تازہ ترین
ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے
عاصم محی الدین
مجوزہ آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 کو ایک معمولی قانونی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے چند نکات میں وضاحت لانے اور عدالتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہے۔ لیکن اگر اس پردے کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ایک مختلف اور کہیں زیادہ سنگین حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ بل دراصل ایک خاموش آئینی قبضہ ہے، جو اصلاحات کے نام پر عدلیہ میں فوجی اثر و رسوخ کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے۔
مارشل لا سے قانون کی حکمرانی تک کا بدلتا چہرہ
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے وقت کے ساتھ یہ سیکھ لیا ہے کہ براہِ راست اقتدار پر قبضہ اب پہلے جیسا ممکن نہیں رہا۔ مارشل لا، اسمبلیوں کی تحلیل، یا آئین کی معطلی جیسے اقدامات اب داخلی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کرتے ہیں۔ دنیا اب یہ منظر قبول نہیں کرتی کہ کوئی جنرل دن دہاڑے بندوق کے زور پر اقتدار سنبھال لے۔ چنانچہ اب طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے۔ اب اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے ٹینکوں کے بجائے ترمیمی بل استعمال کیے جاتے ہیں۔ اب قبضہ بندوق سے نہیں، بلکہ قلم اور پارلیمنٹ کے دستخط سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو یہ اسی خاموش اور بتدریج پیش قدمی کا آخری مرحلہ ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت — ایک نیا ادارہ، ایک نیا نظام
اس ترمیم کا سب سے اہم پہلو ایک نئے ادارے، وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کا قیام ہے۔ اس کے تحت آئین کی کئی اہم دفعات میں “سپریم کورٹ” کی جگہ “وفاقی آئینی عدالت” کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔ ان دفعات میں آرٹیکل 63اے، جو اراکینِ پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق ہے، آرٹیکل 68 جو عدالتی ضابطہ بیان کرتا ہے، اور آرٹیکل 42 جو صدرِ مملکت کے حلف سے متعلق ہے، شامل ہیں۔
یہ آخری تبدیلی بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ اس کے بعد صدرِ مملکت ریاستِ پاکستان کے بجائے “وفاقی آئینی عدالت” کے سامنے وفاداری کا حلف اٹھائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صدر کی وفاداری ایک مخصوص عدالتی ادارے کی جانب منتقل ہو جائے گی، جو ابھی تشکیل ہی کے مرحلے میں ہے۔ گویا ریاست کا سربراہ آئینی طور پر ایک ایسے ادارے کے تابع قرار پائے گا جس کے خدوخال ابھی طے ہی نہیں ہوئے۔ یہ ایک علامتی نہیں بلکہ بنیادی سیاسی تبدیلی ہے، جو آئینی وفاداری کے توازن کو ہی بدل ڈالے گی۔ اگر اس عدالت کے ججوں کا تقرر ایسے طریقہ کار سے کیا گیا جو انتظامیہ یا اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر ہو، تو یہ ادارہ ایک ایسے عدالتی نظام کی بنیاد رکھے گا جو عوام یا آئین کے نہیں بلکہ طاقت کے تابع ہوگا۔
سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی
یہ ترمیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ نے پچھلے چند برسوں میں بعض حساس معاملات پر ریاستی اداروں کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ انتخابات کے التوا، شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات، جبری گمشدگیوں اور شہری بالادستی جیسے معاملات میں عدالت نے بعض اوقات ریاستی دباؤ کے باوجود آواز اٹھائی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔ ماضی کی طرح براہِ راست تصادم یا عدالت کی تحلیل ممکن نہیں، کیونکہ اس سے اندرونِ ملک مزاحمت اور بیرونی دباؤ دونوں کا سامنا ہوگا۔ اس لیے اب راستہ بدل دیا گیا ہے — سپریم کورٹ کو ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے اختیارات کو بانٹ کر غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ آئینی تشریح اور حتمی اختیار ایک نئے ادارے کے پاس منتقل ہو جائے، جو زیادہ “قابلِ اعتماد” اور “قابلِ کنٹرول” ہو۔
