تازہ ترین
خلیج کے سبزہ زار اب سرسبز نہیں
سمیرہ بی ریشی

2008 میں جب خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آگئی تو دنیا بھر میں بنک بحران کا شکار ہوئے اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں محنت کش طبقہ بھی اس اثر سے نہ بچ سکا۔ تجارت کے تنزل سے پانی کی سطح پر پیدا ہونے والی ننھی ننھی لہروں کی مانند اس کا اثر پورے خلیج میں پڑگیا اور روزگار کا مارکیٹ متاثر ہونے سے قیمتیں آسمان کو چھو گئیں۔ بہت سارے لوگ جو نمکین سمندر پار کرکے خلیج پہنچ گئے اور وہاں موجود بہتات میںوسائل سے فائدہ اٹھانا چاہا لیکن پھنس گئے اور اب یہ مواقع اور جوکھم سے بھری سرزمین ان کے رہنے کیلئے باعث کشش نہیں رہی۔ گھر وہاں ہے جہاں دل ہو اور دل وہاں ہے جہاں آپ کی بنیادی ضرورتیں مطمئن کرتی ہوں۔ موجودہ منظرنامہ میں کام کرنے والے افراد گھر اور بیرون ملک کے درمیان سینڈ وچ کی مانند محسوس کرتے ہیں۔ کام کرنے والے افراد کیلئے ملک نے ٹیکس سے مستشنیٰ تنخواہ، روزگار کے وسیع مواقع اور زندگی بسرکرنے کیلئے اعلیٰ معیار مہیا رکھا تھا لیکن ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) متعارف کرنے سے محنت کشوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور VAT سے جائیداد سیکٹر میں غیر یقینی کا ماحول پیدا ہوگیا اور بروکر جے جے ایل مینا کے مطابق 2018میں اس میں کمی آنے کی امید ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام کی گہرائی سے کی گئی تحقیق کے مطابق خلیج میں زیادہ آزاد خیال اور اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کرنے والے متحدہ عرب امارات میں محنت کش طبقہ یا تو اپنی مرضی سے یا پھر دیگر وجوہات یا معیشت میں غیر یقینی کے سبب ملک چھوڑ رہے ہیں۔ زندگی گزارنے کیلئے آسمان کو چھوتی قیمتیں، افرادی قوت کو قومیانے اور لگاتار تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کام کرنے والے افراد وہاں سے نکل رہے ہیں۔
دراصل پورا خطہ گھبراہٹ میں غوطہ زن ہے اور محنت کش طبقہ متحدہ عرب امارات اس وجہ سے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہاں قیام پذیر رہنا کافی مہنگا ہوگیا ہے اور ملازمت کا عدم تحفظ ہے۔ حالات اس قدر ہیں کہ کام دینے والی کمپنیاں کم تنخواہوں پر ملازمین کو بھرتی کررہی ہیں اور وہ دن کب کے گزر گئے جب بھاری تنخواہیں دی جاتی تھیں جبکہ زیادہ تر کمپنیاں سمٹ رہی ہیں۔
بزنس عرب ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے ملک کی شرح کی ترقی کی گراوٹ 2015 میں 3.9سے 2016میں 2.4 ہونے کی بات کہی ۔ حالانکہ یو اے ای کی ترقی کی شرح دیگر خلیجی ممالک سے زیادہ ہے جس کاانحصارتیل پر ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کا جی ڈی پی 2016میں 0.8فیصد کی امید تھی۔خطہ میں اقتصادی مندی کا اثر پورے خلیج میں دیکھا جاسکتا ہے اور یو اے ای اس سے کیسے مستشنیٰ رہتا۔ ہنر مند محنت کش طبقہ نےتیل اورگیس، بینکنگ یا مالیاتی سیکٹر میںکام کیا ہے، اب روزگار کے بازار کی حالت ڈھانوا ڈھول ہے، ایک دفعہ جب نوکری چلی گئی تو چشم زدن میں نئی نوکری ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ قریب 40لاکھ بیرون ملک کے لوگ 260,000 نجی کمپنیوںمیں کام کررہے ہیں۔
