جموں و کشمیر
احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک ’’مجبوری‘‘ تھا اور حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’ہم نے کب کہا تھا کہ بجلی کے نرخ نہیں بڑھیں گے؟ ہم نے کہا تھا کہ سب سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو 200 یونٹ بجلی دیں گے۔ ہم انہیں 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت مفت بجلی کی اپنی یقین دہانی پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی سے اس اسکیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’بجلی کی قیمت اور اس اسکیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ضرورت مند لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘
اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے موجودہ نرخوں میں اضافے پر تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ سابقہ حکومتوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان کے دور حکومت میں بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت انہیں یہ ناانصافی نہیں لگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چار سال قبل بھی بجلی کے نرخوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ خاموش رہے تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں پنڈت ملازمین نے تازہ ’دھمکی آمیز پوسٹر‘ سامنے آنے کے بعد سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا
سری نگر، آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سکیورٹی کے انتظامات فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ایک نیا مبینہ دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آیا ہے۔
فورم نے پیر کو جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کو پیش کی گئی ایک درخواست میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت خدمات انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
فورم نے کہا کہ 23 اگست کو یونائیٹڈ لبریشن کونسل (یو ایل سی) نامی تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیا گیا ایک دھمکی آمیز پوسٹر سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں پی ایم پیکیج ملازمین کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
درخواست کے مطابق پوسٹر میں بعض افراد کے نام، رہائشی پتے اور گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں سمیت حساس ذاتی معلومات بھی درج تھیں۔
فورم نے کہاکہ ’’پوسٹر کی صداقت کی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم، اس طرح کے دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر، خاص طور پر ان میں حساس ذاتی معلومات شامل ہونا، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔‘‘
ملازمین کی تنظیم نے کہا کہ اس معاملے سے متعلقہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ اس کی تصدیق اور ضروری کارروائی کی جاسکے۔
وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کے سابقہ ہدف بنا کر کیے گئے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر نے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف اور عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کردیا ہے۔
فورم نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پوری کشمیر وادی میں تعینات پی ایم پیکیج ملازمین کو مناسب اور اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے اور تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کی فوری اور مکمل جانچ کی جائے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
2 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری فراڈ کا معاملہ: ای او ڈبلیو کشمیر نے بنگلورو سے ملزم کو گرفتار کرلیا
سری نگر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کی اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے تقریباً 2 کروڑ روپے کے مبینہ سرمایہ کاری فراڈ کے معاملے میں بنگلورو سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اس معاملے میں کئی لوگوں کو مبینہ طور پر ماہانہ 10 فیصد منافع دینے کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا گیا تھا۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کی شناخت بڈگام کے چرار شریف کی عالم دار کالونی کے رہنے والے جنید الاسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ اسے بنگلورو کے منگمن مَناپالیہ علاقے سے گرفتار کیا گیا۔
یہ گرفتاری سری نگر کی چوتھی ایڈیشنل منصف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ کی تعمیل میں کی گئی۔
جنید کو 2025 میں پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو کشمیر میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں مطلوب تھا۔ اس کے خلاف دفعہ 420 آر پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ تقریباً ایک سال سے گرفتاری سے بچ رہا تھا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ملزم کے خلاف دھوکہ دہی اور مالی فراڈ کے بادی النظر شواہد سامنے آئے ہیں۔
ملزم نے مبینہ طور پر متعدد افراد سے تقریباً 2 کروڑ روپے وصول کیے۔ اس نے خود کو ایک ای کامرس کمپنی سے وابستہ سرمایہ کار ظاہر کیا اور سرمایہ کاری پر ماہانہ 10 فیصد منافع دینے کا وعدہ کیا تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق رقم متعدد بینک کھاتوں کے ذریعے منتقل کی گئی۔ تاہم رقم وصول کرنے کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر وعدہ کیا گیا منافع ادا نہیں کیا اور بعد میں سرمایہ کاروں سے رابطہ بھی ختم کردیا۔
حکام کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے غیر معمولی طور پر زیادہ منافع دینے کا وعدہ کرکے مبینہ طور پر بڑی رقم بے ایمانی سے حاصل کی، جو آئی پی سی کی دفعہ 420 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔
اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتوں نے پیر کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اس اضافے کو ’’عوام مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے نظرثانی شدہ نرخ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف پارٹی ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
پی ڈی پی رہنما آسیہ نقاش نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ عوامی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہاں پی ڈی پی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ یہ عوامی مسئلہ ہے۔ یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور غربت کے باعث لوگ پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور سوال کیا کہ صارفین کو راحت فراہم کیے جانے کی توقع کے باوجود بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگ 200 یونٹ مفت بجلی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے باوجود آپ نرخوں میں 6.8 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
نقاش نے کہا کہ گھرانے پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگ بے روزگاری، غربت اور بجلی کے بلوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت یہ سب جانتی ہے۔ اس کے باوجود آپ عوام، ہمارے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں پر اتنا بوجھ ڈال رہے ہیں۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ظا
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا6 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
ہندوستان6 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
