دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کو اکثریت حاصل نہیں، عرب جماعتیں کنگ میکر بننے کی پوزیشن میں
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کا اتحاد بدھ کو پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج میں آگے ہے، لیکن اسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس صورتحال میں ملک کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت سازی کے لیے اپنے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے جاری کردہ جزوی نتائج کے مطابق، تقریباً 55 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 56 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 49 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ کے اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں 16 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اگر اپوزیشن رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو یہ جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دونوں عرب جماعتوں کو اب تک کے کسی بھی انتخاب کے مقابلے میں زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب شہریوں میں ووٹنگ کی شرح میں اضافے کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عرب شہری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور ان میں سے بہت سے خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل کے بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ایگزٹ پول کے مطابق، ووٹروں کی اکثریت نے نیتن یاہو کے اتحاد کی مخالف جماعتوں کی حمایت کی ہے، تاہم ان کی لیکوڈ پارٹی سب سے بڑی واحد جماعت برقرار ہے۔ نیتن یاہو اور اپوزیشن، دونوں میں سے کسی کے پاس بھی حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے کا واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد میں شامل انتہائی قوم پرست اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کی مجموعی نشستیں کم ہونے کا امکان ہے۔ اس اتحاد کو سبکدوش ہونے والی پارلیمنٹ میں 68 نشستیں حاصل تھیں۔
نیتن یاہو اور آئزن کوٹ، دونوں کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کی خاطر مشکل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرب جماعتوں کی بہتر کارکردگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عرب آبادی والے علاقوں میں جرائم اور تشدد سے نمٹنے کے معاملے پر دائیں بازو کی سخت گیر حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ تاہم، مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے کئی رہنما عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے سے انکار کر چکے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ عرب جماعتوں کی شمولیت سے قومی سلامتی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر اپوزیشن رہنما اپنا موقف تبدیل کر لیتے ہیں تو وہ ممکنہ طور پر حکومت تشکیل دے کر نیتن یاہو کے دور اقتدار کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، عرب ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون کے معاملے پر اپوزیشن کے اندر اختلافات آئزن کوٹ کی اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل میں پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان حملوں نے اسرائیل کی سلامتی کے نظام کی سنگین خامیوں کو اجاگر کیا تھا اور ایک ایسے علاقائی تنازعے کو جنم دیا جس میں غزہ، لبنان اور شام بھی شامل ہو گئے۔ اسرائیل ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کے دو ادوار سے بھی گزر چکا ہے، جبکہ نیتن یاہو مزید فوجی کارروائیوں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
لبنان اور ایران سمیت متعدد محاذوں پر تقریباً تین برس سے جاری جنگ کے بعد انتخابی مہم میں سلامتی اور ملک کے مستقبل کی سمت اہم موضوعات رہے۔
اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت کو اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے اور مخالفین پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
آئندہ چند روز میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے ساتھ نشستوں کے حتمی اندازوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
نتائج کی توثیق کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں خیال ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
جرمنی میں ایک گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، کم از کم چار افراد زخمی
برلن، جرمنی کے صوبہ زیریں ساکسونیاکےنیوسٹاد ایم روب برگ شہر میں ایک گاڑی کے جان بوجھ کر شہریوں پر چڑھانے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد زخمی ہو گئے۔
جرمن نیوز ایجنسی (دی پی اے) نے ہانوور کے پولیس ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ ہانوور کے قریب واقع نیوسٹاد ایم روب برگ میں گزشتہ شب ایک شخص نے گاڑی کو ہجوم پر چڑھا دیا۔
جائے وقوعہ کے قریب ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر فائرنگ کی۔
گاڑی میں سوار مشتبہ افراد، جن کی تعداد کا تاحال علم نہیں ہو سکا، جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے شروع کردہ کارروائی تا حال کامیاب نہیں ہو سکی۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ مشتبہ افراد نے ہجوم کو حادثاتی طور پر نہیں بلکہ غالباً خاص طور پر نشانہ بنایا؛ اس واقع میں 4 سے 5 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض شدید زخمی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات بڑھ کر 47.1 ارب ڈالر ہو گئے: سینٹ کام کا تخمینہ
واشنگٹن، ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات اکتوبر کے وسط تک بڑھ کر کم از کم 47.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے قانون سازوں کو فراہم کردہ تخمینے کے مطابق، اخراجات کا بڑا حصہ استعمال کیے جا چکے گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیاروں کی خریداری پر مشتمل ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کے درمیان، جنگ کے اخراجات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 3 ارب ڈالر سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