غیر ملکی کام کرنے والوں کی بھاری تعداد کی آمد سے اقتصادی ترقی میں اضافہ 70کے اوائل کی دہائی میں تیل کی آمدن کے ساتھ منسوب کی جاسکتی ہے۔ تیل کی دریافت کے بعد مقامی مزدوروں سے ضرورت پوری نہیں ہوسکتی تھی اس لئے غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت پڑ گئی۔ برسوں سے اقتصادی ترقی کا دارومدار بغیر تیل کے سیکٹر اورکم اجرتوں کے غیر ملکی مزدوروں پر ہے جن کی کم تنخواہیں ہیں جو ایشیائی ممالک سے تعلق رکھتے ہیںجہاں مزدوروں کی بہتات ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے متحدہ عرب امارات اعلیٰ معیار حیات اور نوکریاں ڈھونڈنے کیلئے عارضی مزدوروں کی پسندیدہ جگہ بن گئی ہے ۔اقوام متحدہ کے مطابق 2013میں یو اے ای میں دنیا کا پانچواں بین الاقوامی مہاجر محنت کش طبقہ جوکُل آبادی 9.2ملین میں 7.8ملین تھا اور اس اعداد و شمار کے مطابق امارتیوں کی تعداد11فیصدتھی۔ اکثر ان مہاجر مزدوروں کا تعلق بھارت، بنگلہ دیش، پاکستان، فلپائن، سری لنکا اور نیپال سے ہے اور یہ تعداد یو اے ای کے نجی افرادی قوت کا90فیصد ہے۔ سیاسی استحکام، جدید بنیاڈی ڈھانچہ اوور اقتصادی ترقی کے سبب متحدہ عرب امارات اب اعلیٰ اور ادنی ہنرمندمہاجر محنت کشوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کیلئے پوری طرح سے غیر ملکی محنت کشوں پر منحصر ہے اور کام کرنے والے افراد ماضی میں اونچی تنخواہوں اور اعلیٰ معیار زندگی کی خاطر کھیچے چلے آتے تھے۔ 70کی دہائی کے اوائل میں جب پیٹرولیم کا بازار پھل پھول رہا تھا اور پیٹرو ڈالر کی بازاروں پر حکمرانی تھی، یو اے ای حکومت نے عارضی کام کرنے کا پروگرام متعارف کرایا جسے ’کفالہ سپانسرشپ نظام‘ کہا گیا اوراس نظام کے تحت نجی کمپنیاں غیر ملکی محنت کشوں کی خدمات حاصل کرتے تھے۔ کفالہ ’سپانسرشپ‘ نظام کے تحت بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عربیہ اور متحدہ عرب امارات (متحدہ طور پر ’دی گلف کوآپریشن کونسل یا (GCC)کام کرنے والے افراد مالکوں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے، وہ نوکریوں کو چھوڑ نہیں سکتے یا کچھ معاملات میں وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر ملک بھی نہیں چھوڑ سکتے جبکہ کئی محنت کشوں کے پاسپورٹ بھی وہ اپنے قبضے میں رکھتے ، حالانکہ یہ غیر قانونی ہے۔
روزگار کا بازار ا لڑکھڑانے کے باوجود بھی متعدد لوگ یو اے ای میں اپنی قسمت آزمانے کیلئے جاتے ہیں،کثیر عوام کیلئے من پسند منزل ۔ ۔۔ خلیج فارس اب چمک دھمک کھو بیٹھا ہے۔ وقت اب بدل چکا ہے، کمپنیاں اب ان لوگوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں جو کم تنخواہ مانگے اور زیادہ کام کریں، اگر آپ نہیں تو اور لوگوں کو اونے پونے داموں کے عوض نوکریاں دی جائینگی۔محنت کشوں (ہنرمند یا غیر ہنرمند) کیلئے خوابوں کی منزل یو اے ای اب آنے والوں کیلئے دعوت دینے والا نہیں رہا جبکہ اس کی اب اتنی چمک دھمک نہیں رہی۔ اپنے گھروں کوچھوڑ کربہتر زندگی کی تلاش میں دور خلیج فارس میں وہ مکمل طور پر ناامید محسوس کررہے ہیں۔ اشیائے ضروریہ کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے سبب محنت کش طبقہ اپنی ضروریات پوری نہیں کرپاتا ہے اور وہ خوابوں کی منزل کو چھوڑ رہے ہیں۔ محنت کشوں کے آنے اور جانے کے سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں تاہم ایک امیگریشن سروس فرم ’فریگامون‘ کے مطابق 2015اور 2016کے درمیان ریذڈنسی ویزا منسوخ کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔ فرم کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2015میں 31فیصدجبکہ 2016میں48فیصد ویزا منسوخ کئے گئے۔
