ہندوستان
ہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو خارج کیا
نئی دہلی، ہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک کے ذریعے قائم کردہ نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا ہے کہ اس ادارے کا قیام معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے اور ہندستان نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔
ہندستان نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی رکھنے کا اس کا فیصلہ ابھی بھی موثر ہے۔
وزارتِ امورِ خارجہ نے ثالثی عدالت کے عبوری نظام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ ورلڈ بینک کے ذریعے قائم کردہ نام نہاد ‘کورٹ آف آر بٹریشن’ نے سندھ طاس معاہدے کے عبوری انتظامات اور صورتحال سے متعلق اپنا نام نہاد فیصلہ جاری کیا ہے۔ ہندستان اسے معاہدے کی شرائط کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کیے گئے ادارے کا حکم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر خارج کرتا ہے۔
وزارت نے کہا کہ ہندستان اس نام نہاد عدالت کو پہلے بھی سختی سے خارج کرتا رہا ہے اور اس کے سابقہ تمام فیصلوں کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔ ہندستان نے غیر قانونی طور پر قائم اس نام نہاد عدالت کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے اور مسلسل یہ موقف اپنایا ہے کہ اس مبینہ ثالثی ادارے کا قیام خود سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہندستان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس نے اس ادارے کے سامنے کبھی حاضری درج نہیں کرائی اور اس کے پہلے کے فیصلوں پر بھی کوئی نوٹس لینے سے انکار کیا ہے۔ اس نام نہاد کورٹ کو ہندستان کے خود مختار فیصلوں پر کسی بھی قسم کا فیصلہ سنانے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ امورِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس ادارے کے موجودہ یا مستقبل کے کسی بھی فیصلے کا ہندستان کے ذریعے چلائے جا رہے منصوبوں سے متعلق اس کے کاموں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وزارت نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی رکھنے کا اس کا فیصلہ ابھی بھی موثر ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
دفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
نئی دہلی، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ منگل کے روز یہاں عوامی شعبے کے 16 دفاعی اداروں کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لیں گے، جس میں نئی ملکی ٹیکنالوجی کو تیار کرنے اور برآمدات کو بڑھانے کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی جائے گی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا کہ اس پروگرام کے دوران سات اداروں – ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ، بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ، بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ، گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ، بی ای ایم ایل، اور مِِشر دھاتو نگم لمیٹڈ (مدھانی) کے چیف منیجنگ ڈائریکٹرز مالیاتی سال 26-2025 کے لیے حکومت کے ایکویٹی شیئرز کے منافع کے چیک دفاعی وزیر کو پیش کریں گے۔
اس موقع پر مسٹر سنگھ چار کتابوں کا اجراء کریں گے۔ ان میں ‘آتم نربھر رکشا اپکرم – آتم نربھرتا کی اور رکشا اپکرموں کی یاترا’، ‘دشا، رکشا پرودیوگکیوں ایوم آدھونک و نِرمانو پرکریاؤں کے بارے میں چھاتراؤں میں ویوہارک جاگروکتا کے لیے رکشا اپکرموں کی ایک پہل’، ‘ایچ اے ایل کا آدھونیکی کرن روڈ میپ’ اور ‘ایچ اے ایل کا سودیشی کرن روڈ میپ’ شامل ہیں۔
مالی سال 26-2025 میں عوامی شعبے کے اداروں کی کارکردگی قابلِ ستائش رہی ہے۔ ان کا کل کاروبار 1.29 لاکھ کروڑ روپے رہا، جو مالیاتی سال 25-2024 کے اعداد و شمار سے 15.4 فیصد زیادہ ہے۔ دفاعی شعبے کے اداروں نے 26-2025 میں 23,136 کروڑ روپے کا مجموعی بعد از ٹیکس منافع درج کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.6 فیصد کا اضافہ ہے۔ معلوم ہو کہ 26-2025 میں دفاعی اداروں نے گزشتہ مالیاتی سال کے مقابلے میں برآمدات میں 151.2 فیصد کا اضافہ حاصل کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور ازبکستان کے درمیان یورینیم کی سپلائی سے متعلق معاہدہ ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ ازبکستان کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان یورینیم کی سپلائی کے تعلق سے ہوا معاہدہ ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو ترویدی نے پیر کے روز یہاں مسٹر مودی کے دورہ ازبکستان پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے نامہ نگاروں سے کہا کہ ان کا ازبکستان کا دورہ تاریخی رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “پورا ملک جانتا ہے کہ تاشقند ہی وہ جگہ ہے، جہاں ہمارے سابق وزیرِ اعظم لال بہادر شاستری کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی تھی۔”
