تازہ ترین
لاوے پورہ سرینگر میں مختصر خونین جھڑپ
2جنگجو، سی آر پی ایف اہلکار ہلاک،ایک جنگجو زخمی
مضبوط سیکیورٹی گرڈ،بہتر تال میل اور پختہ خفیہ معلومات، کامیاب جنگجو مخالف آپریشنز کی ضمانت:ڈی جی پی
سرینگر: سرینگر کے مضافاتی علاقہ لاوے پورہ میں بدھ کو سکوٹی پر سوار مسلح جنگجوؤں اور فورسز کی خصوصی ناکہ پارٹی کے درمیان کے درمیان ’مختصر خونین جھڑپ‘ میں 2آئی ایس جے کے جنگجو اور سی آر پی ایف اہلکار ہلاک جبکہ ایک جنگجو زخمی ہوا،جو پولیس حراست میں زیر علاج ہے۔
سرینگر میں یہ گذشتہ4روز میں اپنی نوعیت کا دوسرا عسکری واقعہ ہے۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس(ڈی جی پی)،دلباغ سنگھ نے کہا کہ مضبوط سیکیورٹی گرڈ،بہتر تال میل اور پختہ خفیہ معلومات سے جنگجو مخالف آپریشنز میں کامیابیاں تسلسل کیساتھ حاصل ہورہی ہیں۔کشمیر نیوز سروس(کے این ایس) کے مطابق سرینگر کے مضافاتی علاقہ لاوے پورہ سرینگر میں بدھ کی صبح۱۱ بجکر45منٹ پر اُس وقت افراتفری،اتھل پتھل اور خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی جب یہاں پولیس وسی آر پی ایف کی مشترکہ ناکہ پارٹی اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔
مختصرجھڑپ:آئی جی سی آر پی ایف،روی دیپ سہائے اور پولیس ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی الرٹ کے پیش نظر پولیس تھانہ پارمپورہ کے حدود میں آنے والے علاقہ لاوے پورہ میں پولیس اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور خصوصی ناکہ لگایا تھا،جہاں سے گذر نے والے مشکوک افراد سے پوچھ تاچھ کی جاتی تھی جبکہ اس کے علاوہ شہر میں ممکنہ جنگجویانہ کارروائیوں کو قبل از وقت روکنے کیلئے گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں کی چیکنگ کی جاتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں تعینات خصوصی ناکہ پارٹی نے بغیر ہیلمنٹ ایک سکوٹی پر سوار3افراد کو چیکنگ کی غرض سے روکا اور جوں ہی مذکورہ افراد کو سکوٹی سے نیچے اتر نے کو کہا گیا،تو سکوٹی پر سوار بندوق برداروں نے ناکہ پارٹی پر اندھا دھند فائر نگ کی،جسکے نتیجے میں سی آر پی ایف اہلکار راجیو رنجن ازاجان ہوا جبکہ طرفین کے مابین مختصر گولیوں کے تبادلے میں میں 2جنگجو مار گئے اور ایک جنگجو زخمی ہوا،جسے حراست میں لیا گیا۔ان کا کہناتھا کہ پہلے ہی جنگجویانہ حملوں کی نسبت خفیہ معلومات تھیں،کہ محمد افضل گورو کی ساتویں برسی پر جنگجو شہر میں سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرسکتے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ اسی خفیہ معلومات کی بنا پر سرینگر کے خارجی و داخلی مراکز پر خصوصی ناکے قائم کئے گئے ہیں،تاکہ قبل از وقت جنگجویانہ حملوں یا منصوبہ بندی کو ناکام بنایا جاسکے۔ یہ گذشتہ ایک ہفتے میں دوسری معرکہ آرائی ہے۔
31جنوری کو نگروٹہ جموں میں پولیس کی ناکہ پارٹی اور مسلح جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی،جس میں جیش محمد کے تین جنگجو مارے گئے تھے جبکہ ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔گذشتہ اتوار کو سرینگر کی مشہور پرتاپ پارک کے نزدیک ایک گرینیڈ حملے میں 7عام شہری اور دو فورسز اہلکار زخمی ہوئے تھے۔مزید جنگجویانہ حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا،جسکے تحت پولیس وفورسز نے مشترکہ طور جگہ جگہ ناکے لگائے ہیں۔