ہندوستان
ہندوستان اور آسٹریلیا آزاد اور خوشحال ہند – بحرالکاہل کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تال میل بڑھانے کو تیار
نئی دہلی، ہندوستان اور آسٹریلیا نے آزاد، سب کے لیے کھلے، پرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تال میل کو بڑھانے کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور بلا روک ٹوک تجارت کے تئيں عہد بندی کا اظہار کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے آسٹریلیائی ہم منصب رچرڈ مارلس کے ساتھ جمعرات کے روز کینبرا، آسٹریلیا میں پہلے آسٹریلیا-ہند دفاعی مذاکرات کے دوران وسیع تبادلہ خیال کیا۔
دونوں وزراء دفاع کے درمیان بات چیت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا، “وزراء نے آزاد، سب کے لیے کھلے، پرامن، مستحکم اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کو برقرار رکھنے میں مدد کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تال میل بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزراء نے اقوام متحدہ کے کنونشن کے مطابق جہاز رانی اور اوور فلائی کی آزادی، خطے میں بلا روک ٹوک تجارت، اور دیگر قانونی استعمال کے تئيں اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا۔ ”
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بات چیت کے بعد سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی کہا کہ انہوں نے سرحد پار دہشت گردی اور مشترکہ علاقائی استحکام پر آسٹریلیا کی ثابت قدم حمایت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ساتھ مل کر ایک آزاد، سب کے لیے کھلے اور مستحکم ہند-بحرالکاہل خطے کے لیے باہمی تال میل کو مزید مضبوط کریں گے۔
مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا، “میں نے آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع، رچرڈ مارلس کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقات کی۔ ہم نے ہند-آسٹریلیا دفاعی تعاون کے مکمل اسپیکٹرم کا جائزہ لیا، جس میں دفاعی صنعت، سائبرسکیورٹی، میری ٹائم سکیورٹی، اور علاقائی مشکلات شامل ہیں۔ ہم نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ میں نے ہندوستان کی دفاعی صنعت کی تیز ترقی کو اجاگر کیا۔ ہم نے ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان دفاعی صنعت کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا اور ہم سرحد پار دہشت گردی اور مشترکہ علاقائی استحکام کے لیے تعاون کو مزید گہرا کریں گے۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
ہندستان اور ازبکستان کے درمیان یورینیم کی سپلائی سے متعلق معاہدہ ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ ازبکستان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان یورینیم کی سپلائی کے تعلق سے ہوا معاہدہ ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے پیر کے روز یہاں مسٹر مودی کے دورہ ازبکستان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ ان کا ازبکستان کا دورہ تاریخی رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “پورا ملک جانتا ہے کہ تاشقند ہی وہ جگہ ہے، جہاں ہمارے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ اس دور میں کئی ایسی طاقتیں بھی تھیں جو جوہری توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے خود انحصاری کی طرف بڑھتے قدموں کے حق میں نہیں تھیں۔ آج، تقریباً 60 سال بعد تاشقند کی اسی زمین سے مسٹر مودی نے ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور جوہری توانائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی سمت میں یورینیم کی سپلائی کے تعلق سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ہندوستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف ایک معاہدے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندوستان کی عالمی حیثیت اور اسٹریٹجک صلاحیتیں کیسے بدلی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر مودی کے دورے کے دوران یورینیم کی سپلائی کے ساتھ ساتھ، 2030 تک تجارت کو موجودہ تقریباً ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، اہم معدنیات کی سپلائی کے تعلق سے بھی ایک اہم معاہدہ ہوا ہے۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان قدیم ثقافتی تعلقات کے نقطہء نظر سے مسٹر مودی کا یہ دورہ بے حد اہم رہا ہے۔ ازبکستان کے ترمذ علاقے میں بھگوان بدھ سے جڑے ورثے کے مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری ہندستانی آثارقدیمہ (اے ایس آئی) کی جانب سے لینا ہماری مشترکہ تہذیبی میراث کو نئی مضبوطی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ازبکستان کی جانب سے مسٹر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنا بھی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ صرف وزیرِ اعظم کا ذاتی اعزاز نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ، پہچان اور قومی وقار کا احترام ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان اور برازیل نے 2030 تک 30 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف مقرر کیا
