تجزیہ
عالمی یوم خواتین:خواتین کے تئیں نظریہ بدلنے کی ضرورت
عالمی یوم خواتین پر خاص:عابد انور
پوری دنیا میں آٹھ مارچ کو بین الاقوامی یوم خواتین دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، سیمینار، مباحثے، مذاکرے، ورکشاپ دیگر پروگراموں کے ذریعہ خواتین کی صورت حال پیش کی جاتی ہے، خواتین کے حقوق کی باتیں زور و شور کی جاتی ہیں، ان کے وقار، ان کی عزت و آبرو اور احترام پر زور دیا جاتاہے،اس کے بعد پھرایک برس تک خواتین کے ساتھ نہ صرف نازیبا سلوک ہوتا ہے بلکہ ان کے تن سے کپڑے بھی اتارے جاتے ہیں، برہنہ پریڈ کرایاجاتا ہے اورعزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے طرح طرح کے بدترین سلوک کئے جاتے ہیں۔اس کے باوجود کہلانے والا مہذب معاشرہ خواتین کے تئیں حساس نہیں ہوتا۔ خواتین کے عالمی دن منانے کے ساتھ جب تک ہم اپنے نظریے میں تبدیلی نہیں لاتے یا اپنی ذہنیت نہیں بدلتے اس وقت تک اس سیمینار اور مباحثے اورمذاکرے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں تمام سطحوں پر خواتین کی عزت و آبرو اور وقار کی ضمانت دی جائے وہیں خواتین پر زور دیا جائے کہ وہ تہذیب کے دامن اور خواتین کے وقار کے خلاف ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی سزا دوسروں کوبھگتنی پڑے۔جب سے دنیا قائم ہے مرد کے ساتھ زن نے بھی اس دنیا کو سجانے سنوارنے میں یکساں کردار ادا کیا ہے۔ وہ تمام شعبہائے حیات میں اپنا کردار ادا کرتی آرہیں خواہ وہ پتھر کا زمانہ ہو یا لوہے کا یا مہذب دنیا۔آج خواتین نہ صرف حکمراں ہیں بلکہ سائنس، تکنالوجی، صنعت وتجارت اورسیاست ہر میدان میں اپنا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ 8مارچ دنیا میں خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی علامت بن چکاہے۔ یہ1914سے اس دن کے منانے کی شروعات ہوئی۔ آٹھ مارچ 1907کو نیویارک کے ملبوسات کی صنعت سے وابستہ چندخواتین نے تنخواہوں میں اضافہ اوربہترحالات کیلئے یہ جدوجہدشروع کی تھی۔نیویارک کی ان خواتین نے مطالبہ کیاتھاکہ دس گھنٹے کے کام کے عوض انہیں اس کے مطابق زیادہ تنخواہیں دی جائیں۔ان عورتوں پرگھوڑسوارپولیس نے لاٹھی چارج کیااورا ن زخمی عورتوں کوگھوڑوں کے پیچھے باندکر گھسیٹاگیا۔اس کے بعدسوئی سازی کی صنعت سے وابستہ عورتوں نے اپنے ووٹ کے حق اوربچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف1908 میں مظاہرہ کیا۔ایک سماجی کارکن کلارازٹیکسن نے1910ء میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سفارش کی کہ1907 اور1908میں اپنے حقوق کیلئے جدوجہدکرنیوالی عورتوں کی آوازمیں دنیابھرکی عورتوں کی آوازکوشامل کرنے کیلئے8مارچ کوعورتوں کاعالمی دن قراردیاجائے اوریہ دن ہرسال دنیابھرمیں منایاجائے۔ 1956ء میں سیاہ فام مزدوروں پرپابندی کے خلاف جنوبی افریقہ کی20ہزارعورتوں نے پیری کوریامیں زبردست مظاہرہ کیاجسکے بعدعورتوں کی آوازمیں کچھ طاقت پیدا ہوئی۔جس کااثریہ ہواکہ8مارچ کو اقوام متحدہ نے بھی خواتیں کے عالمی دن کے طورپرتسلیم کرلیا۔
اقوام متحدہ کے فنڈبرائے آبادی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر15سیکنڈبعدایک عورت تشددکانشانہ بنتی ہے۔برطانیہ میں یہ شرح8.7فیصدفی لاکھ اورجنوبی افریقہ میں 129عورتیں فی لاکھ ہے جودنیابھرمیں سب سے زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیابھرمیں 20فیصدخواتین مردوں کے تشددوزیادتی کا شکار ہیں امریکہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ کی عورتیں بدترین تشددمیں مبتلاہیں۔ہندوستان میں سالانہ6500سے7000خواتین کومحض اس لئے قتل کردیاجاتاہے کہ ان کے سسرال ان کو ملنے والے جہیزکوناکافی تصورکرتے ہیں۔ اس وقت دنیابھرمیں تقریباً4کروڑنوجوان خواتین کوفیملی پلاننگ کے محفوظ ذرائع دستیاب نہیں۔ ہرسال15سے 49 سال تک کی عمرکی تقریباً6لاکھ خواتین زچگی کے دوران مرجاتی ہیں۔ہرسال پانچ کروڑعورتوں میں سے اسقاط حمل کے مرحلے سے گزرتے ہوئے 78ہزارعورتیں انتقال کرجاتی ہیں۔جبکہ 40لاکھ خواتین اورلڑکیوں کوہرسال دنیابھرمیں عصمت فروشی کے دھندے میں دھکیل دیاجاتاہے۔ دنیابھرمیں عورتوں کوکام کرنے کامعاوضہ بہت کم دیاجاتاہے۔
دنیابھرمیں 7کروڑ سے زائدخواتین روزانہ بھوکی سوتی ہیں جن میں صرف انتہائی پسماندہ ممالک شامل نہیں ہیں۔ہرسال 80 لاکھ سے زائد عورتیں انسانوں کی خریدوفروخت کاشکارہوتی ہیں ان میں سے زیادہ ترکوکاروبار کے لئے عصمت فروشی کے لئے مجبورکیاجاتاہے۔