16 اکتوبر کے تخمینے کے مطابق، استعمال شدہ گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیاروں کی فراہمی پر تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ تباہ یا ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان کی جگہ نئے آلات کی خریداری کے لیے مزید 6.1 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، فوجی کارروائیوں سے متعلق اضافی اخراجات کے لیے تقریباً 11.9 ارب ڈالر رکھے گئے ہیں۔
اس تخمینے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مرمت کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ ان میں سے متعدد اڈوں کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
تازہ ترین تخمینہ ستمبر کے اوائل میں پینٹاگون کے پیش کردہ تقریباً 43.6 ارب ڈالر کے تخمینے سے زیادہ ہے۔ اس سے تین ماہ قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے نقصانات کو شامل کیے بغیر جنگ کے اخراجات تقریباً 37.5 ارب ڈالر بتائے تھے۔
کانگریس کے بجٹ دفتر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں اس پر ہر ماہ 2 سے 3 ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ ایرانی حملوں سے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کی ضرورت ہے۔
جنگ کے باعث امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ تنازع کے دوران بڑی تعداد میں گولہ بارود استعمال کیے جانے کے سبب فوج کو ”اسٹریٹجک ذخائر میں کمی” کا سامنا ہے، جس کے بعد ہتھیاروں کی پیداوار تیز کرنے کی کوششیں شروع کی گئی ہیں۔
تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے گولہ بارود کی قلت سے متعلق خدشات کو مسترد کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ستمبر کے اوائل میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس درمیانے اور اعلیٰ معیار کے گولہ بارود کی ”تقریباً لامحدود مقدار” موجود ہے۔
اس سے قبل ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ سینٹ کام نے وائٹ ہاؤس کی منظوری ملنے کی صورت میں ایران پر مزید حملوں کے مختلف منصوبے تیار کیے ہیں۔ ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر تہران کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوتا تو اگلے ماہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے منگل کو ٹیکساس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے ”بے پناہ دولت کما رہا ہے”۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ جنگ ”بہت جلد ختم ہو جائے گی”۔
اس تنازع کے اخراجات امریکی گھرانوں پر بھی پڑے ہیں۔ موڈیز اینالیٹکس کے اندازے کے مطابق، اب تک جنگ کے باعث امریکہ کے ہر گھرانے پر اوسطاً تقریباً 2,000 ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل جنگ کے اخراجات سمیت دیگر دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کانگریس سے فوجی فنڈنگ کی مد میں مزید دسیوں ارب ڈالر طلب کیے تھے۔ یہ درخواست ابھی منظور نہیں ہوئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس نے ہیگستھ سے جنگ پر ہونے والے اخراجات کی مزید تفصیلی وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں تقریباً 5 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا
رام اللہ، اسرائیلی فوج نے قابض مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں نافذ کیا گیا محاصرے کو پانچویں روز بھی جاری رکھا، جبکہ 4 ہزار 969 فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر دیا گیا۔
الخلیل بلد یہ نے بتایا کہ شہر کے عین دیربہا اور جیلدہ علاقوں میں محاصرے کی وجہ سے گھر چھوڑنے والے فلسطینیوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے ، ان کی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
بیان کے مطابق، اسرائیلی فوج کے پانچویں روز محاصرے کے تحت شہر میں زبردستی گھر چھوڑنے والے خاندانوں کی تعداد 780 تک اور بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 4,969 ہو گئی ہے۔
جبری بے گھر کیے گئے افراد میں 336 شیرخوار بچے، 441 بزرگ، 216 حاملہ یا زچہ، 44 معذور اور 312 دائمی مریض شامل ہیں۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوج کی اضافی قوتوں نے فوجی گاڑیوں کے ہمراہ رات گئےالخلیل کے بعض محلے میں چھاپے مارے اور فلسطینیوں کے گھروں کی تلاشی لی۔
علاوہ ازیں، شہر کے داخلی راستوں کے ساتھ ساتھ قصبوں اور پناہ گزین کیمپوں کے داخلی راستے بھی اسرائیلی فوجیوں نے بند کر رکھے ہیں اور فلسطینیوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
جیلدہ چوک کے نزدیک قائم فوجی چوکیوں پر فلسطینیوں کو روکا جاتا ہے، ان کی تلاشی لی جاتی ہے اور تلاشی کے دوران ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ محاصرے والے علاقے عین دیر بہا میں اسرائیلی فوج کو اضافی دستوں سے تقویت دی گئی، اور اسرائیلی فوجیوں نے بعض فلسطینی عمارتوں میں ٹھہر کر انہیں فوجی ہیڈکوارٹرز میں تبدیل کر دیا۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی نے کل اپنے بیان میں کہا تھا کہ محاصرے کے دوران کیے گئے چھاپوں میں 85 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا۔
الخلیل میں فوجی حملہ اور محاصرہ اس وقت شروع ہوا جب شہر کے شمال مغربی داخلی راستے کے علاقے فرش الحوا میں 23 اکتوبر کو ایک اسرائیلی چیک پوائنٹ پر ایک مسلح حملہ ہوا۔اس حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ حملہ کرنے والے 2 فلسطینی بھی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ الخلیل کے خلاف یہ حملہ اور محاصرہ چند روز تک جاری رہ سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹس نے محاصرے کے آغاز کے دو دن بعد کہا کہ الخلیل سے گھر چھوڑنے والے تقریباً دو ہزار فلسطینی اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکیں گے جب تک اسرائیل شہر میں وہ عمارتیں ختم نہ کر دے جنہیں وہ حماس کا ‘انفراسٹرکچر’ قرار دیتا ہے۔
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے حملے کے بعد قابض مغربی کنارے میں 1967 کی جنگ کے بعد کے ایک وسیع ترین پیمانے کے حملے کی دھمکی دی ہے۔
الخلیل کے واقعات اکتوبر 2023 میں غزہ پٹی پر حملوں کے آغاز کے بعد سے قابض مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے فوجی چھاپوں، فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں، گھروں اور کاروبار کی تباہی، زرعی اراضی کو پہنچنے والے نقصان اور جبری بے دخلی کی دیگر کارروائیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
-
ہندوستان1 week agoاو آئی سی میں کشمیر پر بدنیتی پر مبنی بیانات کو ہندوستان نے کیا مسترد، پاکستان کو بنایا نشانہ
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