نئی دہلی، ہندوستان اور برازیل نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرکے 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہےبرازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں منعقدہ بھارت-برازیل تجارتی نگرانی نظام (ٹی ایم ایم) کے آٹھویں اجلاس میں بھارت -برازیل اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے والے ادارہ جاتی ڈھانچے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے زیادہ متنوع، متوازن اور پائیدار شراکت داری کے ذریعے، بالخصوص دواسازی، کیمیکلز، انجینئرنگ مصنوعات اور مشینری کے شعبوں میں، 2030 تک باہمی تجارت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وزارت تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال اور برازیل کی خارجہ تجارت کی سکریٹری تاتیانا لاسردا پرازیریس نے کی۔ راجیش اگروال نے برازیل کی حکومت میں ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات کے وزیر مارسیو الیاس روزا سے بھی ملاقات کی اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ترجیحی شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
بھارت اور برازیل کے درمیان باہمی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں یہ تجارت 15.07 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے بھارت-مرکوسور کے حوالے سے طے شدہ شرائط پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ سال 2025 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت بھارت-مرکوسور باہمی تجارت کو 20.84 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بھارت-مرکوسور ترجیحی تجارتی معاہدے میں توسیع اور جدید کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اجلاس میں بھارتی دواسازی کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت نے زیادہ مستحکم ضابطہ جاتی طریقہ کار کی حمایت اور مارکیٹ تک وسیع رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارت نے کہا کہ وہ سستی اور معیاری ادویات کی دستیابی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور زیادہ قابل رسائی صحت خدمات کی فراہمی کی کوششوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
کاس گنج سڑک حادثہ میں چھ عقیدتمندوں کی موت، 20 زخمی
کاس گنج، اتر پردیش میں کاس گنج ضلع کے کوتوالی علاقے میں پیر کی صبح ہونے والے سڑک حادثے میں کم از کم چھ عقیدتمندوں کی موت ہو گئی جبکہ 20 دیگر شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
پولیس نے بتایا کہ حادثہ کوتوالی نگر علاقے کے موہن پورہ میں ہاتھرس ضلع کی سرحد کے قریب صبح تقریباً پونے چار بجے پیش آیا۔ میکس پک اپ گاڑی میں سوارعقیدتمند راجستھان کے کرولی ضلع سے اپنے آبا و اجداد اور اہل خانہ کی استھیاں بہانے کے لیے سورونجی تيرتھ استھل جا رہے تھے۔ اسی دوران پک اپ کی 22 پہیوں والے ٹرک سے زبردست ٹکر ہو گئی۔ حادثے میں تین افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی جبکہ شدید طور پر زخمی چھ افراد میں سے تین نے علی گڑھ میڈیکل کالج میں دم توڑ دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایس پی اوم پرکاش سنگھ نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ حادثے میں 23 زخمی مسافروں کو مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے ضلع اسپتال کاس گنج پہنچایا گیا۔ ان میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں بہتر علاج کے لیے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کیا گیا تھا جہاں تین افراد کی موت کی اطلاع ہے۔
ایس پی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ پولیس نے حادثے کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق کاس گنج کوتوالی علاقے کے موہن پورہ میں ہوئے حادثے میں موقع پر جن تین افراد کی موت ہوئی، ان کی شناخت امیش (26) ولد ببلو ساکن گاؤں ریوئی، تھانہ مہوا، ضلع دؤسا، راجستھان؛ نہرو (25) ولد رام کھلاڑی ساکن گاؤں نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی، راجستھان اور پریم زوجہ تیج رام ساکن گاؤں نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی، راجستھان کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں زخمی آٹھ افراد کو ضلع اسپتال کاس گنج سے علی گڑھ میڈیکل کالج ریفر کیا گیا تھا۔ ان میں سے دورانِ علاج رینا زوجہ کرم ویر ساکن سلیم پور کلاں، ضلع بھرت پور، راجستھان؛ رنجیت (33) ولد تیج رام ساکن نتھولی کا پورا، تھانہ سوروٹھ، ضلع کرولی اور انجلی زوجہ منیش ساکن ریوئی، تھانہ مہوا، ضلع دؤسا کی موت ہو گئی۔
اس طرح حادثے میں اب تک کل چھ افراد کی موت ہو چکی ہے۔ حادثے میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ کا علاج علی گڑھ میڈیکل کالج اور 15 کا کاس گنج ضلع اسپتال میں جاری ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے امدادی و بچاؤ کام جاری ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا7 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان6 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا5 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
ہندوستان4 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر7 days agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
-
ہندوستان5 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا6 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
