تازہ ترین
تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخابات کے لئے نہیں ایک مقصد کے لئے متحد ہونا وقت کی ضرورت:ڈاکٹرفاروق عبد اللہ
انڈیا،چین اور پاکستان کا مستقبل تاریک،جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں
غیر آ ئینی کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا
خبراردو:-
سرینگر: جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اورسابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہاہے کہ چین،انڈیا اور پاکستان کا مستقبل تاریک ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور تمام مسئلے بات چیت سے حل کئے جا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کے تشخص کو بچانے کے لئے غیر آئینی اور غیر قانونی کوششوں کا ڈٹ کر سبھی مقابلہ کریں گے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا سبھی پارٹیوں کو انتخابات کے لئے نہیں بلکہ ایک مقصد کے لئے ایک ہونا وقت کی ضرورت ہے۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق نے بتایاچین،پاکستان اور انڈیا کا مستقبل تاریک ہے۔انہوں نے کہا جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ بات چیت سے تمام مسئلے حل کئے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے بتایا جموں و کشمیر ڈیمو گرافی کوتبدیلی کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا،فاروق عبد اللہ کا کہنا تھا ہر غیر آئینی اور غیر قانونی کارروائی کا مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ان کارروائیوں کا سبھی پارٹیاں مل کر مقابلہ کریں گے۔اس دوران ڈاکٹر فاروق عبد اللہ سے پوچھا گیا ہے کہ نیشنل کانفرنس تمام سیای پارٹیوں کو ایک کرنے میں اپناکردار دا کرے گا۔ نہوں نے کہا ’میں صرف سب کا ایک چاہتاہوں،وہ بھی سب صرف انتخابات کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک مقصد کے لئے ہے‘۔انہوں نے کہا’ہم سب ایک ہیں، اس وقت سبھی سیاسی پاٹیوں کے لیڈرا ن کو انتخابات کے لئے متحدنہیں ہونا ہے، بلکہ ایک مقصد کے لئے مل کر کام کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے‘۔جب فاروق عبد اللہ سے پارٹی لیڈران کی گرفتاری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا’وہ وقت بھی گزر گیا ہے اور یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے‘۔انہوں نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مزید آزمائشوں میں نہ ڈالیں۔
جب فاوق عبد اللہ سے ایک سوال کیا گیا ہے ہکہ چین کے حالیہ کارروائی پر آپ کچھ کہیں گے تو ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے بتایا چین،پاکستان اور انڈیا کا مستقبل تاریک ہے انہوں نے کہا جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہئے اور بات چیت مں ہر مسئلے کا حل مضمر ہے۔نامہ نگار میر ارشد کے مطابق ڈاکٹرفاروق عبد اللہ جنوبی کشمیر کے ہوم شالی بھگ علاقے میں ان کے ایک ممبر اسمبلی عبد المجید لارمی کے گھر تعزیت پرسی کے موقعے کے پر کچھ میڈیا نمائندوں کے ساتھ غیر رسمی بات چیت میں اظہار خیال کر رہے تھے۔
جموں کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں یہاں عوامی سرکار گرنے کے بعد سے مکمل طور مفلوج تھی تاہم5اگست کے بعد سیاسی لیڈران کی گرفتاری اور جیلوں اور گھروں میں نظر بند رکھنے کے نتیجے میں ہر طرح کی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ 5اگست کے روز گرفتار اور کئی ماہ تک بند رہنے کے بعد رہے۔اس دوران گزشتہ دو روز سے وہ چند ایک تقریبات میں شریک ہوئے ہیں جہاں وہ گزشتہ روز سرینگر میں ایک آئس کریم دکان کا افتتاح کرنے گئے تھے۔اور آج کولگام میں تعزیت پرسی کے لئے پہنچے تھے۔خیال رہے یہ انکا جنوبی کشمیر میں ایک سال سے زیادہ وقفے کے بعد کا پہلادورہ ہے۔
دنیا
نیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
کٹھمنڈو، نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے حکام کے مطابق گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹنے کے بعد مٹی اور چٹانوں کا ایک وسیع تودہ ہمالیائی دریا میں جا گرا، جس کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں کم از کم 469 افراد ہلاک اور کم از کم 1,500 افراد لاپتہ ہیں۔
تباہ کن بھوٹی کوشی سیلاب نے نیپال اور تبت کے پہاڑی سرحدی علاقے کو اپنی زد میں لے لیا، جبکہ نیپال کے ضلع راسووا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جو چینی سرحد کے عین جنوب میں واقع ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ مکانات، پانی میں بہتی گاڑیاں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والا ایک دھاتی پل دکھائی دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سیلابی پانی نے پورے کے پورے دیہات کو اپنی زد میں لے لیا۔ امدادی اور تلاش کرنے والی ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پانی میں چلتے ہوئے متاثرین اور لاپتہ افراد کو تلاش کر رہی ہیں، تاہم کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں۔