انہوں نے کہا کہ اس دور میں کئی ایسی طاقتیں بھی تھیں جو جوہری توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے خود انحصاری کی طرف بڑھتے قدموں کے حق میں نہیں تھیں۔ آج، تقریباً 60 سال بعد تاشقند کی اسی زمین سے مسٹر مودی نے ہندوستان کی توانائی سکیورٹی اور جوہری توانائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کی سمت میں یورینیم کی سپلائی کے تعلق سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ ہندوستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ یہ تبدیلی صرف ایک معاہدے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندوستان کی عالمی حیثیت اور اسٹریٹجک صلاحیتیں کیسے بدلی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسٹر مودی کے دورے کے دوران یورینیم کی سپلائی کے ساتھ ساتھ، 2030 تک تجارت کو موجودہ تقریباً ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، اہم معدنیات کی سپلائی کے تعلق سے بھی ایک اہم معاہدہ ہوا ہے۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان قدیم ثقافتی تعلقات کے نقطہء نظر سے مسٹر مودی کا یہ دورہ بے حد اہم رہا ہے۔ ازبکستان کے ترمذ علاقے میں بھگوان بدھ سے جڑے ورثے کے مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری ہندستانی آثارقدیمہ (اے ایس آئی) کی جانب سے لینا ہماری مشترکہ تہذیبی میراث کو نئی مضبوطی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران ازبکستان کی جانب سے مسٹر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازنا بھی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ صرف وزیرِ اعظم کا ذاتی اعزاز نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی عالمی ساکھ، پہچان اور قومی وقار کا احترام ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان اور برازیل نے 2030 تک 30 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کا ہدف مقرر کیا
نئی دہلی، ہندوستان اور برازیل نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو دوگنا کرکے 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہےبرازیل کے دارالحکومت برازیلیا میں منعقدہ بھارت-برازیل تجارتی نگرانی نظام (ٹی ایم ایم) کے آٹھویں اجلاس میں بھارت -برازیل اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے والے ادارہ جاتی ڈھانچے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک و اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے زیادہ متنوع، متوازن اور پائیدار شراکت داری کے ذریعے، بالخصوص دواسازی، کیمیکلز، انجینئرنگ مصنوعات اور مشینری کے شعبوں میں، 2030 تک باہمی تجارت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت وزارت تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال اور برازیل کی خارجہ تجارت کی سکریٹری تاتیانا لاسردا پرازیریس نے کی۔ راجیش اگروال نے برازیل کی حکومت میں ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات کے وزیر مارسیو الیاس روزا سے بھی ملاقات کی اور باہمی تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ترجیحی شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
بھارت اور برازیل کے درمیان باہمی تجارت میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں یہ تجارت 15.07 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے بھارت-مرکوسور کے حوالے سے طے شدہ شرائط پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ سال 2025 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت بھارت-مرکوسور باہمی تجارت کو 20.84 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بھارت-مرکوسور ترجیحی تجارتی معاہدے میں توسیع اور جدید کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اجلاس میں بھارتی دواسازی کی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بھارت نے زیادہ مستحکم ضابطہ جاتی طریقہ کار کی حمایت اور مارکیٹ تک وسیع رسائی کو آسان بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارت نے کہا کہ وہ سستی اور معیاری ادویات کی دستیابی میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور زیادہ قابل رسائی صحت خدمات کی فراہمی کی کوششوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا7 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان6 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا5 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
ہندوستان5 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا6 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
ہندوستان4 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر7 days agoبجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