فورسز کو 8سے14فروری تک چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔9فروری2013کو محمد افضل گورو کو پار لیمنٹ حملے میں قصوار قرار دیکر دلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ طور پھانسی دی گئی اور جیل کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا جبکہ 11فروری1984میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں ہی تختہ دار دیا گیا تھا اور اُنہیں بھی یہی دفن کیا گیا ہے۔دونوں مرحومین کی باقیات لوٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے،تاہم حکومت ہند اس سے صاف انکار کررہی ہے۔پریس کانفرنس:ڈائریکٹر جنرل آف پولیس،دلباغ سنگھ،ایڈیشنل آئی جی سی آر پی ایف اور آئی جی پی،وجے کمار نے پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پارمپورہ شوٹ آؤٹ سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس دی۔ڈی جی پی نے کہا کہ جنوری2020میں پولیس،فوج اور فورسز نے مشترکہ طور پر جنگجومخالف آپریشنز میں شدت لائی،جسکے کامیاب ترین نتائج برآمد ہوئے۔
انہوں نے سیکیورٹی فورسز میں بہتر تال میل اور پختہ خفیہ معلومات کی بنا پر پولیس وفورسز کو جنگجو مخالف آپریشن میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں جبکہ مضبوط سیکیورٹی گرڈ سے جنگجو اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو پارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرینگر،بڈگام،کھریو اور ترال میں کامیاب جنگجو مخالف آپریشنز عمل میں لائے گئے،جس دوران جنگجو ؤں کو زندہ بھی پکڑا گیا اور جھڑپوں میں مارے بھی گئے۔ان کا کہناتھا کہ حال ہی میں ادھمپور جموں میں جیش محمد نامی عسکری تنظیم کے تین جنگجو مارے گئے،جو سرحد پار کرکے یہاں ایک بڑی واردات انجام دینے کا منصوبہ رکھتے تھے۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی الرٹ کی بنیاد پر شالٹینگ پارمپورہ میں اسپیشل ناکہ لگایا گیا اور یہاں سے سکوٹی پر سوار گزر رہے جنگجوؤں نے ناکہ پارٹی کو نشانہ بناکر فائرنگ کی جس میں ایک سی آر پی ایف اہلکار ازجان ہوا جبکہ جوابی کارروائی میں 2جنگجو مارے گئے اور ایک جنگجو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا،جو پولیس کی نگرانی میں زیر علاج ہے۔سی آر پی ایف کے ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ خفیہ معلومات کی بنا پر سرینگر۔
بارہمولہ روڑ پر شالٹینگ پارمپورہ کے مقام پر ناکہ لگایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ 3ملی ٹنٹ ایک سکوٹی پر سوار تھے،جوں ہی اُنہیں چیکنگ کیلئے روکا گیا،تو پیچھے بیٹھے ملی ٹنٹ نے ناکہ پارٹی پر فائرنگ کی،جس دوران یہاں تعینات ایک سی آر پی ایف اہلکار راجیو رنجن کے سر میں لگی اور اُسکی موت ہوگئی۔جوابی کارروائی میں دو ملی ٹنٹ مارے گئے اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔آئی پی کشمیر زون،وجے کمار نے مختصر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت ضیا الرحمان ساکنہ آرتھ بڈگام،خطیب احمد داس ساکنہ بجبہاڑہ اننت ناگ کے بطور کی جبکہ زخمی جنگجو کی شناخت عمر فیاض ساکنہ کے بطور ہوئی۔ان کا کہناتھا مہلوک جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈ ضبط کئے گئے۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
