جموں و کشمیر
وراثتی زوال: کشمیری اخروٹ کی لکڑی سے بننے والی دستکاری خطرات کے سائے
سری نگر، سری نگر کے قدیم ترین علاقوں میں شمار کئے جانے والے اردو بازار، فتح کدل علاقے میں، جو آج بھی اپنی تہذیبی شناخت اور تاریخی وراثت کے باعث شہر خاص کی پہچان مانا جاتا ہے، اسی گنجان بستی میں ایک ایسا کاریگر آباد ہے، جس نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی شان سمجھے جانے والے اخروٹ کی لکڑی سے بننے والی دستکاری کے لئے وقف کر دی ہے۔
عبدالعزیز نامی یہ کاریگر گزشتہ ستر برسوں سے اسی فن کے ذریعے نہ صرف اپنا گھر چلا رہا ہے بلکہ کشمیر کی روایتی ہنرمندی کا علم بھی سربلند رکھے ہوئے ہے۔
عبدالعزیز نے اپنی جھریوں بھری آنکھوں میں وقت کی کہانیاں سمیٹے ہوئے یو این آئی کو بتایا: ‘آج کے بلوارڈ کی چمک دمک کو لوگ جتنا جانتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر چالیس سال قبل شہر خاص کی گلیاں مشہور تھیں’۔
انہوں نے کہا: ‘یہ علاقہ کبھی ہنر مندوں کی آماجگاہ تھا،یہاں ہر گلی میں کاریگر تھا، ہر دروازے کے پیچھے ہنر بستا تھا۔ اسی جہلم کے کنارے نہرو اور اندرا گاندھی بھی آئی تھیں۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ یہ علاقہ کتنی اہمیت رکھتا تھا’۔
ان کے مطابق پتھر مسجد جیسی تاریخی عبادت گاہ بھی اسی علاقے میں موجود ہے، جو اس محلے کی عظمتِ رفتہ کی خاموش گواہ ہے۔
عبدالعزیز بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے ہی اخروٹ کی لکڑی کے کام سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘میں بچپن سے ہی اس ہنر سے وابستہ ہوں، میرے ہاتھ آج بھی لکڑی کی رگوں کو پہچانتے ہیں، آری اور چھینی کی آوازیں میرے لیے موسیقی کا درجہ رکھتی ہیں’۔
وہ ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:’کبھی ہم اچھا خاصا کماتے تھے۔ اخروٹ کی لکڑی کا کام ایک عزت دار پیشہ تھا۔ لوگ اس میں محنت بھی کرتے تھے اور کمائی بھی ہوتی تھی۔ مگر اب… زمانہ بہت بدل گیا ہے’۔
عبدالعزیز کے مطابق کشمیر کا کاریگر اس وقت سخت پریشانی میں ہے۔
انہوں نے بتایا: ‘ایل جی منوج سنہا کے دور میں لاکھوں سیاح کشمیر آئے مگر پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی تعداد کم ہوگئی اور سب سے زیادہ نقصان کشمیر کے کاریگروں کو ہوا، جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فن سے وابستہ مزدوری اتنی کم ہو چکی ہے کہ نئی نسل اس پیشے کی طرف آنا ہی نہیں چاہتی۔
موصوف کاریگر نے کہا: ‘میں نے اپنے بچوں کو بھی سکھانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے صاف کہہ دیا—ابّا، اس میں محنت زیادہ ہے اور کمائی بہت کم ہے’۔
ایک انتہائی تشویشناک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے عبدالعزیز نے بتایا کہ کشمیر کے ہنر کو اصل دھچکا باہر سے آنے والی سستی اور مشین سے بنی چیزوں نے دیا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ‘چالیس سال پہلے مجھے سہارنپور جانے کو کہا گیا۔ وہاں مرد و خواتین بڑی تعداد میں اسی کام سے جڑے تھے، مگر فرق یہ تھا کہ وہ سب مشین سے کام کرتے تھے۔ آج کشمیر کے سیاحتی مقامات پر جو مال بک رہا ہے وہ زیادہ تر سہارنپور کا ہے، کشمیری نہیں’۔
ان کے مطابق اس صورتحال نے مقامی کاریگروں کے لیے معاشی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘سیاح سمجھ بھی نہیں پاتے کہ جو چیز انہیں ‘کشمیری’ کہہ کر دی جا رہی ہے وہ اصل میں باہر سے آئی ہوتی ہے۔ اس دھوکے کا نقصان ہم غریب کاریگروں کو ہو رہا ہے’۔
عبدالعزیز افسوس سے بتاتے ہیں کہ:’اب بھی کاش کہ آپ کو معلوم ہو کہ کشمیر میں بہت اچھے کاریگر موجود ہیں۔ لیکن جب مزدوری ہی نہ ملے تو ہنر کیسے زندہ رہے گا’۔
ان کے مطابق اخروٹ کی لکڑی کی دستکاری اب قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے،اس فن سے جڑے لوگ تیزی سے پیشہ تبدیل کر رہے ہیں،وارث نہ ہونے کی وجہ سے نئی نسل اس ہنر سے کٹ رہی ہے
ان کا ماننا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے چند سال میں کشمیری اخروٹ کی دستکاری صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گی۔
عبدالعزیز کی آواز میں امید کم اور تھکن زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت مقامی کاریگروں کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی دے،سہارنپور کے مال کی بھرمار روکنے کے لیے پالیسی بنائے،اصلی اور نقلی ‘کشمیری آرٹ’ میں فرق واضح کرنے کے لیے سرٹیفیکیشن سسٹم شروع کرے۔
اردو بازار کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا یہ عمر رسیدہ کاریگر صرف اخروٹ کی لکڑی نہیں تراشتا…وہ کشمیر کی تہذیب، روایت اور فن کو تراشتا ہے۔لیکن وقت کی رفتار، سستی درآمدی اشیاء اور کم ہوتی مزدوری نے اس فن کو زندہ رہنے کی آخری جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یو این آئی ۔ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
