تازہ ترین
مشرق وسطی تنازعہ:شام کا راز بے نقاب
مونس شاہ
مشرقی غوطہ جو ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف ہے اور جو 2102 سے متعدد دہشت پھیلانے والے گروپوں کے گھیرے میں ہے ، اس وقت ذرائع ابلاغ میں چھایا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ کے معاملہ پر بین الاقوامی براداری کا گہری نیند سے جاگنا اچھا ہے، اگرچہ کافی دیر سے ہی سہی۔ ایسا ہی وہ اُس وقت بھی کرسکتے تھے جب غیر ممالک کی پشت پناہی کے100اقوام کے دہشت گردوں نے 2012میں مشرقی غوطہ کو قبضہ میں لے لیا۔ قلیل تعداد میں لوگوں کومشرقی غوطہ میںان برسوں کے دوران عام شہریوں کی پُر آشوب صورتحال پر تشویش تھی جب دہشت گردوں نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ مشرقی غوطہ کے حالات پر سینہ پیٹنے والے اُس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کے سرقلم کرتے، عصمت دری کرتے اورمعصوموں کو خون میں نہلاتے اور اب یہ اچانک مشرقی غوطہ کے عوام کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں جب عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے، انہوں نے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لایا ۔
انہوں نے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا جب دمشق میں عام شہریوں کی ہلاکت کیلئے دہشت گرد مارٹل شل، میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کررہے تھے۔
انہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شامی عربی فوج اور دیگر اتحادیوں نے مشرقی غوطہ کو انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کیلئے حملے شروع کئے۔ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مغربی میڈیا نے پروپگنڈہ مہم شروع کی کہ یہ مشرقی غوطہ میں شہریوں کیخلاف حملہ ہے۔ انہوں نے شہ سرخیاں جیسے ” محاصرہ میں پھنسا مشرقی غوطہ پر حملہ“ بنانی شروع کیں حتی کہ یہ جانے بغیر کہ دہشت گردوں نے پچھلے 6 برسوں سے علاقہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی رویہ اپنا یاجو انہوں نے الیپو کو دسمبر 2016 میں آزاد کرانے کیلئے اپنایا تھا۔ وہ وہی پروپگنڈا دہرا رہے ہیں کہ شامی فوج اور اتحادی بچوں، خواتین کو قتل کررہی ہیں اور کیمیائی حملہ کررہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں قتل عام ہونے کی بہت ساری تصاویر مختلف ذرائع ابلاغ میں تقسیم کی گئیں اور یہ تصاویر جنگ سے تباہ یمن، غزا ، عراق ، مصر، روہنگیا، منگولیا کی تھی جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تاکہ شامی حکومت کیخلاف بیرونی فوجی مداخلت کی جائے۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام عائد کرتے ہوئے شامی افواج پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیوں کیمیائی حملہ کرے گی جب انہوں نے انکی حمایت کی اور لوگوں نے دہشت گردوں کیخلاف نفرت کااظہار کیا جنہیں مشرقی غوطہ میں ایک لمبے عرصہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔
شامی افواج نے مشرقی غوطہ کا 70فیصد حصہ غیر ملکوں کے پشت پناہی والے تخریب کاروں سے دوبارہ حاصل کیا ہے ، وہ جیتنے کی حالت میں ہے اور وہ کیوں اس جیت کو ختم کرسکتے ہیں؟ دہشت گرد عام شہریوں کو وہاں سے جانے نہیں دیتے اور محفوظ راہداری پر گولہ باری کرتے ہیں جو شامی اور اتحادی افواج نے بنا ئی ہے لیکن نام نہاد انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے دہشت گردوں کی بربریت اور انسانیت سوز عوامل کو دیکھ نہیں پاتے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کو 2ذرائع سے ،ایک وائٹ ہیلمٹس(White Helmets)، جو اپنے آپ کو شام کا سول ڈیفنس اور دوسرا انسانی حقوق پر نظرگزر رکھنے والی نام نہاد تنظیم Syrian Observatory for Human Rights (SOHR) سے شام کے حالات و اقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ وائٹ ہیلمٹس کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادیوں سے فنڈ ملتے ہیں ۔ پروپگنڈا مواد حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور وہ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں شامی افواج کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائسٹس (Syrian Observatory for Human Rights) کلی طور پر ایک ہی آدمی آرام دہ کمرے میںبرطانیہ میں چلا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شام کی تارہ ترین صورتحال سے اسے کارکن آگاہ کرتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد کارکن بیرون ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی بربریت اور قتل عام کی تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات نہیں پہنچاتے۔
وہ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں تاکہ شامی افواج کے آپریشن کیخلاف دنیا سے حمایت حاصل کرسکے اور اس طرح ان دہشت گردوں کو بچایاجائے۔ آلہ کاروں کی بدولت شام میں دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ ان کی خاطر پروپگنڈا چلائے، کارپوریٹ میڈیا کا تعلق صرف روپے سے ہے۔ جب آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کارپوریٹ میڈیا کومطیع بنا کر انہیں وائٹ ہیلمٹ اور نام نہاد سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی دھنوں پر نچا سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے راکٹ سائنس نہیں ہے جو ہالی وڈ فلموں میں ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ جیسے وہ حقیقی زندگی میں سچ ہو۔ 2016میں الیپو کو آزاد کرنے کے دوران مصر میں ایسا ہی سٹیڈیو بے نقاب کیا گیا جہاں ایسے مناظر بنائے جاتے تھے کہ الیپو میں خونریز ی ہورہی ہو اور جس کا مقصد اس علاقہ کو آزاد کرانے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
