تازہ ترین
مشرق وسطی تنازعہ:شام کا راز بے نقاب
مونس شاہ
مشرقی غوطہ جو ملک کے دارالحکومت دمشق کی طرف ہے اور جو 2102 سے متعدد دہشت پھیلانے والے گروپوں کے گھیرے میں ہے ، اس وقت ذرائع ابلاغ میں چھایا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ کے معاملہ پر بین الاقوامی براداری کا گہری نیند سے جاگنا اچھا ہے، اگرچہ کافی دیر سے ہی سہی۔ ایسا ہی وہ اُس وقت بھی کرسکتے تھے جب غیر ممالک کی پشت پناہی کے100اقوام کے دہشت گردوں نے 2012میں مشرقی غوطہ کو قبضہ میں لے لیا۔ قلیل تعداد میں لوگوں کومشرقی غوطہ میںان برسوں کے دوران عام شہریوں کی پُر آشوب صورتحال پر تشویش تھی جب دہشت گردوں نے ظلم و جبر کے تمام ریکارڈ مات کئے۔ مشرقی غوطہ کے حالات پر سینہ پیٹنے والے اُس وقت کہاں تھے جب دہشت گرد لوگوں کے سرقلم کرتے، عصمت دری کرتے اورمعصوموں کو خون میں نہلاتے اور اب یہ اچانک مشرقی غوطہ کے عوام کے خیرخواہ بن گئے ہیں۔ مشرقی غوطہ میں جب عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے تھے، انہوں نے ایک لفظ بھی زبان پر نہیں لایا ۔
انہوں نے کبھی تشویش کا اظہار نہیں کیا جب دمشق میں عام شہریوں کی ہلاکت کیلئے دہشت گرد مارٹل شل، میزائل اور دیگر ہتھیار استعمال کررہے تھے۔
انہوں نے اس وقت آواز اٹھائی جب شامی عربی فوج اور دیگر اتحادیوں نے مشرقی غوطہ کو انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کیلئے حملے شروع کئے۔ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے ساتھ ہی مغربی میڈیا نے پروپگنڈہ مہم شروع کی کہ یہ مشرقی غوطہ میں شہریوں کیخلاف حملہ ہے۔ انہوں نے شہ سرخیاں جیسے ” محاصرہ میں پھنسا مشرقی غوطہ پر حملہ“ بنانی شروع کیں حتی کہ یہ جانے بغیر کہ دہشت گردوں نے پچھلے 6 برسوں سے علاقہ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے وہی رویہ اپنا یاجو انہوں نے الیپو کو دسمبر 2016 میں آزاد کرانے کیلئے اپنایا تھا۔ وہ وہی پروپگنڈا دہرا رہے ہیں کہ شامی فوج اور اتحادی بچوں، خواتین کو قتل کررہی ہیں اور کیمیائی حملہ کررہی ہے۔ مشرقی غوطہ میں قتل عام ہونے کی بہت ساری تصاویر مختلف ذرائع ابلاغ میں تقسیم کی گئیں اور یہ تصاویر جنگ سے تباہ یمن، غزا ، عراق ، مصر، روہنگیا، منگولیا کی تھی جو سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی تاکہ شامی حکومت کیخلاف بیرونی فوجی مداخلت کی جائے۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے مشرقی غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام عائد کرتے ہوئے شامی افواج پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں کیخلاف کیوں کیمیائی حملہ کرے گی جب انہوں نے انکی حمایت کی اور لوگوں نے دہشت گردوں کیخلاف نفرت کااظہار کیا جنہیں مشرقی غوطہ میں ایک لمبے عرصہ سے یرغمال بنایا گیا ہے۔
شامی افواج نے مشرقی غوطہ کا 70فیصد حصہ غیر ملکوں کے پشت پناہی والے تخریب کاروں سے دوبارہ حاصل کیا ہے ، وہ جیتنے کی حالت میں ہے اور وہ کیوں اس جیت کو ختم کرسکتے ہیں؟ دہشت گرد عام شہریوں کو وہاں سے جانے نہیں دیتے اور محفوظ راہداری پر گولہ باری کرتے ہیں جو شامی اور اتحادی افواج نے بنا ئی ہے لیکن نام نہاد انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے دہشت گردوں کی بربریت اور انسانیت سوز عوامل کو دیکھ نہیں پاتے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ کو 2ذرائع سے ،ایک وائٹ ہیلمٹس(White Helmets)، جو اپنے آپ کو شام کا سول ڈیفنس اور دوسرا انسانی حقوق پر نظرگزر رکھنے والی نام نہاد تنظیم Syrian Observatory for Human Rights (SOHR) سے شام کے حالات و اقعات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ وائٹ ہیلمٹس کو امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادیوں سے فنڈ ملتے ہیں ۔ پروپگنڈا مواد حاصل کرنے کیلئے وہ دہشت گردوں کے زیر اثر علاقوں میں دیکھے جاسکتے ہیں اور وہ دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں اور انہیں شامی افواج کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائسٹس (Syrian Observatory for Human Rights) کلی طور پر ایک ہی آدمی آرام دہ کمرے میںبرطانیہ میں چلا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شام کی تارہ ترین صورتحال سے اسے کارکن آگاہ کرتے ہیں لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ نام نہاد کارکن بیرون ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی بربریت اور قتل عام کی تازہ صورتحال کے بارے میں معلومات نہیں پہنچاتے۔
وہ دہشت گردوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں تاکہ شامی افواج کے آپریشن کیخلاف دنیا سے حمایت حاصل کرسکے اور اس طرح ان دہشت گردوں کو بچایاجائے۔ آلہ کاروں کی بدولت شام میں دہشت گرد اعلیٰ تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کیلئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ ان کی خاطر پروپگنڈا چلائے، کارپوریٹ میڈیا کا تعلق صرف روپے سے ہے۔ جب آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کارپوریٹ میڈیا کومطیع بنا کر انہیں وائٹ ہیلمٹ اور نام نہاد سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی دھنوں پر نچا سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے راکٹ سائنس نہیں ہے جو ہالی وڈ فلموں میں ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ جیسے وہ حقیقی زندگی میں سچ ہو۔ 2016میں الیپو کو آزاد کرنے کے دوران مصر میں ایسا ہی سٹیڈیو بے نقاب کیا گیا جہاں ایسے مناظر بنائے جاتے تھے کہ الیپو میں خونریز ی ہورہی ہو اور جس کا مقصد اس علاقہ کو آزاد کرانے میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔
یہ بالکل بدقسمتی ہے کہ مغربی میڈیا ان علاقوں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتیں جو دہشت گردوں سے آزاد کئے گئے ہوں جیسا کہ الیپو۔ الیپو کو آزاد کرنے کی مہم کے دوران کسی بھی مغربی میڈیا نے الیپو کے لڑکے امران دقنیش سے انٹرویو نہیں کیا ، جسے وائٹ ہیلمٹ نے جھوٹے طریقہ سے پروپگنڈا مواد کیلئے استعمال کیا تھا ۔
اس کے والد محمد دقنیش نے ظاہر کیا کہ اس کے بیٹے کو زبردستی نارنگی رنگ کی ایمبولنس میں ڈالا گیا تاکہ اسے شامی ہوائی حملہ میں زخمی کے طورپر دکھایا جائے جو کہ مکمل طور پر جھوٹ ہے ۔دہشت گردوں کے قبضہ سے حال ہی میں آزاد کئے گئے الیپو میں مغربی میڈیا کیوں نہیں جاتا اور لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے؟ انہوں نے الیپو کو بھول کر اب مشرقہ غوطہ کا ڈرامہ شروع کیا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے چیخنے اورچلانے پر یقین کرنے کی وجوہات یہ ہے کہ انہیں شام میں لوگوں کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ ان دہشت گردوں کی فکر ہے جن پر انہوں نے کروڑوں پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ میں اس حقیقت کا اقرار کرتا ہوں کہ شام میں بے گناہ عام شہری مارے جاتے ہیں، جب کہیں پر تنازعہ ہوتا ہے تو دونوں طرف کے نقصان کوٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جب امریکی ، اسرائیلی اور ناٹو کے ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد آپ کے ملک کی سالمیت پر حملہ کرتے ہیں تو آپ کو اپنے ملک کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور اس دوران کچھ شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔ میں بھرپور طریقے سے کہتا ہوں کہ تمام تکنیکوں کو بروئے کار لاکر کسی بھی قیمت پر عام شہریوں کو بچایا جائے۔
