جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں ایس اے ایس سی آئی اسکیم پر ہنگامہ، پی ڈی پی کا سخت حملہ، بی جے پی کا واک آؤٹ
جموں،جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا پیر کا اجلاس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی کی لپیٹ میں آ گیا جب پی ڈی پی کے رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ساسکی اسکیم کے ذریعے جموں و کشمیر کو قرض کے جال میں دھکیل رہی ہے۔ پرہ کی تقریر پر نہ صرف این سی اراکین نے سخت ردعمل ظاہر کیا بلکہ ایوان میں شور شرابے کے مناظر دیکھنے کو ملے اور کارروائی کو مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی ملتوی کرنا پڑا۔
بحث کے دوران پی ڈی پی اور این سی کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا جبکہ دوسری طرف بی جے پی اراکین نے بھی احتجاج شروع کر دیا اور الزام لگایا کہ انہیں بجٹ بحث میں بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔ چند بی جے پی اراکین نے ایوان کے وسط کی طرف بھی بڑھنے کی کوشش کی مگر سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا، جس کے بعد بی جے پی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اپنی تقریر میں وحید پرہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ ساسکی کوئی فلاحی اسکیم نہیں بلکہ ایک خطرناک قرض منصوبہ ہے جس سے جموں و کشمیر کو ’صنعتی گھرانوں کے آگے رہن‘ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد این سی کو ریاست کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھاری مینڈیٹ ملا تھا مگر اس مینڈیٹ کو پورا کرنے کے بجائے حکومت پوری ریاست کو سرمایہ داروں کے ہاتھوں بیچنے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ پرہ نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم پر نظر ثانی کریں تاکہ جموں و کشمیر کو سری لنکا اور پاکستان جیسے معاشی بحران سے بچایا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے جواب دیتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اپوزیشن سیاسی تماشا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساسکی ترقیاتی معاونت کا فریم ورک ہے اور اپوزیشن بلاوجہ اسے قرض کا جال بتا رہی ہے۔ اسپیکر کی کرسی سنبھالے مبارک گُل مسلسل ایوان کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر ایوان کا ماحول بگڑتا گیا اور بالآخر کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔
رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے بجٹ بحث کے دوران یہ بھی کہا کہ گزشتہ مالی سال کے 1.40 لاکھ کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 40 ہزار کروڑ ریونیو اخراجات کے لیے مختص تھے جبکہ صرف 7,600 کروڑ روپے کیپیٹل اخراجات کے لیے تھے۔
ان کے مطابق مالی سال کے اختتام میں حکومت صرف 12 فیصد اخراجات خرچ کر پائی ہے اور درجنوں اہم پروجیکٹس میں اب تک کوئی خرچ نہیں دکھایا گیا۔ انہوں نے زرعی، باغبانی، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں مالی تعطل پر تشویش ظاہر کی۔
ساتھ ہی انہوں نے بے روزگاری کی بلند شرح کے پیش نظر 50 کروڑ روپے کی فیسوں کی واپسی کا مطالبہ بھی اٹھایا۔
رکنِ اسمبلی وحید الرحمان پرہ نے منشیات اورشراب کی کی بڑھتی وبا، تقریباً پانچ لاکھ افراد کے منشیات کے شکار ہونے اور کینسر کے بڑھتے واقعات کو ’خاموش سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سنگین مسئلے پر بھی خاموش ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی سے وابستہ 215 اسکولوں کی بندش سے 50 ہزار طلبہ کے متاثر ہونے پر بھی حکومت سے وضاحت مانگی اور قومی قانون یونیورسٹی کے لیے بجٹ میں کوئی رقم مختص نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کی۔
ایوان میں بڑھتی بد نظمی، پی ڈی پی اور این سی کے درمیان لفظی جنگ اور بی جے پی کے احتجاج نے ماحول کو مزید گرم کر دیا، جس کے باعث مبارک گُل نے کارروائی کو دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
