جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی نے کوآپریٹو سوسائٹیز ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے منگل کو ایوان کے ارکان کی جانب سے تفصیلی بحث اور غور و خوض کے بعد جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) بل، 2026 (ایل اے بل نمبر 9، 2026) منظور کرلیا۔
یہ بل محکمہ کوآپریٹو کے وزیر جاوید احمد ڈار نے پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ، 1989 میں ترمیم، جموں و کشمیر سیلف ریلائنٹ کوآپریٹو ایکٹ، 1999 کو منسوخ کرنے اور بنیادی ایکٹ کے تحت خود کفیل کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے عبوری نظام فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایوان میں بل پر تفصیلی بحث ہوئی، جس کے دوران کئی ارکان اسمبلی نے مجوزہ قانون کی مختلف دفعات پر اپنی رائے، تجاویز اور مشاہدات پیش کیے۔
بحث میں حصہ لینے والے ارکان میں نظام الدین بھٹ، پون گپتا، بلونت سنگھ منکوٹیا، ارجن سنگھ راجو اور راجیو جسروٹیا شامل تھے۔
بحث کے دوران اٹھائے گئے مسائل اور تجاویز کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے ایوان کو مجوزہ ترامیم کے مقاصد اور ان کی ضرورت سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت ایک مضبوط، شفاف اور مؤثر قانونی نظام کے ذریعے کوآپریٹو شعبے کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’یہ بل جموں و کشمیر میں کوآپریٹو قانون کے نظام کو منظم کرنے اور کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس سے ان کے ارکان کو زیادہ مؤثر خدمات فراہم کرنے اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔‘‘
وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانونی نظام کا مقصد کوآپریٹو شعبے میں زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنا اور سیلف ریلائنٹ کوآپریٹو سوسائٹیوں کو جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ، 1989 کے دائرے میں لانے کے عمل کو ہموار بنانا ہے۔
ارکان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غور اور بحث کے بعد جموں و کشمیر کوآپریٹو سوسائٹیز (ترمیمی) بل، 2026 کو قانون ساز اسمبلی نے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کرلیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: حکومت نے اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے استثنیٰ دینے کی قرارداد پیش کردی
سری نگر، جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم اسکول سکینہ ایتو نے منگل کو جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی، جس میں تعلیم کا حق (آر ٹی ای) ایکٹ میں ترمیم کرکے 31 اکتوبر 2019 سے قبل مقرر کیے گئے اساتذہ کو ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) میں شرکت سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایوان میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ ایوان متفقہ طور پر مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کے حق (آر ٹی ای) ایکٹ 2009 کی دفعہ 23 میں ضروری قانونی ترمیم کرے، تاکہ 31 اکتوبر 2019 سے قبل مقرر کیے گئے تمام اساتذہ کو ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) میں شرکت سے مستثنیٰ قرار دیا جاسکے۔‘‘
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ ایوان مرکزی حکومت سے یہ بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) سے استثنیٰ کے لیے تمام ضروری قانونی اقدامات کرے اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) کے ذریعے مطلوبہ نوٹیفکیشن جاری کرے۔‘‘
ارکان اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیا، رنبیر سنگھ پٹھانیا، وحید پرہ اور خورشید احمد شیخ نے بحث میں حصہ لیا اور قرارداد کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔
قرارداد پر بحث اسمبلی کے اگلے کام کے دن بھی جاری رہے گی۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
یش پال برنی نے جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا
سری نگر، سینئر جوڈیشل افسر یش پال برنی نے منگل کو جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی پُروقار تقریب ہائی کورٹ کے سری نگر ونگ میں چیف جسٹس کی عدالت میں منعقد ہوئی۔
حکام کے مطابق جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈاکٹر جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے جسٹس یش پال برنی کو عہدے کا حلف دلایا۔
جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل ایم کے شرما نے تقرری کا وارنٹ پڑھ کر سنایا اور تقریب کی کارروائی بھی انجام دی۔