فرم کے مطالعہ کے مطابق کچھ صنعتوں میں لوگوں کے چلے جانے سے یو اے ای بازار اب سست اور تعطل کا شکار ہوگیا ہے جبکہ نئے آنے والے ان کی جگہ لیتے ہیں۔2016کے پہلے اوائل میں بھرتی عمل 2فیصد پر اَٹک گئی اور اگر تیل کی قیمتیں فی بیرل55ڈالر تک پہنچ جاتیں تو 2017میں یہ 2سے 3فیصد بڑھنے کی امید تھی ، گیس اور تیل سیکٹروں کا خاتمہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔
گذشتہ2برسوں کے دوران تیل سے جڑے افرادی قوت میں50سے60فیصد کمی آئی ہے لیکن اس سے منسلک خدمات میں گزشتہ برس بہتری ہوئی ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ بنکنگ میں بھی 2016میں افرادی قوت 10سے 15فیصد تک سکڑ گئی ہے اور مینوفیکچرنگ، تیل اور گیس خدمات میں بھی کام کرنے والوں کی تعداد میں2سے3فیصد کم ہوئی ہے۔ یو اے ای میں اشتہاری ایجنسی ’مرفی ایڈس‘ کے مطابق اشیائے خوردنی، کاشتکاری ، ایروناٹیکل اینڈ ٹیکنالوجی سیکٹر بہتر کام کررہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے آئیل اینڈ گیس، تعمیرات اور اس سے منسلک صنعتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ابو دہبی کی نیشنل آئیل کمپنی (ADNOC) کو 2016کے آخر میں55ہزار عملے میں سے 5ہزار کی کمی کرنا پڑی۔ قطر میں’ قطر پیٹرولیم ‘ نے امسال 1ہزار غیر ملکی کام کرنے والوں کو نکال دیا جبکہ ٹی وی چینل الجزیرہ نے اپریل میں امریکہ میں نشر ہونے والی چنل کے500عملے کو نکال دیا جن میں سے اکثریت دوحہ میں تھی۔
یو اے ای میں بازار سکڑ اور سمٹ رہا ہے لیکن کمپنیاں بیرون ملک کے کام کرنے والوں کی خدمات حاصل کررہی ہیں اور یہ رجحان متواتر جاری ہے۔ بھرتی کرنے والی ویب سائٹ Bayt.com نے کہا ہے کہ یو اے ای میں26فیصد نے کنزیومر کانفڈنس انڈکس سروے کاردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ2016میں ملک کی معیشت بہتر ہوئی ہے جبکہ 48فیصد کو امید ہے کہ اس میںمزید بہتری آئے گی۔ بازار کے چند ماہرین کو امید ہے کہ دوبئی ایکسپو2020وہ کنجی ہے جس میں روزگار میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔یو اے ای میں منعقد ہونے والی اس زبان زد عام تقریب سے تعمیری پروجیکٹوں کو بڑھاوا ملنے سے 277,000 نئی نوکریاں بننے میںمدد مل جائیگی۔
تاہم ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں بڑے پیمانے پر محنت کشوں کے چلے جانے کا یقین نہیں ہے، ان میں دبئی میں ایک بانی گروپ ’رادھا سٹرلنگ ‘ ہے۔ سٹرلنگ کے مطابق ، ان کے گروپ کو ابھی تک یہ اطلاع نہیں ملی ہے کہ Expats یو اے ای چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لوگ متحدہ عرب امارات کو چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ گھر جاکر وہاں کی حالت اس سے بھی بدتر ہے اور کچھ حد تک سٹرلنگ کاکہنا بھی ٹھیک ہے۔ گھرجاکر وہاں نوکریاں ملنا آسان نہیں ہے لیکن کشمکش جاری رہتی ہے اور وہی لوگ زندہ رہتے ہیں جن میں صلاحیت ہوتی ہے، یہ ڈارون کا اصول ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یو اے ای میں رہنے والے لوگوں کیلئے ماحول اچھا اور محفوظ ہے لیکن لوگوں اور خاص کر محنت کش طبقہ میں روزگار کی ضمانت پر موجود خدشات ان کے ذہنوں میں گھوم رہے ہیں۔ آج کا دن گزر گیا لیکن آنے والے کل کے بارے میں بے چینی ہوتی ہے۔ یو اے ای کی کمپنی میں ایک کام کرنے والے نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں یہاں بہت خوش ہوں، مجھے کمپنی کی طرف سے رہائش میسر ہے اور اچھی بچت بھی ہوتی ہے لیکن کل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، وہ کسی بھی وقت مجھے نکال کر دوسرے شخص کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں‘۔
سارا خان ہر روز گھر سے رسمی لباس ، کھلے بال اور اچھا میک اپ کرکے نکلتی ہے، جونوکری کیلئے ضروری ہے اور وہ اچھا خاصا کماتی ہے اور یو اے ای میں وہ خوش ہے۔ تاہم اسے آنے والے دنوں کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ سارا خان کی آنکھوں میں عجیب خوف ہے اور ہر ایک دن اس کیلئے نیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے 3بجے مجھے اطمینان ہوتا ہے کہ میری نوکری محفوظ ہے لیکن اگلے دن برطرفی کے ڈراونے خواب جیسے سایہ کی طرح موجود ہے، گھر کی واپسی پر وہاں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔
تمام غیر یقینیت اورکمزور معیشت کے باوجود بھی طبی شعبہ ترقی کررہا ہے۔ دبئی میں ڈاکٹروں کی بھرتی کرنے والی باڈی کے سی ای او کنیز نباجی کے مطابق 2014اور 2016کے درمیان اس کے کام میں50فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس اضافہ کی وجہ حکومت کا شعبہ صحت کی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری ہے اور نئے ہسپتال اور کلنک تعمیر ہو رہے ہیں۔ انگلینڈ، امریکہ اور بھارت سے ڈاکٹروں کیلئے یو اے ای دل لبھانے والی تنخواہیں اور مراعات فراہم کرتا ہے۔ بھارت کے زیادہ سے زیادہ لوگ متحدہ عرب امارات میں تجارت کرنے کے خواہاں ہیں۔ انڈین بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل (IBPC)کے صدر کلونت سنگھ کے مطابق متحدہ عرب امارات کچھ بھارتی تاجروں کیلئے آخری نقطہ ہے اور 2016میں ممبر شپ 10سے12فیصد بڑھ گئی ہے۔ عربین بزنس ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’میں جانتا ہوں کہ معیشت لڑکھڑا رہی ہے لیکن یہ دنیا بھر کا معاملہ ہے، اگر آپ کسی ملک سے نکل جائینگے تو دوسری جگہ پر آپ کی حالت اس سے بدتر ہوگی‘۔
تمام مشکلات اور پُرخطر روزگار کے بازار ، ہنرمند اور غیر ہنر مند افراد ،مواقع کی اس سرزمین یہاں پھر بھی آتے ہیں اُسی طرح جس طرح ایک پیاسا کوا پیاس بجھانے کیلئے باغ میں گیا۔ اس وقت خلیج میں حالات مختلف ہیں، تیل کی قیمتوںمیں غیر یقینی اور امارات نے روزگار میں عدم تحفظ بنایا ہے، اس سے ان کے خواب تباہ کئے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ جہاں سے وہ آئے ہیں، وہ وہی چلے جائیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
