تازہ ترین
15 اگست کے موقع پر گورنر این این ووہرا کا خطاب : نوجوانوں کو تشددکا راستہ ترک کرنے کا دیا مشورہ ، ستمبر سے پنچایتی وبلدیاتی انتخابات کرائے جانے کا کیا اعلان
خبر اردو :
پڑوسی ملک ریاست جموں وکشمیر میں 3دہائیوں سے درپردہ جنگ، تشدد اور غیر یقینی صورتحال کو ہوا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں یہاں تعمیر و ترقی کا باب مکمل طور پر بند ہوا۔ ان باتوں کا اظہارریاست کے گورنر این این ووہرا نے گرمائی دارالحکومت کے سرینگر میں شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں 15اگست کی تقریب کے موقعے پر خطاب کے دوران کیا۔ گورنر نے پڑوسی ملک پاکستان میں نومنتخب حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بننے والی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اسے ریاست جموں وکشمیر میں دہشت گردی کے ایجنڈے کو جاری رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔اگر پڑوسی ملک یہ عزم کرے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو لازمی طور پر دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کے حوالے سے ایک نیا باب رقم ہوگا جس کے نتیجے میں دونوں ملک کے عوام ترقی کریں گے۔انہوں نے عسکری صفوں میں شامل ہوئے نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاتشدد سے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے ریاست میں ہونہار اورتعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں تاہم ان میں سے بعض نوجوانوں نے بندوق کو خیر آباد کہتے ہوئے گھر واپسی کی راہ اختیار کی ۔
گورنر نے بتایا کہ ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ضروری ہے جس کے لیے رواں سال کے ستمبر تا دسمبر ان انتخابات کو منعقد کیا جائے گا۔انہوں نے انتظامیہ میں قابلیت اور جوابدہی کے تصور کو پروان چڑھانے کے لیے تمام سیاسی لیڈران سے آگے آنے اور حمایت کرنے کی اپیل کی۔ 15اگست کی تقریب کے موقعے پر ریاستی گورنر این این ووہرا نے شیرکشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں 15اگست کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے یہاں مارچ پاسٹ پر سلامی لینے کے علاوہ جھنڈا لہرایا۔ اس موقعہ پر یہاں سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ ، سیاسی پارٹیوں سے وابستہ لیڈران، پولیس اور سیول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ، پولیس و سی آر پی ایف اہلکار، طلبا، صحافی اور عام لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنر این این نے اس موقعے پر اپنی تقریر میں پڑوسی ملک پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر میں درپردہ جنگ ، تشدد اور غیر یقینی صورتحال پر ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسی ملک کی طرف سے ریاست میں مداخلت کے نتیجے میں یہاں ہر سطح پر ترقی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
گورنر نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں گذشتہ 3 دہائیوں سے جاری پڑوسی ملک پاکستان کے درپردہ جنگ، تشدد اور افراتفری کو ہوا دینے سے ریاست کی ترقی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے پڑوسی ملک پاکستان میں نومنتخب حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں بننے والی نئی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ اسے جموں وکشمیر میں دہشت گردی کا ایجنڈا جاری رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ گورنر نے بتایا کہ ریاست میں جاری تشدد، خون ریزی اور قتل و غارتگری سے انہیں کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں کیوں کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہونے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔اگر پڑوسی ملک یہ عزم کرے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو لازمی طور پر دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا باب رقم ہوجائے گا۔ دونوں ملک کے عوام ترقی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں بار بار کی ہڑتالوں کی وجہ سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہاں اضطرابی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کا نام لیے بغیر کہا کہ حل طلب مسائل کا حل صرف بات چیت اور افہام و تفہیم میں ہی مضمر ہے۔انہوں نے بتایا کہ تشدد، ماردھاڑ اور زورزبردستی کس بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سبھی لوگوں کو مل بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا ہوگا۔
اپنے خطاب کے دوران گورنر نے عسکری صفوں میں شامل ہوئے نوجوانوں کو گھر واپسی کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں فی الوقت جو بھی مسائل درپیش ہیں انہیں باہمی بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی سلجھایا جاسکتا ہے۔ یہ انتہائی بدقسمی کی بات ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے وادی میں کئی ہونہار اورتعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہتھیار اُٹھائے تاہم ان میں سے بعض نوجوانوں نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے بندوق کو خیر آباد کہتے ہوئے گھر واپسی کی راہ اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے نوجوانوں کو واپس لائیں تاکہ وہ بھی اپنے مستقبل کو محفوظ کرتے ہوئے بہتر زندگی گزار سکیں۔انہوں نے بتایا کہ جب سے میں نے گورنر کا چارج سنبھالا تب سے میں متواتر طور پر بات چیت پر زور دیتے آیا ہوں کیوں کہ تشدد اور افراتفری سے کوئی بھی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔گورنر نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں رواں سال کے ستمبر مہینے سے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد ہوگے جس سے ریاست میں زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مستحکم ہونے کا موقعہ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کئی برسوں سے نامساعد حالات کی وجہ سے منعقد نہیں ہوئے تاہم ہمارا یہ عزم ہے کہ رواں برس کے ستمبر مہینے سے ان انتخابات کو منعقد کرایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ زمینی سطح پر جمہوری اداروں کی مضبوطی اور استحکام کے لیے لازمی ہے کہ ریاست میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کو منعقد کیا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں ریاست میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈس کو واگذار کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر یہاں وقت پر پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے ہوتے تو ترقی کو یقینی بنانے کے لیے یہاں وافر مقدار میں فنڈس کو واگزار کیا گیا ہو تا لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔گورنر نے بتایا کہ ہمارا عزم ہے کہ ریاست میں ہر سطح پر تعمیر و ترقی کو پروان چڑھایا جائے جس کے لیے رواں برس کے ستمبر اور اکتوبر میں بلدیاتی انتخابات منعقد کئے جائیں گے جبکہ پنچائتی انتخابات کو اکتوبر تا دسمبر تک مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جونہی یہاں پنچائتی اور بلدیاتی ادارے اپنا کام کاج سنبھالیں گے، اس کے فوراً بعد ریاستی انتظامیہ ان اداروں کو مناسب فنڈس اور تقسیم کار کے لیے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گی تاکہ زمینی سطح پر عام لوگوں کو فائدہ پہنچ جائے۔گورنر این این ووہرا نے انتظامیہ میں قابلیت ، ہنر اور جوابدہی کے تصور کو پروان چڑھانے کی خاطر تمام سیاسی لیڈران سے آگے آکر حمایت کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح ریاست جموں وکشمیر میں ہر سطح پر امن اور ترقی کو بڑھاوا ملے گا اور ریاست مزید چلینجز سے نمٹنے کے لیے کمر بستہ ہوجائے گی۔
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر7 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
