تازہ ترین
ریاستی سرکار کا ’دی اینڈ ‘،بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ توڑا اتحاد
سری نگر ریاستی سیاست میں منگلوار کو اُس وقت بھونچال آگیا جب مخلوط حکومت میں شامل بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لیتے ہوئے ریاست سے لے کر نئی دہلی تک سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقدہ اہم میٹنگ میں فیصلہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست میں مخلوط حکومت کے ساتھ محو سفر رہنا اب بی جے پی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
پارٹی کے سینئر لیڈر اور جنرل سیکرٹری رام مادھو نے میڈیا کو بتایا کہ بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ اشتراک صرف اس وجہ سے عمل میں لایا تھا تاکہ وادی میں امن و قانون کی صورتحال میں بہتری آئے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان طے پاچکے ایجنڈا آف الائنس میں بنیادی نقطہ یہ تھا کہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتیں ریاست کے تینوں خطوں میں امن وخوشحالی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ تینوں خطوں میں ترقی کو فروغ دیں۔
اس دوران پی ڈی پی صدر اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہر کو پیش کیا جس کے فوراً بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی ہائی کمان کا اعلیٰ سطحی اجلاس اپنی سرکاری رہائش گاہ پر طلب کیا۔ کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منگلوار دوپہر اُس وقت سیاسی سطح پر ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی جب مخلوط حکومت کی اتحاد جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لیتے ہوئے سیاست کی گلیاروں میں ہلچل مچادی۔
ذرائع نے بتایا کہ بی جے پی کی اہم میٹنگ منگلوارکو پارٹی صدر امت شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پارٹی کی ریاستی یونٹ کو قبل از وقت مدعو کیا گیا تھا۔ میٹنگ میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت جن میں پارٹی صدر امت شاہ، جنرل سیکرٹری رام مادھو کے علاوہ ریاستی یونٹ کے ذمہ داروں اور بی جے پی وزرا کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ میں ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال زیر بحث رہنے کے علاوہ پارٹی کی زمینی سطح پر کارکردگی پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اس دوران ریاستی یونٹ سے وابستہ بی جے پی ممبران نے پارٹی ہائی کمان کو ریاست کی زمینی صورتحال سے واقف کراتے ہوئے کئی اہم نکات کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ میٹنگ میں آخر پر بہ اتفاق رائے یہ طے پایا کہ ریاست کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے رہی۔میٹنگ کے اختتام پر بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے میڈیا کو بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت کا حصہ بننا اب بی جے پی کے لیے ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وادی کی بگڑتی سیکورٹی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھارتی جنتا پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مخلوط حکومت سے اپنی حمایت واپس لے گی۔ رام مادھو نے بتایا کہ مخلوط حکومت سے حمایت واپس لینے کا فیصلہ پارٹی ہائی کمان، ریاست کی بی جے پی یونٹ کے ذمہ داروں کے ساتھ تفصیلی صلاح و مشورہ کے بعد ہی لیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو خیر باد کہنے کے فیصلے میں ہر کسی کے ساتھ گفت و شنید کی جاچکی ہے اور نئی دہلی سے لے کر ریاست جموں وکشمیر تک پارٹی سے وابستہ سیاسی قائدین کو قبل از وقت اعتماد میں لیا جاچکا ہے ، بی جے پی وزرا ریاستی گورنر کو اپنے فیصلہ سے آگاہ کرنے کے علاوہ جلد ہی کابینی منصب سے استعفیٰ پیش کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ بھاریہ جنتا پارٹی ریاست میں گورنر رول کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر بھارت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے لہٰذا ہم نے فیصلہ لیا ہے کہ ریاست میں اقتدار کی باگ ڈور گورنر کے ہاتھوں میں دی جائے۔
