تازہ ترین
اردو ادب کے امین مدارس دینیہ – الطاف جمیل ندوی
کچھ ماہ قبل ہی ایک فون کال وصول ہوئی سلام دعا کے بعد صاحب نے تعارف دیا ساتھ میں فرمایا کہ میں مدارس اور اردو کے نام سے ایک کتاب لکھ رہا ہوں آپ تعاون دیں میری بدقسمتی کی اپنی تحریر نہ دے سکا عزیز محترم نے اصرار بھی کیا پر شومئے قسمت میںری مشغولیت آڑے آتی رہی اور میرا مضمون پڑا ہی رہ گیا جس کے لئے کچھ سطور لکھ بھی دی تھیں اب بھی پڑا ہی ہے مطلب میری کام کے تئیں بےحسی اب کچھ روز قبل پھر سے کال آئی کہ میں آپ کو کتاب دینا چاہتا ہوں تو شرمندگی ہوئی عزیز محترم نے آج کتاب بھیج دی تشکر کے لئے دل نے کہا تو کچھ الفاظ لکھ رہا ہوں
موصوف کا مختصر تعارف
اسم گرامی”””” ڈاکٹر فیض قاضی آبادی
تعلیمی :::: قابلیت ایم اے اردو بی ایڈ پی ایچ ڈی نیٹ
پیشہ :::: اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ہائرایجوکیشن جموں و کشمیر
جو کتابیں شائع ہوچکی ہیں
صحبت صالحین فکر اقبال کی روشنی میں
تفھیم اقبال
لفظ لفظ خوشبو
آہ سحرگاہی
پروفیسر بشیر احمد نحوی نظر نظر میں
جو زیر اشاعت ہیں
آدمی مسافر ہے
رنگ رقص کریں
اقبال اور انسانیت
موصوف ساتھ ساتھ وادی کشمیر اور ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد سے منسلک ہیں اور ان میں ان کی تحریریں معیاری اور معلومات سے بھر پور شائع ہوتی رہتی ہیں ان کی زیادہ مضبوط پکڑ افسانہ نگاری پر ہے جس میں یہ اکثر رنگ بھرتے رہتے ہیں انتہائی ملنسار شفیق و مہربان ساتھی اسلامی وضع قطع رکھنے والے موصوف ہندواڑہ کے کالج میں اس وقت اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں سوپر ناگہامہ کی بستی کا یہ شاہین صفت نوجوان علم و ادب کے افق پر اپنی محنت و لگن سے رنگ بکھیر رہا ہے
ان کی اردو زبان و ادب کے تئیں محبت و عقیدت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت یہ بھی ہے کہ موصوف مسلسل اسی زبان میں لکھ رہے ہیں اور اس زبان کے فروغ کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اردو زبان و ادب اپنے اندر جس محبت و اخوت کا جذبہ لئے ہے وہ شاید ہی کسی زبان میں موجود ہو یہ ایسی زبان ہے جس نے فارسی عربی کو اپنے دامن میں شامل کیا ہے اس زبان میں برصغیر پاک و ہند کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے ہندو مسلم سکھ عیسائی بودھ جو اس زبان سے تعلق رکھنے والے ہیں والہانہ اس زبان سے تعلق بنائے ہوئے ہیں اس زبان کو استعمال کرنا ہر کسی بولنے والے کے لئے آسانیاں پیدا کردیتا ہے چاہئے کہ اس کی کوئی سی بھی زبان ہو پچھلے کچھ عرصہ سے اس زبان کے تئیں برصغیر میں سوتیلا سا برتاؤ ہونے لگا اور اس کا گلہ گھونٹ دینے کی کوشش ہونے لگئی اور اب حالت یہ ہے کہ اردو زبان و ادب میں ڈگریاں حاصل کرنے والے بھی اس زبان کو روز مرہ استعمال کرنے سے شرماتے ہیں اتنا ہی نہیں اردو زبان و ادب کے فروغ کے اشتہار بھی اب انگریزی زبان میں دئے جاتے ہیں اس طرح سے اردو کی خدمات انجام دی جارہی ہے کہ اس کے نام پر روزی کمانے والے بھی اس سے استعمال کرنے کی سد بد نہیں رکھتے ہاں یہ اور بات ہے کہ انگریزی اور اردو کے مکسچر الفاظ کے ساتھ تھوڑی بہت بول بھی سکیں تو بولنے میں شرماتے نہیں بلکہ اپنی اس الٹ پھیر پر خوب مسکراتے ہیں زبان و ادب کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا پر یہ اہم ہے کہ کس کا کتنا علمی و ادبی سرمایہ ہے اور کس زبان میں ہے اس پر ہر مذہب و مسلک کو متفکر رہنا لازم ہے یہی معاملہ اب اردو زبان کا ہے کہ امت مسلمہ برصغیر خصوصا اس سلسلے میں منہ نہیں پھیر سکتی کہ اس کا ایک بہت بڑا علمی و ادبی لسانی تہذیبی معاشرتی سیاسی تمدنی حصہ موجود ہے اور وہ اسی زبان میں موجود ہے اس لئے اس کے فروغ و اشاعت کا فریضہ اب بھی اسی قوم کے لئے موجود ہے جس سے فرار کا مطلب ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کو درگور کرکے نئی نسل کو تباہی اور بربادی کے حوالے کردینا
