ہندوستان
حکومت روزگار کی صورتحال پر نوجوانوں کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے: راہل
نئی دہلی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں مینوفیکچرنگ سیکٹر ساٹھ برسوں میں سب سے زیادہ کمزور ہوا ہے اور جن موبائل بنانے کا ہم وعوی کر رہے ہیں، اس کے تمام پرزے جو ہم چین سے آتے ہیں اس لئے ملک کے نوجوانوں کو روزگار کے مسئلے پر حکومت کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں مل رہا ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ہماچل پردیش اور مہاراشٹر کی ووٹر لسٹ میں بڑا فرق ہے۔ ہزاروں نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی ان سیٹوں پر زیادہ دیکھی گئی ہے جہاں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کو یہ فہرست کانگریس، این سی پی اور شیو سینا کے حوالے کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ملک میں ترقی کی بات کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں موبائل بن رہے ہیں، ڈرون بن رہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ان سب کی ٹیکنالوجی چین کے پاس ہے۔ ہندوستان میں ان کے پرزے اسمبل کرکے موبائل بنائے جارہے ہیں اور اس طرح ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے سوال کا واضح جواب نہیں دیا جاسکتا۔
آج لوک سبھا میں صدر کے خطبے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ نوجوان کریں گے اور اس لئے سبھی کی توجہ نوجوانوں کے مسائل پر مرکوز ہونی چاہئے۔ ملک تیزی سے ترقی نہیں کر رپا ہا ہے لیکن بے روزگاری سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ کسی بھی حکومت نے ملک کے نوجوانوں کے سوالوں کا سیدھا جواب نہیں دیا۔ حکومت کہتی ہے کہ ترقی ہو رہی ہے لیکن مینوفیکچرنگ گر رہی ہے اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی شرح نمو 60 سال کی کم ترین سطح پر ہے اور حکومت اسے روکنے میں ناکام ہو رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا “کسی بھی ملک میں کھپت اور پیداوار کو منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے کھپت کو منظم کرنا ہوگا اور پھر پیداوار کو منظم کیا جاسکتا ہے اور نئے ماحول میں نئی تکنیکی خدمات کے ذریعے کھپت کو منظم کیا جاسکتا ہے۔ مینوفیکچرنگ پیداوار کو منظم کرنے کا جدید طریقہ ہے، لیکن پیداوار میں صرف مینوفیکچرنگ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ ہم نے پیداوار کا سیکٹر چینیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے ہم دعویٰ کر رہے ہوں کہ ہم موبائل فون بنا رہے ہیں لیکن یہ سچائی نہیں ہے۔ ہم فون تیار نہیں کر رہے ہیں بلکہ انہیں ہندوستان میں اسمبل کر رہے ہیں۔ فون کے تمام پرزے چین میں بنائے گئے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا “وزیراعظم نے ‘میک ان انڈیا’ پروگرام کی تجویز پیش کی، میرے خیال میں یہ ایک اچھا خیال تھا لیکن اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔ مینوفیکچرنگ 2014 میں جی ڈی پی کے 15.3 فیصد سے گر کر آج جی ڈی پی کے 12.6 فیصد پر آ گئی ہے اور یہ گزشتہ 60 برسوں میں سب سے کم سطح پر ہے۔ اس میں وزیراعظم کا کوئی قصور نہیں کیونکہ انہوں نے کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اے آئی بیکار ہے کیونکہ یہ ڈیٹا پر کام کرتا ہے اور چین کے پاس ڈیٹا کے ہر ٹکڑے کا مالک ہے جو پیداواری نظام سے نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری ہے اور سوال یہ ہے کہ ملک میں روزگار کہاں سے آئے گا اور نوجوانوں کو روزگار کیسے ملے گا۔ دنیا بدل رہی ہے اور پوری دنیا پیٹرول سے بیٹریوں، ونڈ انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ ترقی کا انقلاب ہے، وقت یوں بدلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو چار ٹیکنالوجیز نقل و حرکت کو تبدیل کرنے جا رہی ہیں ان میں الیکٹرک موٹرز، بیٹریاں، آپٹکس اور اے آئی کا استعمال شامل ہے اور ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم ان میں کہاں کھڑے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا “ہمیں پیداوار پر توجہ دینی ہوگی۔ چین پچھلے دس برسوں سے بیٹریوں، ڈرونز وغیرہ کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن ہم اس سے پیچھے ہیں۔ ہمارے بینکنگ سسٹم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ چین ہم سے آگے نکل جائے۔ ہمیں اپنی نوجوان قوت کو بااختیار بنانا ہے۔ چین کا صنعتی نظام ہے اور میک ان انڈیا اس سمت میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ نوجوانوں کو روبوٹ اور بیٹریاں وغیرہ بنانے جیسے کاموں میں مصروف ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو معیشت، ہتھیاروں، ہیلتھ اے آئی اور ڈیٹا ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ لوگوں کو ترقی کے انقلاب میں شامل کرنا ہوگا، بیٹری، سولر انجن وغیرہ میں ان کی شراکت کو یقینی بنا کر ملک میں ترقی کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے چین کی سرحد کے حوالے سے بھی حکومت پر حملہ کرت ہوئے کہا کہ سرحد کے حوالے سے فوج اور وزیر اعظم نریندر مودی کی معلومات میں فرق ہے۔ وزیر اعظم جس کی بھی تردید کرتے ہیں، فوج ایک طرح سے اس کی تردید کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غیر قبائلی، غیر دلت، غیر پسماندہ طبقے کے لوگ ملک کی ترقی میں ساجھیدار نہیں بن رہے ہیں۔ بی جے پی میں دلت، او بی سی اور قبائلی ممبران پارلیمنٹ ہیں اور سبھی جانتے ہیں کہ اس طبقے کی آبادی بہت زیادہ ہے لیکن ان کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔
مسٹر گاندھی نے ووٹر لسٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر اور ہماچل میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ووٹروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جو حیران کن ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان نئے ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان ہماچل میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ہماچل میں 70 لاکھ ووٹروں میں اضافہ ہوا ہے۔
مہاراشٹر میں، پانچ مہینوں میں لوک سبھا انتخابات کے بعد ووٹر لسٹ میں پانچ سال پہلے سے زیادہ ووٹروں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک عمارت میں سات ہزار نئے ووٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں کچھ غلطیاں ہیں۔ ہم نے الیکشن کمیشن سے بارہا کہا ہے کہ وہ ہمیں لوک سبھا اور اسمبلی کے ووٹروں کی فہرست فراہم کرے۔
الیکشن کمیشن وزیراعظم نے تشکیل دی ہے ۔ لیکن اس کمیٹی میں چیف جسٹس بھی ہیں لیکن انہیں کیوں ہٹایا گیا؟ یہ سب کچھ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہوا ہے۔ الیکشن کی تاریخیں بدلی جاتی ہیں اور الیکشن ملتوی بھی ہوتے ہیں۔ پوری اپوزیشن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن مہاراشٹر کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے ووٹروں کی فہرست اور ان کے پتے کانگریس، شیوسینا اور این سی پی کو دے ۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہماری توجہ اس طرف ہونی چاہیے۔ ملک کے اداروں پر حملے ہو رہے ہیں اور ان کی خود مختاری کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا “ہندوستان کے پاس نہ تو پیداوار کا ڈیٹا ہے اور نہ ہی کھپت کا ڈیٹا۔ چین ہندوستان سے 10 سال آگے ہے۔ وہ ٹیکنالوجی میں آگے ہے۔ ہم بطور ملک پیداوار کو منظم کرنے میں ناکام رہے اور ہم نے اسے چینیوں کے حوالے کر دیا۔ ہم چینی فون استعمال کرتے ہیں، بنگلہ دیشی شرٹ پہنتے ہیں اور سارا پیسہ چین جاتا ہے۔ اس لیے میں نے صدر کی تقریر میں محسوس کیا کہ ہندوستان کو کھپت پر توجہ دینی چاہیے۔ ہندوستان کو پیداوار پر پوری توجہ مرکوز کرنے اور ترقی میں ہر ایک کو حصہ دار بنانے کی ضرورت ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