حکام نے ابتدائی طور پر خیال ظاہر کیا تھا کہ بدھ کی صبح آنے والے سیلاب کی وجہ 4.4 شدت کا زلزلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم متعدد ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے تصدیق کی کہ ”زلزلاتی سرگرمی” دراصل گلیشیئر کے ٹوٹنے اور ملبے کے بہاؤ کا نتیجہ تھی، جس کے بعد دریا کے نچلے علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہوئے، نہ کہ زلزلے کی وجہ سے سیلاب آیا۔
گلیشیئر کا انہدام اس وقت ہوتا ہے جب برفانی تودے کا ایک بڑا حصہ اپنے بستر سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس میں بعض اوقات لاکھوں مکعب میٹر برف، چٹانیں اور پانی شامل ہوتے ہیں، جو انتہائی تیزی سے حرکت کرنے والے برفانی تودے یا ملبے کے بہاؤ میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کا انہدام گلیشیئر سائنس میں باقاعدہ طور پر متعین سائنسی اصطلاح نہیں، تاہم ایسے واقعات کو بیان کرنے کے لیے یہ اصطلاح عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ”گلیشیئر سے آنے والا سیلاب” لہینڈے کھولا دریا میں نیپالی جانب برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے باعث آیا۔ اتھارٹی کے ماہر ارضیات پرکاش پوکھرل نے بتایا کہ ابتدائی سیلابی ریلا لہینڈے کھولا میں داخل ہوا، جو آگے بھوٹی کوشی اور پھر تریشولی دریاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی پانی جنوب کی جانب نیپال میں پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق صرف 30 منٹ میں تریشولی دریا کی سطح میں تقریباً 9 میٹر (27 فٹ) تک اضافہ ہوا۔
جاری۔ یو این آئیْ۔ ع ا۔
ہندوستان
پوروانچل ایکسپریس وے پر روڈویز بس ستون سے ٹکرائی، ڈرائیور سمیت دو ہلاک، 26 زخمی
اعظم گڑھ، اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں پوروانچل ایکسپریس وے پر جمعرات کی دیر رات تیز رفتار روڈویز بس کے ستون سے ٹکرانے کے سبب بس ڈرائیور سمیت دو افراد کی موت ہو گئی، جبکہ کئی مسافر زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ایکسپریس وے کی ایمبولینس ٹیم موقع پر پہنچی اور راحت و بچاؤ کا کام شروع کیا۔
زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال سمیت آس پاس کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ کچھ زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق، بیلتھرا روڈ ڈپو کی روڈویز بس لکھنؤ سے بلیا جا رہی تھی۔ دیر رات پوی تھانہ علاقے میں پوروانچل ایکسپریس وے کے اسٹون نمبر 191 کے قریب بس کے آگے چل رہا پک اپ اچانک بے قابو ہو گیا۔
پک اپ کو بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑ گیا اور وہ ایکسپریس وے کے کنارے بنے گورکھپور لنک ایکسپریس وے کے ستون سے ٹکراگئی۔ حادثے میں بس ڈرائیور رجنی کانت (35)، ساکن مدھوبن، مئو اور ایک خاتون مسافر کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ حادثے کے بعد بس میں پھنسے مسافروں کو پولیس اور راحت رساں کارکنوں نے باہر نکالا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
حادثے میں زخمی مسافروں میں انجو برنوال (54)، ہرش برنوال (25)، سَویکا (18)، سنیتا (22)، نِتھانجلی یادو (16)، رمبھَا (38)، آنند (19)، شبھم شیکر (12)، روچی (3)، رودل (45)، پرنس یادو، گنسن (23)، انوشکا (18)، سشیل (41)، شویتا (22)، کوشل کشور دوبے (62)، بھگوتی (38)، انکیتا (20)، سِرشٹی (21)، گولو (15)، سنجو (17)، پرینکا شریواستو (36)، سواتی شریواستو (14)، برجیش چوہان (20)، نشا یادو (30)، ارملا (30)، نِتیاوتی دوبے (45)، ستیش موریہ (21)، اکھلیش تیواری (28)، پرتیما پرجاپتی (18)، شریا یادو (19)، پون کمار شریواستو (50)، شوانی (21) اور کملیش (45) شامل ہیں۔
تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ رویندر کمار سمیت ضلع کے کئی افسران اسپتال پہنچے اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کے کام میں کسی بھی طرح کی لاپروائی نہ برتنے کی ہدایت دی۔ پولیس نے حادثے کا شکار بس کو ایکسپریس وے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں حادثے کی وجہ پک اپ کے اچانک بے قابو ہونے اور اسے بچانے کی کوشش میں بس کا توازن بگڑنا بتایا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
