ہندوستان
حکومت روزگار کی صورتحال پر نوجوانوں کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں مینوفیکچرنگ سیکٹر ساٹھ برسوں میں سب سے زیادہ کمزور ہوا ہے اور جن موبائل بنانے کا ہم وعوی کر رہے ہیں، اس کے تمام پرزے جو ہم چین سے آتے ہیں اس لئے ملک کے نوجوانوں کو روزگار کے مسئلے پر حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں مل رہا ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ہماچل پردیش اور مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ میں بڑا فرق ہے۔ ہزاروں نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی ان سیٹوں پر زیادہ دیکھی گئی ہے جہاں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو یہ فہرست کانگریس، این سی پی اور شیو سینا کے حوالے کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ملک میں ترقی کی بات کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں موبائل بن رہے ہیں، ڈرون بن رہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان سب کی ٹیکنالوجی چین کے پاس ہے۔ ہندوستان میں ان کے پرزے اسمبل کرکے موبائل بنائے جارہے ہیں اور اس طرح ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاسکتا۔
آج لوک سبھا میں صدر کے خطبے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ نوجوان کریں گے اور اس لئے سبھی کی توجہ نوجوانوں کے مسائل پر مرکوز ہونی چاہئے۔ ملک تیزی سے ترقی نہیں کر رپا ہا ہے لیکن بے روزگاری سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ کسی بھی حکومت نے ملک کے نوجوانوں کے سوالوں کا سیدھا جواب نہیں دیا۔ حکومت کہتی ہے کہ ترقی ہو رہی ہے لیکن مینوفیکچرنگ گر رہی ہے اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی شرح نمو 60 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور حکومت اسے روکنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا “کسی بھی ملک میں کھپت اور پیداوار کو منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے کھپت کو منظم کرنا ہوگا اور پھر پیداوار کو منظم کیا جاسکتا ہے اور نئے ماحول میں نئی تکنیکی خدمات کے ذریعے کھپت کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ مینوفیکچرنگ پیداوار کو منظم کرنے کا جدید طریقہ ہے، لیکن پیداوار میں صرف مینوفیکچرنگ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ ہم نے پیداوار کا سیکٹر چینیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے ہم دعویٰ کر رہے ہوں کہ ہم موبائل فون بنا رہے ہیں لیکن یہ سچائی نہیں ہے۔ ہم فون تیار نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں ہندوستان میں اسمبل کر رہے ہیں۔ فون کے تمام پرزے چین میں بنائے گئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا “وزیراعظم نے ‘میک ان انڈیا’ پروگرام کی تجویز پیش کی، میرے خیال میں یہ ایک اچھا خیال تھا لیکن اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ مینوفیکچرنگ 2014 میں جی ڈی پی کے 15.3 فیصد سے گر کر آج جی ڈی پی کے 12.6 فیصد پر آ گئی ہے اور یہ گزشتہ 60 برسوں میں سب سے کم سطح پر ہے۔ اس میں وزیراعظم کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہوں نے کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اے آئی بیکار ہے کیونکہ یہ ڈیٹا پر کام کرتا ہے اور چین کے پاس ڈیٹا کے ہر ٹکڑے کا مالک ہے جو پیداواری نظام سے نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری ہے اور سوال یہ ہے کہ ملک میں روزگار کہاں سے آئے گا اور نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا۔ دنیا بدل رہی ہے اور پوری دنیا پیٹرول سے بیٹریوں، ونڈ انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ ترقی کا انقلاب ہے، وقت یوں بدلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو چار ٹیکنالوجیز نقل و حرکت کو تبدیل کرنے جا رہی ہیں ان میں الیکٹرک موٹرز، بیٹریاں، آپٹکس اور اے آئی کا استعمال شامل ہے اور ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم ان میں کہاں کھڑے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا “ہمیں پیداوار پر توجہ دینی ہوگی۔ چین پچھلے دس برسوں سے بیٹریوں، ڈرونز وغیرہ کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن ہم اس سے پیچھے ہیں۔ ہمارے بینکنگ سسٹم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ چین ہم سے آگے نکل جائے۔ ہمیں اپنی نوجوان قوت کو بااختیار بنانا ہے۔ چین کا صنعتی نظام ہے اور میک ان انڈیا اس سمت میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ نوجوانوں کو روبوٹ اور بیٹریاں وغیرہ بنانے جیسے کاموں میں مصروف ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو معیشت، ہتھیاروں، ہیلتھ اے آئی اور ڈیٹا ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ لوگوں کو ترقی کے انقلاب میں شامل کرنا ہوگا، بیٹری، سولر انجن وغیرہ میں ان کی شراکت کو یقینی بنا کر ملک میں ترقی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے چین کی سرحد کے حوالے سے بھی حکومت پر حملہ کرت ہوئے کہا کہ سرحد کے حوالے سے فوج اور وزیر اعظم نریندر مودی کی معلومات میں فرق ہے۔ وزیر اعظم جس کی بھی تردید کرتے ہیں، فوج ایک طرح سے اس کی تردید کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قبائلی، غیر دلت، غیر پسماندہ طبقے کے لوگ ملک کی ترقی میں ساجھیدار نہیں بن رہے ہیں۔ بی جے پی میں دلت، او بی سی اور قبائلی ممبران پارلیمنٹ ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ اس طبقے کی آبادی بہت زیادہ ہے لیکن ان کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔
مسٹر گاندھی نے ووٹر لسٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اور ہماچل میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ووٹروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جو حیران کن ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ہماچل میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ہماچل میں 70 لاکھ ووٹروں میں اضافہ ہوا ہے۔
مہاراشٹر میں، پانچ مہینوں میں لوک سبھا انتخابات کے بعد ووٹر لسٹ میں پانچ سال پہلے سے زیادہ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک عمارت میں سات ہزار نئے ووٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں کچھ غلطیاں ہیں۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے بارہا کہا ہے کہ وہ ہمیں لوک سبھا اور اسمبلی کے ووٹروں کی فہرست فراہم کرے۔
الیکشن کمیشن وزیراعظم نے تشکیل دی ہے ۔ لیکن اس کمیٹی میں چیف جسٹس بھی ہیں لیکن انہیں کیوں ہٹایا گیا؟ یہ سب کچھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہوا ہے۔ الیکشن کی تاریخیں بدلی جاتی ہیں اور الیکشن ملتوی بھی ہوتے ہیں۔ پوری اپوزیشن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن مہاراشٹر کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے ووٹروں کی فہرست اور ان کے پتے کانگریس، شیوسینا اور این سی پی کو دے ۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہماری توجہ اس طرف ہونی چاہیے۔ ملک کے اداروں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان کی خود مختاری کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا “ہندوستان کے پاس نہ تو پیداوار کا ڈیٹا ہے اور نہ ہی کھپت کا ڈیٹا۔ چین ہندوستان سے 10 سال آگے ہے۔ وہ ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔ ہم بطور ملک پیداوار کو منظم کرنے میں ناکام رہے اور ہم نے اسے چینیوں کے حوالے کر دیا۔ ہم چینی فون استعمال کرتے ہیں، بنگلہ دیشی شرٹ پہنتے ہیں اور سارا پیسہ چین جاتا ہے۔ اس لیے میں نے صدر کی تقریر میں محسوس کیا کہ ہندوستان کو کھپت پر توجہ دینی چاہیے۔ ہندوستان کو پیداوار پر پوری توجہ مرکوز کرنے اور ترقی میں ہر ایک کو حصہ دار بنانے کی ضرورت ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