پاکستان کی آئینی تاریخ میں یہ طرزِ عمل نیا نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی آٹھویں ترمیم ہو یا جنرل مشرف کے پروویژنل آئینی احکامات (PCO)، ہر دور میں طاقتور طبقے نے آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں متعارف کرائیں اور پھر انہیں پارلیمانی توثیق کے ذریعے قانونی حیثیت دے دی۔ ستائیسویں ترمیم بھی اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے، البتہ اس بار یہ عمل زیادہ مہذب، خاموش اور قانونی انداز میں کیا جا رہا ہے۔
اصلاحات یا اختیار کا نیا چہرہ
ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی آئینی عدالت عدالتی سیاست کو کم کرے گی، آئینی تنازعات کے حل کو بہتر بنائے گی، اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرے گی۔ مگر حقیقت میں یہ دلیل محض ایک تکنیکی جواز ہے۔ پاکستان میں “غیرسیاسی بنانا” ہمیشہ سے جمہوری احتساب کو کمزور کرنے کے مترادف رہا ہے۔ اگر حکومت کا مقصد واقعی عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری ہوتا تو وہ سپریم کورٹ کے ڈھانچے میں بہتری، ججوں کی تعداد میں اضافہ یا عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کرتی۔ لیکن ایک بالکل نیا ادارہ قائم کرنے کی تجویز اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل مقصد اصلاح نہیں بلکہ کنٹرول ہے۔ جب کسی ادارے کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا، تو اس کے متوازی ایک نیا ادارہ بنا دیا جاتا ہے جو پہلے ہی تابع ہو۔
آئینی ڈھانچے میں طاقت کا نیا مرکز
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں لائی گئی ہے جب ملک میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے۔ عدلیہ واحد فورم ہے جہاں اب بھی ریاستی طاقت پر کبھی کبھار سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں عدلیہ کی آزادی محدود کرنا ناگزیر سمجھا گیا ہے۔ آئین کے مختلف حصوں میں “وفاقی آئینی عدالت” کا ذکر شامل کر کے اس ادارے کو محض عدالتی دائرے تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ ریاست کے تقریباً تمام آئینی معاملات میں دخیل کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ عدالت ایک مرکزی آئینی قوت بن جائے گی، جو پارلیمنٹ، حکومت اور صدر کے بیچ نئے طاقت کے توازن کو تشکیل دے گی۔ یوں عدلیہ، جو آئین کی محافظ تھی، ریاستی طاقت کا ایک تابع حصہ بن جائے گی۔
آمریت کا نیا انداز
یہ سب کچھ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہو رہا، مگر اس بار طریقہ زیادہ باریک اور پُراثر ہے۔ ماضی میں مارشل لا یا آئینی معطلی کے ذریعے قبضہ کیا جاتا تھا، آج وہی مقصد قانونی اصطلاحات اور ترامیم کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی قبضہ ہے، مگر اب اسے “قانون سازی” کہا جا رہا ہے۔ دنیا کی نظروں میں کھلے عام اقتدار پر قبضہ کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب “قانون کے ذریعے قبضہ” یعنی Lawfare نیا حربہ بن چکا ہے۔ جب جنرل قانون بناتے ہیں اور سیاست دان ان پر دستخط کرتے ہیں، تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ماضی میں مارشل لا سے حاصل ہوتا تھا — بس اس بار بغیر شور شرابے کے۔
انجام اور خطرات
اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ عدلیہ کی آزادی محدود ہو جائے گی، سپریم کورٹ محض رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گی، اور فوجی اثر و رسوخ کو آئینی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ یوں آئینی نظام کے اندر طاقت کے ایک ایسے مستقل توازن کی بنیاد رکھ دی جائے گی جو جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوگا، کیونکہ جب عدالتیں انصاف کے بجائے طاقت کی تابع نظر آئیں تو شہری جمہوری عمل سے منہ موڑ لیتے ہیں — اور یہی کسی غیرجمہوری نظام کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
اختتامیہ: قانون کے پردے میں اختیار
ستائیسویں ترمیم محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان میں فوجی بالادستی کو آئین کا حصہ بنانے کی ایک تدریجی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے ریاست کی وہ قانونی بنیادیں تبدیل کی جا رہی ہیں جن پر عوامی خودمختاری قائم تھی۔ اسٹیبلشمنٹ اب اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے مارشل لا نافذ نہیں کرے گی، بلکہ آئین ہی کو اس طرح بدلے گی کہ قانون خود اس کے اختیار کو جائز قرار دے دے۔ سیاسی طبقات شاید اسے ایک وقتی مصالحت سمجھیں، مگر تاریخ کا سبق واضح ہے: جب کوئی ریاست اپنے آئین میں اطاعت درج کر دیتی ہے، تو پھر نہ قانون باقی رہتا ہے، نہ جمہوریت۔
