جموں و کشمیر
کشمیر میں آبی بحران کا ابتدائی انتباہ، دریائے جہلم میں پانی کی سطح مارچ کے آغاز میں ہی غیر معمولی طورپر کم
سری نگر، دریائے جہلم میں پانی کی سطح مارچ کے پہلے ہفتے میں غیر معمولی طور پر کم ریکارڈ کی گئی ہے جسے ماہرین نے خطے کی آبی صورتحال اور مستقبل میں دھان کی کاشت کے لیے ایک تشویشناک اشارہ قرار دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کی صبح 9 بجے سنگم کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح منفی 0.86 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دریا زیرو گیج سطح سے بھی نیچے بہہ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سال کے اس حصے میں اتنی کم سطح پر دریا کا بہنا ایک غیر معمولی صورتحال ہے اور ماضی میں اس طرح کے واقعات بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال سردیوں کے دوران برفباری اور بارش نہ ہونے کے برابر رہی جس کے باعث پہاڑی علاقوں میں برف کا ذخیرہ انتہائی کم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ دریا میں بہنے والے پانی کی مقدار بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ عام طور پر وادی میں سردیوں کے اختتام اور ابتدائی بہار کے دوران دریا میں پانی کی سطح بڑھنے لگتی ہے کیونکہ پہاڑوں پر جمی برف پگھل کر دریا میں شامل ہوتی ہے۔ تاہم اس سال صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری کے مہینے میں وادی کشمیر میں غیر معمولی گرم موسم دیکھنے کو ملا اور کئی مواقع پر درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری سیلسیس تک زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس گرم موسم کے ابتدائی دنوں میں دریا کی سطح میں معمولی اضافہ ضرور ہوا اور پانی چند فٹ تک بڑھا، تاہم یہ اضافہ بہت مختصر مدت کے لیے تھا اور جلد ہی سطح دوبارہ کم ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں جب سردیوں یا ابتدائی بہار کے دوران اس نوعیت کی گرم لہریں وادی کو متاثر کرتی تھیں تو پہاڑوں پر موجود برف تیزی سے پگھلتی تھی اور اس کے نتیجے میں دریائے جہلم میں پانی کی سطح 5 سے 8 فٹ تک بڑھ جاتی تھی۔ لیکن رواں سال اس طرح کا اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں برف کا ذخیرہ معمول سے کہیں کم ہے۔
ماہرین نے اس صورتحال کو مستقبل کے لیے ایک ابتدائی انتباہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آنے والے ہفتوں میں بارش یا برفباری نہیں ہوئی تو وادی کی آبی صورتحال مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کا براہ راست اثر زرعی سرگرمیوں، خاص طور پر دھان کی کاشت پر پڑ سکتا ہے۔
وادی کشمیر میں دھان کی کاشت کا عمل عموماً اپریل اور مئی کے مہینوں میں شروع ہوتا ہے جب کسان نرسری تیار کرتے ہیں۔
اس مرحلے پر کسانوں کو زیادہ مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے جو عموماً دریاؤں، ندی نالوں اور نہروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ تمام آبی ذرائع زیادہ تر پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کے پانی پر منحصر ہوتے ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق اگر پانی کی دستیابی محدود رہی تو دھان کی نرسری کی تیاری اور ابتدائی بیج بونے کے مراحل متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف فصل کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ وادی کی زرعی معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ دھان کشمیر کی اہم فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو ابھی حتمی بحران نہیں کہا جا سکتا، تاہم اسے ایک ابتدائی انتباہ ضرور سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں موسم میں تبدیلی آتی ہے اور بارش یا برفباری میں اضافہ ہوتا ہے تو دریا میں پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے اور صورتحال کسی حد تک معمول پر آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال پر قریبی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر پانی کی قلت کا خطرہ بڑھتا ہے تو بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کسانوں کو بھی مشورہ دیا کہ وہ موسمی صورتحال اور آبی وسائل کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زرعی حکمت عملی ترتیب دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دریائے جہلم کی غیر معمولی کم سطح اس بات کی واضح علامت ہے کہ رواں سال وادی کی آبی صورتحال توقع کے مطابق نہیں رہی اور اگر آنے والے دنوں میں موسمی حالات بہتر نہ ہوئے تو اس کے اثرات زراعت سمیت مختلف شعبوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ۔ایف اے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
