تازہ ترین
مغربی بنگال میں کشمیری تاجر بلوائیوں کے ہاتھوں لہو لہان
خبراردو:
لتہ پورہ خود کش حملے کے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبا اور تاجروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں یہاں عارضی طور رہائش پزمزکورہ لوگ خوف و دہشت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس دوران وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے آستان محلہ سویہ بھگ علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک27سالہ کشمیری شال ٹریڈر جاوید احمدپر مغربی بنگال کے نادیہ ضلع میں تاہر پورہ علاقے میں بلوائیوں نے انہیں پہلے شدید مار پیٹ کر کے انہیں بری طرح زخمی کرنے کے بعد جاوید کی ناک سے بہہ رہے خون کی اور مارپیٹ کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا جس میں اْنہیں ناک سے خون بہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور اْن کو دی جانے والی بلوائیوں کی گندھی گالیاں بھی صاف طور سے سنی جاسکتی ہیں۔
ویڈیو میں جاوید کو وندے ماترم بھولنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔جاوید کے ایک قریبی رشتہ دار نے ایک انگریزی روزنامے کو بتایا کہ وہ اپنے ایک اور قریبی رشتہ دار ، معراج الدین کے ساتھ رات نو بجے کے قریب اپنے کرایہ کے کمرے میں تھے اس دوران یہاں گنڈوں نے کی ایک جماعت کمرے میں داخل ہوئی اور اْن پر حملہ ہوگیا۔جاوید احمد نے بتایا لتہ پورہ علاقے میں حملے کے بعد کشیدہ حالات کو مد نظر رکھ کر انہوں نے علاقے میں قائم ان کی دکان بندچرکھی ہے ۔ حملے میں زخمی ہونے والے نوجوان کے رشتہ دار نے بتا یا حملے کے ایک گھنٹے بعد یہاں پولیس کی ایک پارٹی پہنچ گئی ہے یب تک حملہ آور یہاں سے نکل چکے تھے ۔
تاہم انہوں ننے کہا انہوں نے کہاکہ پولیس نے جاوید کو بچالیا لیکن اس سے قبل ان کو لہو لہان کیا گیاتھا۔مقامی ذرائع نے بتایا ضلع بڈگام کے سویہ بھگ علاقے سے تعلق رکھنے والے جاوید 5بہنوں کا اکلوتابھائی جاوید بھی گزشتہ10 سال سے کولکتہ شال پھیری کا کام کرتا ہے اس دوران علاقے کے پولیس اسٹیشن میں تعینات پولیس کے سب انسپکٹر اوجیت بسواس نے بتایا کہ جاوید اب حفاظت سے ہے۔انہوں نے کہاہم نے اْنہیں ایک محفوظ مقام تک پہنچایا ہے اور وہ بالکل سلامت ہیں۔جبکہ حملہ آوروں کی تلاش بڑے پیمانے پر تیز کر دی گئی ہے ۔ادھر ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا نے جگہ جگہ حملے اور انہیں تنگ کرنے کے بعد تعلیمی اداروں سے رخصت ہوئے اوروادی کی راہ لی ہے ۔اس دوران پنجاب کے مختلف علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا کو گھر پہنچانے کے لئے جگہ جگہ انتظامات کئے ہیں۔ مختلف ریاستوں سے گھر پہنچے طلبا ء نے سرکاری اعلانات کو ان کے ساتھ ایک مذاق قرار دیا ہے وادی لوٹنے والے طلبا نے بتایا کئی مقامات پر ہیلپ لائن نمبرات پر فون کرنے والے افراد کو بھی ذدکوب کیا گیا ہے ۔
ادھر طلبا کی ایک بڑی تعداد نے بتایا وہ کبھی بھی واپس نہیں جاتے ہیں تاہم انہوں نے بتایا انہوں نے تعلیمی اداروں میں پہلے ہی لاکھوں کی رقم ایڈوانس میں ادا کی ہے جبکہ کچھ طلبا کی ڈگریاں 5سال میں مکمل ہوتی ہے جنہوں نے4سال مکمل کر لی ہے اب صرف ایک سال باقی رہ گیا ہے اب ایک سال کے لئے ڈگری چھوڈنا انہیں کے لئے انتہائی پریشانی کا موجب بن گیا ۔جبکہ وادی کے لوگوں اب بیرون ریاست میں بچوں نئے سرے سے داخل نہ کروانے کا من بنا لیا ہے ۔خیال رہے جنوبی کشمیر کے لتہ پورہ علاقے میں14فروری کو جنگجوؤں کے خود کش کے ملک کے مختلف ریاستوں بشمول جموں میں کشمیری مسلمانوں کو ذدکوب ،مار پیٹ ،تھوڑ پھوڑ کے علاوہ طلبا ء کو کشمیری ہونے کے قصور میں تعلیمی ادروں سے بے دخل کیا گیا ہے ۔جن میں کچھ طالبات بھی شامل ہیں۔
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