آج پاکستان میں قبضہ بندوق سے نہیں بلکہ شقوں، ذیلی دفعات اور بلوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اور یہی قبضہ سب سے خطرناک ہے، کیونکہ یہ قانونی دکھائی دیتا ہے۔
دنیا
ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
نئی دہلی، ایران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اجازت عراقی حکومت کی اپیلوں کے بعد دی گئی اور یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورہ عراق کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 103 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 89 جہاز باہر نکلے۔تاہم اس کے باوجود بحری آمدورفت جنگ سے قبل سات روزہ اوسط کا صرف تقریباً 20 فیصد رہی۔
اس عرصے میں زیادہ تر جہاز پاناما اور لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے، جبکہ کسی امریکی پرچم والے جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آمدورفت میں سب سے بڑا حصہ پروڈکٹ ٹینکروں کا تھا، جو عموماً ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کرتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز کے راستے 15 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 5 ملین بیرل تیل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “اس میں کوئی شک نہیں، امریکی بحریہ کی بدولت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
جمعہ کی شب ہونے والی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے موزوں حالات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں: قالیباف
تہران، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔”
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:”امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔”
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ “حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف “کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی” شروع کر دی ہے اور اسے “اقتصادی ڈی ڈے” اور “بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح “ناکام” ثابت ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
چھڑی مبارک سری نگر سے پہلگام کے لیے روانہ
سری نگر، بھگوان شیو کی مقدس گدی چھڑی مبارک ہفتہ کو سری نگر کے دشنامی اکھاڑے سے پہلگام کے لیے روانہ ہوگئی، جس کے ساتھ رواں سال کی امرناتھ یاترا کی اہم مذہبی رسومات کا آغاز ہوگیا۔
چھڑی مبارک کے نگراں مہنت دیپیندر گری نے دشنامی اکھاڑے میں پوجا اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد سادھوؤں کے ایک گروپ کی قیادت کرتے ہوئے جلوس کی روانگی کی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گری نے بتایا کہ چھڑی مبارک 28 اگست کو، یعنی شراون پورنیما کے موقع پر، مقدس گپھا پہنچے گی، جہاں روایتی پوجا اور درشن کی رسومات ادا کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ مقدس مقام تک پہنچنے سے قبل جلوس پہلگام، چندن واری، شیش ناگ اور پنچ ترنی میں قیام کرے گا۔ گری نے کہاکہ ’’ہم اپنی مذہبی کتابوں میں مقرر کردہ تاریخوں پر عمل کرتے ہیں، گریگورین کیلنڈر پر نہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس سال 26 اور 27 اگست کو پنچ ترنی میں دو دن قیام کیا جائے گا۔
گری کے مطابق، شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گپھا میں روایتی رسومات ادا کرنے کے بعد چھڑی مبارک واپس پنچ ترنی آئے گی اور اس کے بعد سری نگر کی جانب روانہ ہوگی۔ اختتامی پوجا اور وسرجن کی رسومات 30 اگست کو ادا کی جائیں گی۔
رواں سال کی یاترا کا ذکر کرتے ہوئے گری نے کہا کہ خراب موسم سب سے بڑا رکاوٹ بنا، جس کے باعث 9 اگست کو یاترا معطل کرنا پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ یاترا کا دورانیہ کم ہونے کے باوجود اس سال 4.75 لاکھ سے زیادہ یاتری مقدس گپھا پہنچے۔
یواین آئی۔ ظا
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان6 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان5 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان6 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا6 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