شام کے صدر بشار الاسد نے 2011 میں شروع ہونے والے بحران سے قبل کچھ غلطیاں کی ہونگی لیکن یہ شام کے تنازعہ شروع ہونے کی اصل وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجوہات اور ہیں۔ انہیں اس وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور عرب کے کٹپتلی حکمرانوں کے منشاء کے مطابق احکامات کو نہیں مانتا تھا اور فلسطین کاز کا حامی تھا۔ ان ممالک نے تمام وسائل بروئے کار لائے تاکہ انہیں حکومت سے گرا کر وہاں پر اپنے من پسند لیڈر کو لایا جا سکے۔ انہوں نے دہشت پھیلانے والے گروپوں کی پشت پناہی اور مالی مدد فراہم کی جنہوں نے سارے شام میں موت اور تباہی پھیلا دی۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چند شامیوں کو بشارالاسد سے نفرت ہوگی لیکن یہ ساری آبادی نہیں ہے، یہ تمام ممالک میں عام ہے۔ کسی ملک کا سربراہ تمام لوگوں کو پسند نہیں ہوتا، دنیا میں لوگوں کو اپنے لیڈروں سے اختلاف ہوتا ہے۔ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے بشارالاسد کو ایک خونخوار حکمران کے طور پر پیش کیا تاکہ عالمی برادری کی حمایت سے انہیں حکومت سے بے دخل کیاجاسکے۔
اگر ہم اس دلیل سے اتفاق کرینگے کہ نام نہاد ’اعتدال پسند باغی‘ وہاں جمہوریت کا قیام عمل میں لانا چاہتے تھے لیکن شہریوں کے سروں کو قلم کرنے، عصمت دری اور عام شہریوں کو تہہ تیغ کیوں کیا گیا؟ کچھ لوگوں نے اس تنازعہ کو مسلکی رنگ دیا حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ شامی افواج میں75فیصد سنی اہلکار ہیں اور وہ اپنی زندگیوں سے بھی زیادہ بشارالاسد سے محبت کرتے ہیں۔ شام میں ایران اور روس کے ابھرنے سے امریکہ، اسرائیل اور GCC کی گھناونی سازشیں خاک میں مل گئیں اور غیر ممالک کی پشت پناہی والے دہشت گردوں کی طرف سے تباہی اور موت کو روکا گیا۔ شامی افواج، ایران، روس اور حزب اللہ کے مزاحمتی محور نے امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور عرب کٹپتلیوں کی بری نیتوں کوناکام بنایا۔
ایران اور حزب اللہ نے شام میں اسرائیلی حمایت یافتہ ٹیومر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے خدمات میسر کیں تاکہ ایران اور لبنان سمیت تمام خطہ کو اس آگ سے بچایا جاسکے اور انہوں نے اپنے علاقوں تک پہنچنے سے قبل ہی اس دہشت کے شگوفہ کو ہی کچل ڈالا۔ ان کی مزاحمت کے سبب فلسطین کازبرقرار رہا اور عظیم اسرائیل کامنصوبہ زمین بوس ہوگیا۔ علاوہ ازیں انہوںنے تمام مذاہب کے مقامات کو محفوظ کیا جنہیں دہشت گرد تباہ کرسکتے تھے۔
مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ کا دستاویز امریکہ اور اسرائیل لکھتا ہے، وہ اپنے مفادات کی خاطر خاص حکمرانوں کی حمایت اور مخالفت کرتے ہیں۔ جس طرح سے شام میں پیش آئے حالات کو توڑ مروڑ کر ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ،اس کا مقصد عام شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی مدد کرنا تھا۔ آپ ذرا غور کیجئے! کیا ان ذرائع ابلاغ کی دکانوں نے اسی طرح جوش و جذبے کے ساتھ یمن ، بحرین، فلسطین، افغانستان، پاکستان، لیبیا، روہنگیا، عراق ، نائجیریا اور دنیا کے دیگر خطوں میںکئے گئے قتل عام کی تشہیر کی؟ انہوں نے عراق اور شام میں امریکی فضائی حملوں میں مارے گئے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو اجاگر نہیں کیا۔ کوئی جنوبی شام کے عفرین میں ترک افواج کی طرف سے مارے جانے والے لوگوں کو بچانے کیلئے ہیش ٹیگ (hashtags) نہیں پھیلا رہا ہے۔جب عام شہریوں کی زبوں حالی اور تباہی کی بات آتی ہے تو ان کے پروپگنڈہ مہم میں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ جتنی جلدی ہم اس حقیقت کا ادراک کرینگے، یہ دنیا میں امن کیلئے بہتر ہوگا۔
مصنف مشرق وسطی کیلئے سیاسی تجزیہ نگار ہے اور ان سے monisshah4u@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
