دنیا
یمن میں حوثیوں کی تزویراتی پہاڑی چوٹیوں پر قبضے کی لڑائی، ہزاروں مزید افراد بے گھر
صنعاء، یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور حوثی باغی بحیرہ احمر کے قریب تزویراتی اہمیت کی حامل پہاڑیوں پر کنٹرول کے لیے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے نبرد آزما ہیں۔ ایران کے حامی اس گروپ کے رہنما نے امریکہ کو تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔
پیر کو ہونے والی جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ جھڑپیں ’نیویارک ٹائمز‘ کی اس رپورٹ کے بعد بھی سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دیا تھا، لیکن آخری وقت میں یہ حملے منسوخ کردیے۔
حکام کے مطابق حالیہ لڑائی میں کم از کم 674 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 58 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کے عینی شاہدین کے مطابق حوثیوں نے اس ماہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول موخا بندرگاہ، پر قبضہ کرنے کے بعد اب صوبہ تعز اور لحج میں کہبوب پہاڑیوں پر قبضے کے لیے لڑائی شروع کر دی ہے۔ ان تزویراتی بلندیوں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں واقع میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور ان پر کنٹرول حوثیوں کو ساحلی علاقے کو حکومت کے زیر کنٹرول جنوبی علاقوں سے کاٹنے کا موقع دے سکتا ہے۔
الجزیرہ کی تعز سے رپورٹنگ کرنے والی ماہ علی نے کہا، ’’حوثیوں کے موخا میں داخل ہونے، بندرگاہ پر قبضہ کرنے اور بعد میں میون جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی یا ایسی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے ان کا عقبی علاقہ محفوظ ہو سکے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کہبوب اب مرکزی میدانِ جنگ ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی یہی صورت حال برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ تزویراتی طور پر اہم ہے اور یہاں سے میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘‘
یہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ پر حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔ حوثیوں نے ہفتے کو سعودی دارالحکومت ریاض پر حملے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جو حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد پہلی بار تھا۔تاہم، اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے اب تک سعودی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔
’نیویارک ٹائمز‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ریاض کی جانب سے نئی درخواستوں کے بعد اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے کی تیاری کر لی تھی، لیکن اس نے آخری وقت میں حملے منسوخ کر دیے، حتیٰ کہ فوجی اہلکار طیاروں پر بم لاد رہے تھے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے بھی ایک خطاب میں کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان کی فورسز کے خلاف کارروائی میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔
حوثی رہنما نے کہا، ’’علاقائی حالات نے امریکہ اور اسرائیل کو کسی حد تک مصروف کر رکھا ہے، جس سے سعودی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو یمنی عوام کے خلاف اپنی جارحیت اور ناکہ بندی میں ان کی شرکت چاہتی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے امریکہ کو کشیدگی بڑھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو شخص ظالم کی حمایت کرتا ہے، وہ اخلاقی، قانونی اور انسانی طور پر تمام نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے پاکستان اور ترکی سے بھی، جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے، تنازع میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے توانائی شعبے کی تعمیر نو کے لیے 5 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز دی: ڈبلیو ایس جے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ایک نئے فنڈ میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے۔ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ (ڈبلیو ایس جے) نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
ڈبلیو ایس جے کے مطابق، امریکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان، عراق اور اردن سے بھی اس فنڈ میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ فنڈ مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرے گا۔
اخبار نے مزید بتایا کہ فنڈ کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس کی شرائط میں تبدیلی ممکن ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی حملے کیے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے جنگ بندی سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔
تنازع اب بھی حل طلب ہے اور وقفے وقفے سے دوبارہ جھڑپیں جاری ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے اور تہران پر اضافی مالی مشکلات عائد کرکے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بڑے میڈیا اداروں کے بائیکاٹ کے درمیان وائٹ ہاؤس ٹرمپ ٹی وی شروع کرے گا
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے کئی بڑے میڈیا اداروں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سرگرمیوں کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے سرکاری یوٹیوب چینل پر ’’ٹرمپ ٹی وی: دی ایسینشلز اسٹیشن‘‘ کے نام سے ایک لائیو اسٹریم کا اعلان کیا گیا، جو 23:00 جی ایم ٹی پر شروع ہوا۔
ویڈیو کی تفصیل میں کہا گیا ہے، ’’ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین لمحات سب ایک ہی جگہ دیکھیں۔ اہم ویڈیوز، بڑی تقریریں اور قابلِ ذکر جھلکیاں 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن نشر کی جائیں گی اور انہیں حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ باخبر رہیں اور تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہیں۔‘‘
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’سی این این‘، ’ایم ایس ناؤ‘ اور ’پولیٹیکو‘ کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس سے پابندی عائد کر رہے ہیں اور ان تینوں اداروں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا تھا۔ ان تینوں میڈیا اداروں نے پیر کو کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے صحافیوں کی منظوری ختم کرنے کے اقدام پر امریکی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں کئی نشریاتی اداروں نے انتظامیہ پر امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے، اور ٹرمپ کی سرگرمیوں کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
’فاکس نیوز‘، ’اے بی سی‘، ’سی بی ایس‘، ’این بی سی‘، ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ بائیکاٹ میں شامل ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
افغانستان نے پاکستانی ناظم الامور کو طلب کرکے اپنی سرزمین پر حملے کے خلاف احتجاج کیا
ماسکو، افغانستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کرکے صوبہ پکتیکا اور کنڑ میں پاکستانی فضائی حملوں کے خلاف احتجاجی مراسلہ حوالے کیا۔
وزارت نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا، ’’یہ حملے افغانستان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں اور ملک ایسے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔‘‘
پاکستانی سفارت کار کے ساتھ ملاقات کے دوران افغان وزارت خارجہ کے ایک نمائندے نے پاکستان میں حالیہ سکیورٹی واقعات کے افغانستان کی سرزمین سے شروع کیے جانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔
وزارت نے مزید کہا کہ ’’اس طرح کے بیانات فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں اور حقائق کو مسخ کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔‘‘
افغان وزارت خارجہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ذمہ داری دوسرے ممالک پر عائد کرنے اور بیرون ملک دشمن تلاش کرنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل اور عدم استحکام کی وجوہات سے نمٹنے پر توجہ مرکوز کرے۔
اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے تصدیق کی ہے کہ پیر کو صوبہ کنڑ میں ہونے والے فضائی حملوں میں کم از کم تین شہری — ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی — ہلاک ہوئے۔ مزید چار شہری زخمی ہوئے۔
یو این اے ایم اے کے نمائندوں نے مزید بتایا کہ 2026 کے آغاز سے اب تک افغانستان میں سرحد پار مسلح حملوں کے نتیجے میں 1,100 سے زائد شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا7 days agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
