دنیا
ایرانی سیکیورٹی چیف لاریجانی روس پہنچ گئے: پوتن سے ملاقات
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کے روز صدارتی محل کریملن میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی سے غیر اعلانیہ اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سینئر مشیر لاریجانی کو گزشتہ سال اگست میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد ماسکو کا دورہ کیا تھا۔
کریملن نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ “صدر نے کریملن میں ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی کا استقبال کیا، جو روس کے دورے پر ہیں”۔
بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔
روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے بعد میں کہا کہ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس میں “اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مشاورت” شامل تھی۔
یہ دورہ امریکہ کی جانب سے اس ماہ کے شروع میں مسٹر لاریجانی پر حکومت مخالف مظاہروں کو پرتشدد دبانے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ہوا ہے جو دسمبر کے آخر سے ایران میں پھیلے ہوئے ہیں۔
ایران نے معاشی شکایات کی وجہ سے پیدا ہونے والی بدامنی کو غیر ملکی حمایت یافتہ بغاوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ بیرونی ایجنٹوں نے ریاست کے سخت ردعمل کو بھڑکانے اور امریکی مداخلت کا جواز پیش کرنے کے لیے فسادیوں کو مسلح کیا۔ مسٹر پوتن نے اس ماہ کے شروع میں اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان کے ساتھ ایک فون کال میں بدامنی پر تبادلہ خیال کیا۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مظاہروں کے عروج پر ایران کے خلاف تعزیری حملوں کا حکم دینے کے قریب پہنچ گئے۔ اگرچہ اس نے حتمی فیصلہ موخر کر دیا ہے لیکن اس نے ایک بحری بیڑہ خطے میں بھیج دیا ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جوہری معاہدے کے نئے مطالبات تسلیم کرے۔
امریکی فوجی منصوبہ بندی فعال ہے۔ میڈیا رپورٹس میں انتظامیہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ حکومت مخالف مظاہروں کو دوبارہ بھڑکانے کے مقصد سے ایرانی سیکورٹی فورسز اور جوہری تنصیبات پر حملوں سے لے کر عہدیداروں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ کی جانب سے پچھلے اقدامات کے مقابلے “بہت زیادہ شدید” حملے کے انتباہ کے بعد، ایران نے “اپنا دفاع کرنے اور جوابی کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔” جیسے جیسے دونوں فریق خطے میں فوجی مشقوں کی تیاری کر رہے ہیں، اشتعال انگیزی اور کسی بھی ممکنہ غلطی کے خلاف انتباہات بلند ہو رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
نئی دہلی، ایران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اجازت عراقی حکومت کی اپیلوں کے بعد دی گئی اور یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورہ عراق کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 103 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 89 جہاز باہر نکلے۔تاہم اس کے باوجود بحری آمدورفت جنگ سے قبل سات روزہ اوسط کا صرف تقریباً 20 فیصد رہی۔
اس عرصے میں زیادہ تر جہاز پاناما اور لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے، جبکہ کسی امریکی پرچم والے جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آمدورفت میں سب سے بڑا حصہ پروڈکٹ ٹینکروں کا تھا، جو عموماً ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کرتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز کے راستے 15 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 5 ملین بیرل تیل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “اس میں کوئی شک نہیں، امریکی بحریہ کی بدولت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
جمعہ کی شب ہونے والی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے موزوں حالات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں: قالیباف
تہران، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔”
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:”امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔”
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ “حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف “کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی” شروع کر دی ہے اور اسے “اقتصادی ڈی ڈے” اور “بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح “ناکام” ثابت ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عراقی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی: صدر نجار عمیدی
بغداد، عراقی صدر نجار عمیدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے عراقی سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے اندر سے خطے کے کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مسٹر عمیدی نے بغداد ڈائیلاگ کانفرنس کے آٹھویں ایڈیشن کے دوسرے دن کہا کہ عراق میں صرف “دو یا تین” مسلح گروہ ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ ہتھیار ریاستی کنٹرول میں ہونے چاہئیں، اور نجف میں مذہبی اتھارٹی بھی اسی کا مطالبہ کرتی ہے۔”
مسٹر عمیدی نے کہا کہ تمام فریق عراق کو خطے میں جاری جنگ میں گھسیٹنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعہ کے اثرات “ہمارے ملک کے لیے بہت سخت” رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف عراق بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغداد آبنائے کے پیچیدہ مسائل پر ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
مسٹر عمیدی نے کہا کہ عراقی تیل لے جانے والے کئی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ چاہتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
