ہندوستان
کھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 1,856.67 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
نئی دہلی، مرکزی کابینہ نے 2026 سے 2033-34 تک کے لیے 1,856.67 کروڑ روپے کی لاگت سے ‘کھیلو انڈیا کھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم’ کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں کھیلوں کے سامان کی تیاری، ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور برآمدات کو فروغ دینا اور عالمی بازار میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں پیش کی گئی تجویز کو منظوری دی گئی۔
میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کھیلوں کے سامان کی تیاری کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں مینوفیکچررز، سپلائرز، جانچ کے مراکز اور ڈیزائن کی سہولتیں ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پیداوار میں اضافے اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو وسعت دینے سے متعلق امداد پر 1,130 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں کے موجودہ پیداواری مراکز کو جدید بنانے، مشترکہ سہولتوں کی ترقی اور بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشنوں سے معیار کی تصدیق حاصل کرنے کے لیے بھی امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ سرٹیفکیشن کے لیے 105 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیلوں کے آلات، نئے مواد اور جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ اسٹارٹ اپس، ہنرمندی کے فروغ اور ہندوستانی کھیلوں کے سامان کی بین الاقوامی بازاروں تک رسائی بڑھانے پر بھی زور دیا جائے گا۔
مسٹر ویشنو نے کہا کہ اس اسکیم سے ملک میں کھیلوں کے سامان کی پیداواری صلاحیت مضبوط ہوگی، درآمدات پر انحصار کم ہوگا، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ ہوگا اور ہندوستانی کھیلوں کے سامان کی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
نئی دہلی، مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ اس نشست کے لیے ضمنی انتخاب 12 نومبر کو ہونا ہے۔
بی جے پی کے جنرل سکریٹری ترون چُگ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق، پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے مسٹر پوری کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر پوری کی راجیہ سبھا کی موجودہ مدت 25 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ وہ اس وقت اتر پردیش سے ایوان بالا کے رکن ہیں۔
اس نشست کے لیے نامزدگی کا عمل 26 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے اور 2 نومبر تک جاری رہے گا۔ 3 نومبر کو نامزدگی کے کاغذات کی جانچ ہوگی، جب کہ 5 نومبر تک امیدوار اپنے نام واپس لے سکیں گے۔
یہ نشست سابق مرکزی وزیر ایل مروگن کے استعفے کے باعث خالی ہوئی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بدھ کے روز کہا کہ ووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ تہواروں کے موسم میں کمر توڑ مہنگائی عام لوگوں کی کمائی کا ایک ایک پیسہ نگل رہی ہے، جس سے عام خاندانوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی اور گھریلو معاشی صورت حال سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غذائی مہنگائی 2.13 فیصد سے بڑھ کر 7.74 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جب کہ خردہ مہنگائی 5.54 فیصد اور تھوک مہنگائی 11.39 فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھریلو قرض میں 36.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور گھریلو مالی بچت میں چار فیصد کی کمی آئی ہے۔
کانگریس صدر نے بی جے پی کے پرانے انتخابی نعروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اقتدار میں بیٹھی بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بیان بازی سے فرصت ملے تو انہیں 2014 سے پہلے اپنے اشتہار ‘بہت ہوئی مہنگائی کی مار’ کو دوبارہ دیکھنا چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ‘اچھے دن’ کی امید میں 12 سال گنوا دیے ہیں۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ستائیس اکتوبر کی پوری رات جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی
نئی دہلی، جامعہ، ستائیس اکتوبر کی پوری رات میں وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ، یونیورسٹی املاک کی تباہی اور سیکورٹی کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہرے صدمے، مایوسی اور گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔جاری ریلیز کے مطابق یونیورسٹی کی دیواروں پر حملوں کی اطلاع ملنے پر صور ت حال کا جائزہ لینے کے لیے جب پراکٹوریئل ٹیم اور جامعہ کے اساتذہ کیمپس پہنچے تو پتہ چلا کہ احتجاجی طلبہ کے گروپ نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے گیٹ اور دیواروں میں توڑ پھوڑ کی، گیٹ نمبر چار سی کو نیچے لائے، پتھراؤ کیا، سی سی ٹی وی کنٹرول روم، کیمروں کو نقصان پہنچایا اور ان کا رابطہ منقطع کر دیا۔ مبینہ طور پر نقاب پوش مظاہرین کا ایک گروپ یونیورسٹی کے بوائز ہاسٹل تک بھی پہنچ گیا تاکہ اضافی مدد حاصل کی جا سکے۔
یونیورسٹی کی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے ویڈیو، جو خود احتجاج کرنے والے طلبہ کی طرف سے پوسٹ کی گئے ہیں، سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کر رہے ہیں، اس سے یونیورسٹی کمیونٹی کے افراد شدید غم و غصے میں ہیں۔
انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ ایک طرف تو احتجاج کرنے والے طلبہ کمیٹی کے اراکین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے (کل شام ہونے والی بات چیت کی کوشش، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کی ساتویں کوشش تھی) اور دوسری طرف اس کے فوراً بعد کیمپس میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح یہ امر بھی انتہائی قابلِ مذمت ہے کہ جب خواتین فیکلٹی ممبران، وارڈنز اور پرووسٹس نے احتجاج کرنے والی طالبات کو سمجھانے کی کوشش کی، تو انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ ایسا رویہ نہ صرف ناقابلِ قبول ہے، بلکہ یہ مذاکرات اور پرامن احتجاج کی اصل روح کے منافی بھی ہے اور اسے کمزور کرتا ہے۔
گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات، ایک ایسے ہفتے کے بعد رونما ہوئے ہیں جس میں یونیورسٹی کے دروازے اور چار دیواری پر چڑھنے، انھیں نقصان پہنچانے اور توڑنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے تھے۔ تاہم ستائیس اکتوبر کی رات ہونے والی تباہی کی وسعت، رفتار اور شدت نے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سوشل میڈیا پوسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے بھاری لوہے کی سلاخوں، ہتھوڑوں اور دیگر آلات کا استعمال کیا گیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب یونیورسٹی چوبیس اکتوبر دوہزار چھبیس کو جاری اعلامیے کے مطابق، پہلے ہی آن لائن تدریسی نظام کی طرف منتقل ہو چکی تھی۔
تباہی کے مناظر دیکھ کر، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے ارکان نے رات بھر پیش آنے والے واقعات پر شدید صدمے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ توڑ پھوڑ کے ان واقعات نے طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ یونیورسٹی کا بنیادی ڈھانچہ، کلاس رومز، لیبارٹریاں اور لائبریریاں، نیز ان کا حفاظتی نظام اور آمد و رفت کے راستے، کیمپس میں ایک محفوظ ماحول برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان سہولیات کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان نہ صرف بڑے پیمانے پر مادی اور مالی نقصان کا باعث بنتا ہے، بلکہ اس سے پوری یونیورسٹی کمیونٹی کی حفاظت اور بہبود بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
ہندوستان1 week agoاو آئی سی میں کشمیر پر بدنیتی پر مبنی بیانات کو ہندوستان نے کیا مسترد، پاکستان کو بنایا نشانہ
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
