دنیا
ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
نئی دہلی، ایران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اجازت عراقی حکومت کی اپیلوں کے بعد دی گئی اور یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورہ عراق کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 103 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 89 جہاز باہر نکلے۔تاہم اس کے باوجود بحری آمدورفت جنگ سے قبل سات روزہ اوسط کا صرف تقریباً 20 فیصد رہی۔
اس عرصے میں زیادہ تر جہاز پاناما اور لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے، جبکہ کسی امریکی پرچم والے جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آمدورفت میں سب سے بڑا حصہ پروڈکٹ ٹینکروں کا تھا، جو عموماً ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کرتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز کے راستے 15 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 5 ملین بیرل تیل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “اس میں کوئی شک نہیں، امریکی بحریہ کی بدولت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
جمعہ کی شب ہونے والی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے موزوں حالات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں: قالیباف
تہران، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔”
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:”امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔”
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ “حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف “کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی” شروع کر دی ہے اور اسے “اقتصادی ڈی ڈے” اور “بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح “ناکام” ثابت ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عراقی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی: صدر نجار عمیدی
بغداد، عراقی صدر نجار عمیدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے عراقی سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے اندر سے خطے کے کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مسٹر عمیدی نے بغداد ڈائیلاگ کانفرنس کے آٹھویں ایڈیشن کے دوسرے دن کہا کہ عراق میں صرف “دو یا تین” مسلح گروہ ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ ہتھیار ریاستی کنٹرول میں ہونے چاہئیں، اور نجف میں مذہبی اتھارٹی بھی اسی کا مطالبہ کرتی ہے۔”
مسٹر عمیدی نے کہا کہ تمام فریق عراق کو خطے میں جاری جنگ میں گھسیٹنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعہ کے اثرات “ہمارے ملک کے لیے بہت سخت” رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف عراق بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغداد آبنائے کے پیچیدہ مسائل پر ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
مسٹر عمیدی نے کہا کہ عراقی تیل لے جانے والے کئی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ چاہتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ-کینیڈا تجارتی جنگ پھر بھڑک اٹھی، مذاکرات ناکام، اوٹاوا کا ڈالر کے بدلے ڈالر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
واشنگٹن/اوٹاوا، آخری وقت میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ واشنگٹن نے تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے جواب میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کارنی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے آخری وقت میں مجوزہ شرائط میں تبدیلیاں ’’غیر منصفانہ‘‘ اور ’’معاشی طور پر ناقابل عمل‘‘ قرار پانے کے بعد کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
کارنی نے ایک بیان میں کہا، ’’آج نصف شب امریکہ تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کینیڈا اپنے کارکنوں اور کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے ان ٹیرف کا ڈالر کے بدلے ڈالر جواب دے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ امریکی تجویز میں آخری لمحات میں کی جانے والی تبدیلیوں نے ’’کسی بھی معاہدے کی قابلِ اعتماد ہونے پر سوال‘‘ کھڑا کر دیا، جس کے بعد انہوں نے کینیڈین مذاکرات کاروں کو اوٹاوا واپس آنے کی ہدایت کی۔
کارنی نے کہا، ’’چنانچہ آج شام میں نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
مذاکرات کے خاتمے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، کارنی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ تجارتی حکام کے درمیان پورے ہفتے شدید رابطے اور مذاکرات جاری رہے تھے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ٹیرف کے نفاذ میں تین روز کی تاخیر کی تھی، جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا، ’’ہم کینیڈا کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں‘‘، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ حتمی دستاویزات مکمل ہونا باقی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے تاہم کہا کہ کینیڈا نے رواں ہفتے کے دوران طے پانے والی شرائط کو حتمی شکل دینے سے انکار کردیا۔
گریئر نے کہا، ’’آج رات کینیڈا نے اس ہفتے کے آغاز میں طے شدہ شرائط کے تحت تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کردیا۔‘‘ انہوں نے اوٹاوا پر نئی شرائط عائد کرنے اور سابقہ وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔
ان کے مطابق امریکی پیشکش میں اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور لکڑی پر ’’نمایاں ٹیرف میں کمی‘‘ کے ساتھ ایک ’’تاریخی اقتصادی اور قومی سلامتی شراکت داری‘‘ بھی شامل تھی۔تاہم کارنی نے کہا کہ امریکی شرائط میں آخری وقت پر کی گئی تبدیلیوں نے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچایا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر سے کام‘ کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا: ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoمحبوبہ نے بی جی ایس بی یو کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کے متاثر ہونے سے پہلے حکومت سے کارروائی کی اپیل کی
-
دنیا1 week agoغزہ سٹی کے پولیس سربراہ اسرائیلی حملوں میں ہلاک، اسرائیل کی مہلک کارروائیاں جاری
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں میں عظیم الشان ترنگا ریلی نکالی گئی
-
ہندوستان1 week agoعالمی عدم استحکام کے باوجود سب سے تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے ہندستانی معیشت: مرمو
-
دنیا1 week agoنیپال کے رولپا میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی، 3 افراد تاحال لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
جموں و کشمیر1 week agoخصوصی جج انسدادِ بدعنوانی، سری نگر نے رشوت کے معاملے میں سابق ایگزیکٹو انجینئر سمیت 2 افراد کو قصوروار قرار دے دیا
-
ہندوستان5 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoمیر واعظ کا الزام: ایک بار پھر نظر بند کیا گیا، ’معمول کی صورتِ حال‘ کے دعووں پر سوال اٹھائے
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا طیارہ بردار بحری جہازوں میں برقی کیٹپلٹ ختم کرکے بھاپ سے چلنے والا نظام بحال کرنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoراج ناتھ نے دولت مشترکہ کھیلوں میں تمغے جیتنے والے جوانوں کے ساتھ بات چیت کی