جو لوگ اس زبان کی اونچ نیچ سے واقف ہیں وہ اس وقت بھی اس زبان کے تئیں انتہائی فکرمند ہیں اور اس کی حفاظت اس کی نشر و اشاعت کے لئے کوشاں ہیں کشمیر کے تہذیبی ثقافتی افق پر جو لوگ موجود ہیں انہوں نے بھی اس زبان کی ترویج کے لئے بے بہا خدمت انجام دی ہیں اور مسلسل دے رہے ہیں انہیں کہنہ مشق صاحبان قلم میں عزیزم فیض قاضی آبادی صاحب کا اسمگرامی بھی اب شامل ہونے جارہا ہے جن کا قلم اس زبان کی بقاء کے لئے اپنی نوک سے جواہر بکھیر رہا ہے اسی سلسلے میں انہوں نے ایک کوشش کے بطور یہ کتاب مدارس دینیہ اور اردو نامی ایک کتاب جو مختلف صاحبان قلم کے تجربات و معلومات کا خزانہ ہے منظر عام پر لا کر مدارس دینیہ کے تئیں اپنی محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ مدارس دینیہ میں اردو کے تئیں کی گئی خدمات کا اعتراف اور اظہار کیا ہے اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اس کتاب کو زیر مطالعہ لا کر اس کتاب کو اپنے اپنے حلقہ احباب میں متعارف کرایا جائےاس کتاب میں
مدارس دینیہ اور اردو کے تئیں خدمات کے بارے میں انتہائی اہم اور ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں کتاب ھذا میں جہاں تک کتاب کے مطالعہ کا تعلق ہے تو ایک بات عیاں ہوجاتی ہے کہ علماء امت ہی اس زبان کے اصل امین و محافظ ہیں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اردو کسی خاص مذہب یا نظریہ کی امین نہ تھی مگر اب جب کہ اس زبان کی سانسیں بند ہونے جارہی ہیں تو امت مسلمہ کے لئے لازم ہے کہ اس زبان کی ترویج و اشاعت اس کی بقاء کے لئے کوشاں رہیں کیوں کہ اردو ہی اب ہمارے کل کی امین ہے اس زبان کے لئے شیخ تھانوی رحمہ اللہ کا فتوی ہے کہ
اردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے اس بناء پر اس زبان کی حفاظت حسب استطاعت واجب ہوگئی اور باوجود قدرت کے اس میں غفلت اور سستی کرنا مصیبت بھی ہوگئی اور موجب مواخذہ آخرت بھی ہوگا ( امداد الفتوی)
اردو واحد ایک ایسی زبان ہے جو برصغیر پاک و ہند میں اپنی آن بان شان سے رواں دواں ہے پر اس کی ترویج س اشاعت میں جو کردار مدارس دینیہ کے فضلاء نے ڈالا اس سے انکار ممکن ہی نہیں ہے برصغیر پاک و ہند ہی نہیں بنگلہ دیش افغانستان بخارا تاشقند افریقہ جیسے ممالک میں بھی علماء نے اس زبان کو فروغ دیا اور اس کا استعمال کیا ہے جس کے لئے آپ کو تفصیلات اسی کتاب میں میسر ہوں گئیں اسی لئے شاید مرحوم وہاب اشرفئ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ
ملک میں بکھرے ہوئے مدارس دراصل اردو کے فروغ کی بے بہا خدمت انجام دے رہے ہیں کالجوں سے اردو غائب ہوتی جارہی ہے مدارس میں عربی فارسی کے علاوہ اردو کی کتابیں مسلسل پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں جس کا نتیجہ یہی ہوا کہ اردو زبان و ادب کے جو بڑے نقاد اور قلم کار ہیں وہ انہیں مدارس دینیہ کے فارغ التحصیل طلبہ ہیں جن کی اس زبان پر پکڑ مضبوط ہے جیسے کہ دارلعلوم دیوبند نے اپنی ادبی صحافتی سفر میں جہاں لاتعداد افراد پیدا کئے وہیں اسی گلشن ادب و صحافت میں ایک شجر علم و ادب صحافت و نقد مولانا عامر عثمانی رحمہ اللہ ہیں جنکی ذات محتاج تعارف نہیں وہ اپنے وقت کے امام صحافت بے باک مبصر لاجواب شاعر اور ناقد تھے اسی طرح ان مدارس ہی نے مولانا مملوک العلی جو اپنے زمانے میں اردو زبان و ادب کے امام کہلائے شیخ احمد رضا خان سید مودودی ڈپٹی نذیر احمد علامہ ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سید سلمان ندوی مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ سلطان القلم مولانا مناظر احسن گیلانی مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی علامہ انظر شاہ شیخ الادب مولانا اعزاز علی مفتی شفیع صاحب جیسے ادیب و دانشور علماء جنہیں بجا طور پر علم و ادب کے بے لاگ مبصر و محافظ کہہ سکتے ہیں اس زبان کے تئیں جب تک علماء کرام کم توجہ دیتے تھے تب مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے قلم کی نوک کو استعمال کرکے علم کا ایک بڑا ذخیرہ برصغیر کے لوگوں کے لئے مرتب کیا جس کے منصئہ شہود پر آتے ہی علامہ کشمیری بھی اس زبان کے شیدائیوں میں شامل ہوئے جو کبھی اردو زبان کے فروغ کے لئے سوچ بھی نہیں سکتے تھے اپنے تئیں انہیں اس کی فکر تک نہ تھی پر جوں کہ شیخ تھانوی رحمہ اللہ کی کتب دیکھیں تو اس زبان کی اور مائل ہوئے اور اس کی بقاء کے لئے کوشاں