یہ بالکل بدقسمتی ہے کہ مغربی میڈیا ان علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتیں جو دہشت گردوں سے آزاد کئے گئے ہوں جیسا کہ الیپو۔ الیپو کو آزاد کرنے کی مہم کے دوران کسی بھی مغربی میڈیا نے الیپو کے لڑکے امران دقنیش سے انٹرویو نہیں کیا ، جسے وائٹ ہیلمٹ نے جھوٹے طریقہ سے پروپگنڈا مواد کیلئے استعمال کیا تھا ۔
اس کے والد محمد دقنیش نے ظاہر کیا کہ اس کے بیٹے کو زبردستی نارنگی رنگ کی ایمبولنس میں ڈالا گیا تاکہ اسے شامی ہوائی حملہ میں زخمی کے طورپر دکھایا جائے جو کہ مکمل طور پر جھوٹ ہے ۔دہشت گردوں کے قبضہ سے حال ہی میں آزاد کئے گئے الیپو میں مغربی میڈیا کیوں نہیں جاتا اور لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے؟ انہوں نے الیپو کو بھول کر اب مشرقہ غوطہ کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے چیخنے اورچلانے پر یقین کرنے کی وجوہات یہ ہے کہ انہیں شام میں لوگوں کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی فکر ہے جن پر انہوں نے کروڑوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں اس حقیقت کا اقرار کرتا ہوں کہ شام میں بے گناہ عام شہری مارے جاتے ہیں، جب کہیں پر تنازعہ ہوتا ہے تو دونوں طرف کے نقصان کوٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جب امریکی ، اسرائیلی اور ناٹو کے ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد آپ کے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور اس دوران کچھ شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے کہتا ہوں کہ تمام تکنیکوں کو بروئے کار لاکر کسی بھی قیمت پر عام شہریوں کو بچایا جائے۔
شام کے صدر بشار الاسد نے 2011 میں شروع ہونے والے بحران سے قبل کچھ غلطیاں کی ہونگی لیکن یہ شام کے تنازعہ شروع ہونے کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ انہیں اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور عرب کے کٹپتلی حکمرانوں کے منشاء کے مطابق احکامات کو نہیں مانتا تھا اور فلسطین کاز کا حامی تھا۔ ان ممالک نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ انہیں حکومت سے گرا کر وہاں پر اپنے من پسند لیڈر کو لایا جا سکے۔ انہوں نے دہشت پھیلانے والے گروپوں کی پشت پناہی اور مالی مدد فراہم کی جنہوں نے سارے شام میں موت اور تباہی پھیلا دی۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند شامیوں کو بشارالاسد سے نفرت ہوگی لیکن یہ ساری آبادی نہیں ہے، یہ تمام ممالک میں عام ہے۔ کسی ملک کا سربراہ تمام لوگوں کو پسند نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو اپنے لیڈروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے بشارالاسد کو ایک خونخوار حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ عالمی برادری کی حمایت سے انہیں حکومت سے بے دخل کیاجاسکے۔
اگر ہم اس دلیل سے اتفاق کرینگے کہ نام نہاد ’اعتدال پسند باغی‘ وہاں جمہوریت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے لیکن شہریوں کے سروں کو قلم کرنے، عصمت دری اور عام شہریوں کو تہہ تیغ کیوں کیا گیا؟ کچھ لوگوں نے اس تنازعہ کو مسلکی رنگ دیا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ شامی افواج میں75فیصد سنی اہلکار ہیں اور وہ اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بشارالاسد سے محبت کرتے ہیں۔ شام میں ایران اور روس کے ابھرنے سے امریکہ، اسرائیل اور GCC کی گھناونی سازشیں خاک میں مل گئیں اور غیر ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی طرف سے تباہی اور موت کو روکا گیا۔ شامی افواج، ایران، روس اور حزب اللہ کے مزاحمتی محور نے امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور عرب کٹپتلیوں کی بری نیتوں کوناکام بنایا۔
ایران اور حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے خدمات میسر کیں تاکہ ایران اور لبنان سمیت تمام خطہ کو اس آگ سے بچایا جاسکے اور انہوں نے اپنے علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی اس دہشت کے شگوفہ کو ہی کچل ڈالا۔ ان کی مزاحمت کے سبب فلسطین کازبرقرار رہا اور عظیم اسرائیل کامنصوبہ زمین بوس ہوگیا۔ علاوہ ازیں انہوںنے تمام مذاہب کے مقامات کو محفوظ کیا جنہیں دہشت گرد تباہ کرسکتے تھے۔
مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ کا دستاویز امریکہ اور اسرائیل لکھتا ہے، وہ اپنے مفادات کی خاطر خاص حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ جس طرح سے شام میں پیش آئے حالات کو توڑ مروڑ کر ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ،اس کا مقصد عام شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ ذرا غور کیجئے! کیا ان ذرائع ابلاغ کی دکانوں نے اسی طرح جوش و جذبے کے ساتھ یمن ، بحرین، فلسطین، افغانستان، پاکستان، لیبیا، روہنگیا، عراق ، نائجیریا اور دنیا کے دیگر خطوں میںکئے گئے قتل عام کی تشہیر کی؟ انہوں نے عراق اور شام میں امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو اجاگر نہیں کیا۔ کوئی جنوبی شام کے عفرین میں ترک افواج کی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ (hashtags) نہیں پھیلا رہا ہے۔جب عام شہریوں کی زبوں حالی اور تباہی کی بات آتی ہے تو ان کے پروپگنڈہ مہم میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کا ادراک کرینگے، یہ دنیا میں امن کیلئے بہتر ہوگا۔
مصنف مشرق وسطی کیلئے سیاسی تجزیہ نگار ہے اور ان سے monisshah4u@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
