ان کے کیفیت اور اثر آفرینی والے اشعارمیں اتنی فن کاری اور کاریگری ہوتی ہے کہ قاری اس کے اثر میں ہی رہ کر سمجھتا ہے کہ بات مکمل ہوگئی ہے۔اس تناظر میں انھوں نے میر کے نہایت مشہور شعر کو بطور مثال پیش کیا۔
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر۔کیا دیوانے نے موت پائی ہے
انھوں نے کہا کہ پہلے مصرعے میں جنوں اور عقل ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور عقل گم ہونا محاورہ ہے جبکہ گم ہونا اور پائی کاتضاد بھی قابل غور ہے۔انھوں نے کہا میر نے قیس کے بجائے مجنوں یعنی صاحب جنوں جوکہ صفاتی نام ہے اس کو جب موت آگئی تو عقل کا کیا کام ہے۔عقل کا حریف ہی نہیں رہا۔ یہاں عقل گم ہونا محاورہ کے بجائے لغوی معنی ہے۔اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو اس شعر میں غور وفکر کو دعوت دیتی ہیں۔
موصوف نے میر کے متعدد اشعار اور خاص طورپر جو بہت مشہور و معروف ہیں ان کی تشریح کرتے ہوئے خاص طورپر فنی حکمت عملی اور شعری کاریگری کو نمایاں کیا۔انھوں نے اس موقع سے قدرت اللہ شوق کے اس جملہ کو خاص طورپر سنایا کہ ’اوپر سے میر سادہ لگتے ہیں لیکن ان کی سادہ گوئی کے اندر پرکاری و تہہ داری ہے۔اس کے لیے دیکھنے والی نظر چاہیے‘۔
مہمان خصو صی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے مسٹرایس ایم عادل حسن نے کہا میر پر یہ ایک نہایت گرانقدر توسیعی خطبہ تھا جسے سن کر ہماری شعرفہمی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ ہمیں میر کو کیسے پڑھنا اور سمجھنا چاہیے یہ بھی معلوم ہوا۔انھوں نے اکیڈمی کی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ میر پر ایک بڑا سمینا ر ہمارے پیش نظر ہے۔ڈاکٹر ہما یعقوب نے کہا کہ توسیعی خطبات ہمارے کیمپس کی ایک اہم ادبی سرگرمی ہے۔میر ہمارے سب سے بڑے شاعر ہیں اس لحاظ سے ان کی شاعری کی تفہیم و تشریح کے لیے اس طرح کے خطبہ کا انعقاد بہت ضروری تھا۔
اس موقع پر کیمپس کے اساتدہ،ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کے علاوہ شہر کی نمائندہ شخصیات میں معاذ اختر، حکیم وسیم احمد اعظمی،پروفیسر ریشما پروین، اویس سنبھلی،ڈاکٹر احتشام خاں،ڈاکٹر ثروت تقی، خالد صبرحدی،راشد خاں،ضیاء اللہ ندوی،ریاض علوی اور احمد جمال وغیرہ موجود تھے۔
اترپردیش اردو اکادمی کے تعاون سے منعقد توسیعی خطبہ میں اکادمی کے سکریٹری ایس ایم عادل حسن بطور مہمان خصو صی شریک ہوئے۔کیمپس کی انچارج ڈاکٹر ہما یعقوب نے خیرمقدم کیا۔ڈاکٹر عمیر منظر نے نظامت کی۔ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے شکریہ اداکیا۔ کیمپس کے ریسرچ اسکالر محمد سعید اختر نے قرآن پاک کی تلاوت کی۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