اس دوران پی ڈی پی صدر اور ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہر کو پیش کیا جس کے فوراً بعد محبوبہ مفتی نے پارٹی ہائی کمان کا اعلیٰ سطحی اجلاس اپنی سرکاری رہائش گاہ پر طلب کیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ریاستی کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی جانب سے حمایت واپس لینے کے فوراً بعد اپنا استعفیٰ ریاستی گورنر این این ووہرا کو پیش کیا جبکہ موصوفہ نے منگلوار سہ پہر کو پارٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس طلب کیا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ موصوفہ نے اپنی رہائشی گاہ واقع گپکار پر پارٹی لیڈران کی ایمرجنسی میٹنگ طلب کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ مخلوط حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر یکساں رائے نہ ہونے کی وجہ سے مختلف اُمورانجام دینے میں دشواریاں پیش آرہی تھیں۔پی ڈی پی کے سینئر لیڈر پیر منصور نے بتایا کہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کے درمیان مختلف معاملات کو لے کر الگ الگ رائے تھی جس کے ہوتے ہوئے حکومت کو مزید چلانا سخت دشوار بن چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال میں پی ڈی پی کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ مزید کام کرتی۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی کے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کیوں کہ بی جے پی کے ساتھ مختلف معاملات کو لے کر تلخیاں چلی آرہی تھی۔یاد رہے بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان 2014میں اتحاد قائم ہوا تھا تاہم 3سال اور 3ماہ کے بعد دونوں پارٹیوں کے راستے الگ الگ ہوگئے ۔KNS
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
سری نگر، بی جے پی کے اننت ناگ ضلع جنرل سکریٹری عابد ننگرو کے خلاف جموں و کشمیر پولیس نے سرکاری ملازمت دلانے اور امرناتھ یاترا کے دوران پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت دلانے کے نام پر مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور فراڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کی شکایت پر تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اسے وحید احمد ایتو، عیشمقام، جو فی الحال جی ڈی سی بوائز ہاسٹل، خانہ بل میں مقیم ہیں، کی جانب سے تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ کرندی گام، بیج بہارا کے عابد ننگرو نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا۔
پولیس کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے شکایت کنندہ کو یہ یقین دلا کر اپنے جال میں پھنسایا کہ وہ محکمہ پولیس میں ایس پی او (اسپیشل پولیس آفیسر) کی حیثیت سے اسے سرکاری ملازمت دلوا سکتا ہے اور اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی مدد سے شری امرناتھ جی یاتریوں کے لیے پہلگام میں خیمے لگانے کی اجازت بھی دلوا سکتا ہے۔
شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ ان یقین دہانیوں اور دعووں کی بنیاد پر اس سے مجموعی طور پر 8,25,000 روپے لے لیے گئے۔
شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں بی این ایس کی دفعات 318(4) اور 351(3) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
اننت ناگ پولیس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ دھوکہ دہی، فراڈ یا سرکاری ملازمت یا دیگر سرکاری فوائد دلانے کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے لوگوں کا استحصال کرنے میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو رکشا بندھن کے موقع پر عوام کو دلی مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ یہ ۔تہوار تمام شہریوں کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رکشا بندھن کو محبت اور مضبوط انسانی رشتوں کی علامت قرار دیا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’رکشا بندھن پر دلی مبارکباد۔ یہ تہوار آپ سب کی زندگیوں میں خوشی، خوشحالی اور کامیابی لائے۔‘‘
وزیر اعظم نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ لوگوں کے درمیان محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کے رشتے مضبوط اور پائیدار رہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’محبت، اپنائیت اور باہمی اعتماد کا دھاگا ہمیشہ اٹوٹ رہے، یہی میری دلی خواہش ہے۔‘‘
رکشا بندھن، جسے عام طور پر راکھی کے نام سے جانا جاتا ہے، پورے ہندستان میں محبت، خیال اور تحفظ کے رشتے کی عکاسی کرنے والے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، خاص طور پر بھائی بہن کے درمیان۔
بہنیں روایتی طور پر اپنے بھائیوں کی کلائی پر راکھی کے نام سے معروف مقدس دھاگا باندھتی ہیں، جبکہ بھائی اپنی بہنوں کی مدد اور حفاظت کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔
یہ تہوار خاندانوں اور برادریوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے، جہاں لوگ تحائف، مٹھائیاں اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہوئے محبت، اعتماد، اتحاد اور باہمی احترام کی پائیدار اقدار کا جشن مناتے ہیں۔
یو این آئی، ایم جے
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