تقریب میں جسٹس راج نیش اوسوال، جسٹس محمد اکرم چودھری، جسٹس وسیم صادق نرگل، جسٹس راجیش سیخری، جسٹس محمد یوسف وانی اور جسٹس سنجے پریہار موجود تھے۔ جسٹس سنجیو کمار، جسٹس سندھو شرما، جسٹس سنجے دھر، جسٹس راہل بھارتی، جسٹس موکشا کھجوریہ کاظمی اور جسٹس شہزاد عظیم نے ہائی کورٹ کے جموں ونگ سے آن لائن شرکت کی۔
جسٹس یش پال برنی کے اہل خانہ، قریبی رشتہ دار اور دوست بھی اس موقع پر موجود تھے، جس سے تقریب کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
حکومت ہند کی وزارت قانون و انصاف نے 19 ستمبر 2026 کو جسٹس یش پال برنی کو جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
جسٹس یش پال برنی 25 اگست 1967 کو پیدا ہوئے اور ان کا تعلق ضلع کٹھوعہ کے بلاور علاقے کے گاؤں ددوارہ سے ہے۔
اپنے ممتاز عدالتی کیریئر کے دوران انہوں نے کئی اہم عدالتی اور انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ لیہ، بارہمولہ، ادھم پور اور جموں میں پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کے عہدے پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سری نگر اور جموں میں انسداد بدعنوانی کے خصوصی جج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
جسٹس برنی نے اہم ادارہ جاتی عہدوں پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں، جن میں جموں و کشمیر لیگل سروسز اتھارٹی کے ممبر سکریٹری، جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے رجسٹرار ویجیلنس اور جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے عہدے شامل ہیں۔
جموں میں پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد جسٹس برنی کو ڈیپوٹیشن پر جموں و کشمیر اسپیشل ٹریبونل، جموں کا رکن مقرر کیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ترقی سے قبل وہ اسی عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
اے آئی کے دور میں طلبہ زندگی بھر سیکھنے، تخلیقی صلاحیت اور اقدار کو اپنائیں: جموں و کشمیر ایل جی
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کے حوالے سے ماہرین کی جانب سے ظاہر کی جانے والی عالمی تشویش کا ذکر کیا ہے۔
جموں یونیورسٹی میں منگل کو نئی سہولیات کے ایک سلسلے کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اے آئی ایک ’’چار رخی استعمال‘‘ والی ٹیکنالوجی کے طور پر آزادانہ طور پر کام کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں فائدہ مند اور نقصان دہ دونوں طرح کے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کی خدمت گار ہی رہنا چاہیے۔ انسانی وقار، روزگار، صحت اور آزادی سے متعلق فیصلے ہمیشہ جواب دہ انسانوں کے ذریعے کیے جانے چاہئیں، مشینوں کے ذریعے نہیں۔
افتتاح کی جانے والی سہولیات میں جدید اسپورٹس کمپلیکس، شوٹنگ رینج، کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے ہائی ماسٹ لائٹس اور تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تاوی گیسٹ ہاؤس کمپلیکس شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ سہولیات یونیورسٹی کے کھلاڑیوں، اسکالرز اور آنے والے مہمانوں کو بااختیار بنائیں گی اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں یونیورسٹی کے مرکزِ امتیاز کی حیثیت کو مزید مستحکم کریں گی۔
وائس چانسلر اور دیگر متعلقہ افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ اہم ہے، لیکن کسی ادارے میں حقیقی تبدیلی ان اقدار، خیالات اور اختراعات سے آتی ہے جنہیں اس کی چار دیواری کے اندر پروان چڑھایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نسل تبدیلی کا تجربہ کرتی ہے، لیکن موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی تبدیلی کی شدت بے مثال ہے۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ اے آئی کے دور میں تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟
انہوں نے کہاکہ ’’جس دن ٹیکنالوجی انسانیت کی آقا بن جائے گی، ہماری بقا ہی خطرے میں پڑ جائے گی۔
مشینیں حساب لگا سکتی ہیں، لیکن محسوس نہیں کرسکتیں۔ مشینیں پیش گوئی کرسکتی ہیں، لیکن فیصلوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں۔ مشینیں ہمدردی کی زبان کی نقل کرسکتی ہیں، لیکن وہ نصف شب کسی مریض کے بستر کے پاس کھڑی نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی کسی جج کے فیصلے کے اخلاقی بوجھ کو اٹھا سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’میرا واضح موقف ہے کہ کسی شخص کی آزادی، روزگار، صحت، تعلیم یا وقار کو گہرائی سے متاثر کرنے والے ہر فیصلے کے پیچھے ایک انسان ہونا چاہیے، جو اس فیصلے کو سمجھتا ہو، اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہو اور جسے جواب دہ ٹھہرایا جاسکے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
