تازہ ترین
دفاعی شعبے میں 68 فیصد خریداری گھریلو کمپنیوں سے کی جائے گی
نئی دہلی، یکم فروری (یو این آئی) حکومت نے میک ان انڈیا کی بنیاد پر دفاعی شعبے میں خود کفیل ہونے (آتم نربھرتا) کی طرف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خریداری کے بجٹ کا 68 فیصد ملکی کمپنیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منگل کو لوک سبھا میں مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی کمپنیوں سے دفاعی شعبے میں فکسڈ پرچیز (متعینہ خریداری)بجٹ کا 68 فیصد حصہ خریدنے کا التزام کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نجی شعبے کی حصہ داری کو بڑھانے کے لیے بھی ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہےجس کے تحت بجٹ میں دفاعی تحقیق اور ترقی کے لیےمتعین الاٹمنٹ کی 25 فیصد رقم نجی شعبے کے ساتھ تعاون میں خرچ کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ اور اس کے تصدیق کے لیے ایک خود مختار ادارہ شکیل دیا جائے گا۔
دنیا
جزیرہ خارگ پر امریکی حملوں سے تیل کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی: ایران
تہران، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے پیر کو کہا کہ امریکی اسرائیل حملوں میں ایران کے جزیرہ خارگ کو کئی بار نشانہ بنایا گیا لیکن ان حملوں سے وہاں تیل کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی ہے۔
ایران کی قومی تیل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ جزیرہ خارگ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے اس اہلکار کے حوالے سے ٹرمپ کے تبصروں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ “بہت سے ٹھیکیدار اس وقت ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ خارگ جزیرے پر کوئی کام نہیں رکا ہے۔ کچھ منصوبے اس وقت 20 سے 30 فیصد مکمل ہو چکے ہیں اور ان پر کام جاری ہے۔
جزیرہ خرگ ایران کے لیے تیل کا ایک اہم مرکز ہے اور اس میں تیل ذخیرہ کرنے اور برآمد کرنے کی اہم سہولیات موجود ہیں۔ ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تناؤ بڑھ رہا ہے۔
اس سے قبل اتوار کی شب امریکی افواج نے ایران کے جزیرے لارک پر دو لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ جولائی کے اواخر سے ایرانی سرزمین پر یہ پہلا امریکی حملہ تھا۔
اس کے جواب میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور نے کہا کہ اس نے متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
جزیرہ خارگ حملوں کے حوالے سے ایران کا تازہ ترین بیان ایک ایسے وقت میں اہم ہے جب علاقائی تنازع تیل کی سپلائی اور توانائی کی عالمی منڈی کو متاثر کر رہا ہے۔ ایران اس سے قبل تیل کی تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باوجود پیداوار اور برآمدی سرگرمیاں جاری رکھنے کا دعویٰ کر چکا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران اور ہندوستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی، اسٹریٹجک تعاون بڑھانے کے امکانات موجود ہیں: پیزشکیان
بشکیک، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پیر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سائنسی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات ہیں اور پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر پیزشکیان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) چوٹی کانفرنس کے موقع پر وزیر اعظم مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی صدر نے حالیہ امریکہ اسرائیل جنگ کے دوران ایران کے ساتھ تعاون پر ہندوستان کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے آغاز سے ہی ایران کی پالیسی امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر مبنی ہے۔
مسٹر پیزشکیان نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ نے سفارتی ذرائع استعمال کرنے کے بجائے جنگ، عدم تحفظ اور طاقت کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی جنگ کا خیرمقدم نہیں کرتا اور اس کی ذمہ داری اپنے عوام کو خطرے اور عدم تحفظ سے بچانا اور امن، استحکام اور سلامتی کے حالات پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے معاہدوں کے تحت بقایا مسائل کے حل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پرعزم ہے لیکن امریکی فریق نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے اور باہمی افہام و تفہیم کے راستے پر گامزن رہے گا۔ جنگ جاری رکھنا ایران، امریکہ، خطے یا انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے۔
مسٹر پیزیشکیان نے کہا کہ عقلمندی اور منطق جنگ سے گریز اور جنگ کو روکنے کا تقاضا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں بعض گروہ جنگ جاری رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں لیکن امن کی حامی قوتوں کا عزم مضبوط ہونا چاہیے اور ہمیں امن، استحکام اور سلامتی کی طرف بڑھنا چاہیے۔ مسٹر مودی نے ملاقات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ہندوستان حالیہ مشکل حالات میں ایران کے ساتھ تعاون اور بات چیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
امن اور سلامتی کے بارے میں صدر پیزشکیان کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی شخصیت کے بارے میں ان کی سمجھ کی بنیاد پر وہ انہیں ایک امن پسند شخص سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایرانی صدر امن کے قیام میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مسٹر پیزشکیان کی کوششوں کے بالآخر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
مسٹر مودی نے ایرانی صدر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ جنگ میں اپنے مفادات دیکھتے ہیں، لیکن ہر کسی کو امن قائم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آخرکار امن اور سلامتی ہی غالب آئے گی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون میں حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے موجودہ صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ٹرانسپورٹ اور بحری تعاون، آبنائے ہرمز میں پیشرفت اور ایران کی چابہار بندرگاہ پر تعاون میں پیش رفت اس ملاقات کے اہم امور میں شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو خارج کیا
نئی دہلی، ہندستان نے سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک کے ذریعے قائم کردہ نام نہاد ثالثی عدالت کے عبوری حکم کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا ہے کہ اس ادارے کا قیام معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا ہے اور ہندستان نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔
ہندستان نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی رکھنے کا اس کا فیصلہ ابھی بھی موثر ہے۔
وزارتِ امورِ خارجہ نے ثالثی عدالت کے عبوری نظام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ ورلڈ بینک کے ذریعے قائم کردہ نام نہاد ‘کورٹ آف آر بٹریشن’ نے سندھ طاس معاہدے کے عبوری انتظامات اور صورتحال سے متعلق اپنا نام نہاد فیصلہ جاری کیا ہے۔ ہندستان اسے معاہدے کی شرائط کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کیے گئے ادارے کا حکم قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر خارج کرتا ہے۔
وزارت نے کہا کہ ہندستان اس نام نہاد عدالت کو پہلے بھی سختی سے خارج کرتا رہا ہے اور اس کے سابقہ تمام فیصلوں کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔ ہندستان نے غیر قانونی طور پر قائم اس نام نہاد عدالت کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے اور مسلسل یہ موقف اپنایا ہے کہ اس مبینہ ثالثی ادارے کا قیام خود سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ہندستان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس نے اس ادارے کے سامنے کبھی حاضری درج نہیں کرائی اور اس کے پہلے کے فیصلوں پر بھی کوئی نوٹس لینے سے انکار کیا ہے۔ اس نام نہاد کورٹ کو ہندستان کے خود مختار فیصلوں پر کسی بھی قسم کا فیصلہ سنانے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ امورِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس ادارے کے موجودہ یا مستقبل کے کسی بھی فیصلے کا ہندستان کے ذریعے چلائے جا رہے منصوبوں سے متعلق اس کے کاموں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ وزارت نے زور دے کر کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو ملتوی رکھنے کا اس کا فیصلہ ابھی بھی موثر ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
دنیا1 week agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان6 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا5 days agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
ہندوستان5 days agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
دنیا6 days agoنئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
-
دنیا1 week agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
-
ہندوستان4 days agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