کسی بھی ملک نے مرد اور عورت کے درمیان قانونی خلا کو پر نہیں کیا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں مردوں کو حاصل قانونی حقوق کا صرف 64 فیصد خواتین کو حاصل ہے۔ زندگی کے بنیادی شعبوں میں، بشمول کام، پیسہ، حفاظت، خاندان، جائیداد، نقل و حرکت، کاروبار اور ریٹائرمنٹ – قانون منظم طریقے سے خواتین کو نقصان پہنچاتا ہے۔2026 کے خواتین کا عالمی دن، تھیم کے تحت، ‘حقوق، انصاف، کارروائی ہے۔ یہ تھیم تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے’، مساوی انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امتیازی قوانین، کمزور قانونی تحفظات اور نقصان دہ طرز عمل اور معاشرتی اصول جو خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔
تنازعات اور بحران کی وجہ سے رجعت پسندی کے خطرات کے ساتھ۔ نصف آبادی ہونے کے باوجود، خواتین کو مسلسل عدم مساوات کا سامنا ہے، جس میں مردوں کے لیے 80 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد افرادی قوت کی شرکت کی شرح، تشدد کی اعلیٰ سطح (3 میں سے 1) اور بہت سے ملکوں میں محدود قانونی حقوق شامل ہیں۔
عالمی سطح پر صنفی مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس قت کم کرنے کی رفتار ہے اور یہی صورت حال رہی تو مکمل صنفی مساوات حاصل کرنے میں تقریباً 123 سال لگ سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں دو ارب خواتین اور لڑکیوں کو کسی بھی قسم کی سماجی تحفظ (Social Protection) کی سہولت حاصل نہیں۔اندازہ ہے کہ 2030 تک 351 ملین (35 کروڑ) خواتین اور لڑکیاں شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہوں گی۔خواتین عالمی آمدنی کا صرف تقریباً 28 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔دنیا بھر میں پارلیمنٹ میں خواتین کی اوسط نمائندگی تقریباً 27.2فیصد ہے۔بہت سے ممالک میں ابھی تک کبھی بھی خاتون سربراہِ مملکت یا خواتین کی حکومت نہیں بنی۔اس کے علاوہ خواتین کے تئیں جرائم پر نظر ڈالیں تو دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک عورت اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔230 ملین سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں Female (خواتین کا ختنہ)Genital Mutilation جیسے نقصان دہ رواج کا شکار ہو چکی ہیں۔ تنازعات کے علاقوں میں خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، 5 میں سے 1 خاتون پناہ گزین کو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی کے ساتھ دنیا میں کم عمری کی شادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں تقریباً 19فیصد لڑکیاں 18 سال سے پہلے شادی کر لیتی ہیں۔دنیا میں امن کا دعوی کے باوجود دنیا میں 676 ملین خواتین اور لڑکیاں جنگی علاقوں کے قریب رہ رہی ہیں۔دنیا میں 2024 میں مردوں کے مقابلے میں 64 ملین زیادہ خواتین خوراک کی کمی کا شکار تھیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک 158 ملین مزید خواتین شدید غربت میں جا سکتی ہیں۔
کچھ پیشرفت کے باوجود، بہت سے شعبوں میں پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 25فیصد سے کم ہے اور کابینہ میں خواتین وزیر صرف 22فیصدہیں۔
ڈبلیو پی ایس انڈیکس 2025/26 ڈنمارک، آئس لینڈ اور ناروے کو خواتین کے لیے بہترین ممالک کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے، جبکہ دیگر خطوں کو حقوق کے حوالے سے سخت رکاوٹوں کا سامنا ہے۔خواتین کے تعلق سے افغانستان کو بدترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ عالمی ویمن پیس اینڈ سیکیورٹی انڈیکس (WPS انڈیکس) خواتین کی فلاح و بہبود پر 181 ممالک کا اسکور اور درجہ بندی کرتا ہے۔ یہ 13 اشارے استعمال کرتا ہے جو 0 (بدترین) سے 1 (بہترین) تک اسکور بنانے کے لیے خواتین کی شمولیت، انصاف اور سلامتی پر محیط ہے۔ رینکنگ میں ڈنمارک بدستور سرفہرست ہے جب کہ افغانستان کی کارکردگی بدترین ہے۔ڈبلیو پی ایس انڈیکس کے پانچویں ایڈیشن سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر خواتین کی حیثیت پر پیش رفت رک رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ تنازعات سے متاثرہ مقامات سے بہتری آسکتی ہے۔