ہم یہ نہیں کہتے کہ علماء کے سوا اس زبان کی خدمت کسی نے نہیں کی ایسا نہیں ہے بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ علماء نے اپنی طرف سے ایک بہت بڑا حصہ ڈالا ہے اس زبان کی ترویج و اشاعت میں زبان و ادب کی بات کریں تو ماننا پڑے گا کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جیسے کہ اردو زبان و ادب ہے کہ یہ اپنی وسعت و محبت کے سبب اپنے ساتھ سو سوا سو زبانیں بولنے والوں کو اپنے ساتھ لئے چل رہی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ اس کی ضرورت امت مسلمہ برصغیر کو ہی ہے کیونکہ علم و ادب کا ایک بہت بڑا حصہ اسی زبان میں موجود ہے جس کے جاننے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں اگر ہم اس زبان سے تعلق بنائے نہ رکھ سکے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس کھونے کے لئے کچھ نہ بچے گا اور ہماری داستان علم و ادب دفن ہوکر رہ جائے گئی جیسا کہ ہماری تہزیب و تمدن اندلس و غرناطہ و قرطبہ میں منظر سے غائب ہوگئی
اس سب سے واقف ہونے کے لئے آپ مدارس دینیہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں جہاں آپ کو علم و ادب کے افق پر برجماں شہسوار نظر آئیں گئے یہ کتاب جہاں اسلامی مدارس کے لئے مفید و کار آمد ہوسکتی ہے اسی قدر اردو زبان و ادب کے شوقین حضرات کے لئے بھی اس کا مطالعہ کافی اہم ہے پہلی بار جب میں نے اردو کے حوالے سے یہ کتاب جب ہاتھ میں لی تو ورق گردانی کرتے کرتے کچھ ایسی باتیں بھی دیکھیں جن کے بارے میں بلکل بھی خبر نہ تھی مجھے یہ کہنے میں بلکل بھی کوئی عار نہیں کہ اس کتاب کے مطالعہ نے مجھے بہت کچھ دیا جس کے بارے میں مجھے علم نہ تھا جیسے کہ ورق گردانی کرتے ہوئے میںنے یہ جانا کہ
میرے ایک استاد محترم ہیں جن کے بارے میں پہلی بار علم ہوا کہ وہ شاعری بھی کرتے ہیں اور وہ بھی بہترین اور خوبصورت انداز میں جیسے کہ ان کی ایک نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اسی کتاب میں پڑھنے کو ملی جسے پڑھ کر بے ساختہ دل خوشی و مسرت سے شادماں ہوا ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کا ایک جذباتی کلام بھی نظر میں آیا جس میں ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں محبت و عقیدت کا تعلق نظر آیا اللہ کرے کہ موصوف اس میں مزید ترقی کی منازل طے کر کے ہمارے لئے ذخیرہ علم و ادب بناتے رہیں اور وہ ہماری اور پوری ملت اسلامیہ کے کام آجائے
اس کتاب کے صفحات پر آپ کو
مدارس دینیہ کے حوالے سے دارلعلوم دیوبند مظاہر العلوم سہارنپور ندوہ العلماء کشمیر میں اردو کے حوالے سے ہورہا کام اور مصنف حضرات جو یہ خدمات انجام دے رہے ہیں جموں میں مدارس دینیہ کے حوالے سے ایک بہترین خاکہ علوم اسلامیہ اور اردو زبان کے حوالے سے کچھ معلومات دارلعلوم بانڈی پورہ المصطفوی بارہمولہ یا کشمیر میں ہفتہ روزہ اخبارات یک ماہی رسائل و جرائد سہہ ماہی جرائد کے حوالے سے کافی معلومات کتاب ھذا میں موجود ہیں
قابل ذکر ہے کہ موصوف نے کہنہ مشق اساتذہ کے مضامین اس کتاب میں شائع کئے ہیں جن کی اردو ادب میں قابل رشک خدمات موجود ہیں اور ان صاحبان کے قلمی کاوشوں نے کتاب میں چار چاند لگا دئے ہیں
اللہ تعالی موصوف کی یہ خدمت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے لئے اس کتاب کو باعث خیر بنائے میں دلی طور پر موصوف کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے نا چیز کو اس کتاب کا ایک نسخہ عنایت کیا جو میرے لئے باعث فخر و مسرت ہے
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