اگرچہ خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں بڑی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ کامیابیاں مکمل طور پر معاشی مواقع میں تبدیل نہیں ہوئیں۔ خواتین کے انسانی سرمائے کو کم استعمال کیا جا رہا ہے، کیونکہ نگہداشت کی بلا معاوضہ ذمہ داریاں، پابندی والے سماجی اصول اور فنانس اور ڈیجیٹل ٹولز تک محدود رسائی جیسی رکاوٹیں افرادی قوت اور وسیع تر معیشت میں ان کی شرکت کو روکتی رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر، خواتین کی لیبر فورس میں شرکت 1990 سے اب تک 53 فیصد پر جمود کا شکار ہے۔ مردوں کے لیے 80 افیصد کے مقابلے۔ 710 ملین سے زیادہ خواتین کو خاندانی نگہداشت کے فرائض کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔
پورے ہندوستان میں صنفی عدم مساوات کے نتیجے میں غیر مساوی مواقع پیدا ہوتے ہیں اور جب کہ اس کا اثر دونوں جنسوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے، اعداد و شمار کے مطابق لڑکیاں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔
عالمی سطح پر لڑکیوں کی پیدائش کے وقت زندہ رہنے کی شرح زیادہ ہے، ترقی کے راستے پر چلنے کے امکانات زیادہ ہیں اور بالکل اسی طرح پری اسکول میں حصہ لینے کا امکان ہے، لیکن ہندوستان واحد بڑا ملک ہے جہاں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ مرتی ہیں۔ لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے کا بھی زیادہ خدشہ ہے۔
ہندوستان میں لڑکیاں اور لڑکے نوجوانی کا تجربہ مختلف طریقے سے کرتے ہیں۔ جبکہ لڑکے زیادہ آزادی کا تجربہ کرتے ہیں، لڑکیوں کو آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے اور ان کے کام، تعلیم، شادی اور سماجی تعلقات کو متاثر کرنے والے فیصلے کرنے کی صلاحیت پر وسیع پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جیسے جیسے لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے صنفی رکاوٹیں بڑھتی رہتی ہیں اور جوانی تک جاری رہتی ہیں جہاں ہم صرف ایک چوتھائی خواتین کو رسمی کام کی جگہ پر دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی خواندگی کی شرح تقریباً 70.3 فیصدجبکہ مردوں کی 84.7فیصد ہے۔اس طرح مرد و خواتین کی خواندگی میں تقریباً 14–17 فیصد کا فرق موجود ہے۔خواتین کی اوسط عمر تقریباً 76 سال جبکہ مردوں کی 73 سال ہے۔زچگی کے دوران اموات کی شرح 122 (2015-17) سے کم ہو کر 97 (2018-20) ہوگئی۔خواتین میں خون کی کمی (Anaemia) تقریباً 50فیصدکے قریب ہے۔ہندوستانی پارلیمنٹ میں خواتین کا تناسب تقریباً 13–14فیصد ہے۔وزارتی عہدوں میں خواتین کی شرح صرف 5–6 فیصد کے قریب ہے۔عالمی صنفی مساوات کے اشاریہ میں ہندوستان کا درجہ 131واں ہے۔
ہندوستان میں معاشی معاملے میں بھی خواتین کافی پسماندہ ہیں۔ خواتین کی لیبر فورس پارٹیسپیشن 2017-18 میں 23.3فیصد تھی جو بڑھ کر 41.7فیصد (2023-24) ہوگئی۔اس کے باوجود عالمی سطح پر خواتین کی معاشی شرکت میں ہندوستان کا درجہ بہت کم ہے (142/146)۔اکثر خواتین غیر رسمی یا کم تنخواہ والی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں اور مرد کے مقابلے خواتین کو 22-25فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ گھریلو تشدد قوانین کے باوجود خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد میں بہت کمی نہیں آئی ہے۔ تقریباً 31–32فیصد شادی شدہ خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔2022 میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4,45,000 سے زیادہ کیسز درج ہوئے۔اوسطاً روزانہ 80 سے زیادہ آبروریزی کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔خواتین تقریباً 78فیصدغیر محفوظ یا کم معیار کی ملازمتوں میں کام کرتی ہیں۔جو خواتین ملازمت نہیں کرتیں ان میں سے تقریباً 53 فیصدگھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے کام نہیں کر پاتیں۔ جب کہ مردوں میں یہ شرح صرف 1فیصد کے قریب ہے۔
کچھ ہندوستانی خواتین عالمی رہنما ہیں اور متنوع شعبوں میں طاقتور آوازیں ہیں لیکن ہندوستان میں زیادہ تر خواتین اور لڑکیاں پدرانہ نظریات، اصولوں، روایات اور ڈھانچے کی وجہ سے اپنے بہت سے حقوق سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
