جموں و کشمیر
شری امرناتھ جی یاترا: یاتریوں کے لئے قریب 125 لنگر قائم کئے جائیں گے
جموں، سالانہ شری امرناتھ جی یاترا کی تیاریاں زوروں پر جاری ہونے کے بیچ حکام کا کہنا ہے کہ امسال لکھن پور سے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع شری امرناتھ جی پوتر گھپا تک تقریباً 125 لنگر (کمیونٹی کچن) قائم کئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امسال سالانہ شری امرناتھ جی یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 9 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ لکھن پور سے پوتر گھپا تک بشمول پہلگام اور بالتل راستوں کے، قریب 125 لنگر قائم کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ شیڈ لگانے کے لیے لنگر کا سامان اور بنیادی ڈھانچے کا سامان لے جانے والے ٹرک 15 جون سے جموں و کشمیر پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ لنگر لگانے کا عمل اس ماہ کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
38 دنوں پر محیط اس پوتر یاترا کے لئے 2 جولائی کو جموں سے یاتریوں کا پہلا قافلہ جموں سے کشمیر روانہ ہوگا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ یاترا کے راستوں کے علاوہ لکھن پور سے سری نگر اور پہلگام اور بالتل تک 50 سے زیادہ لنگر لگائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں شری امرناتھ شرائن بورڈ کی طرف سے لنگر تنظیموں کو اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب، ہریانہ، دہلی، ہماچل پردیش، راجستھان، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں کی لنگر تنظیمیں پوتر گھپا کے راستوں میں کمیونٹی کچن قائم کریں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 25 لنگر بالتل اور ڈومیل میں، 13 لنگر پوتر گھپامیں، 8 شیشناگ میں، 5 پسوٹوپ میں، 12 پنچترنی میں، 7 چندن واڑی میں، 9 نون وان میں اور 5 زوجی بل میں ہوں گے۔
حکام نے بتایا کہ جموں بیس کیمپ یاتری نواس بھگوتی نگر میں پانچ لنگر اور جموں-پٹھانکوٹ اور جموں- سری نگر قومی شاہ راہ پر 50 کے قریب لنگر لگائے جائیں گے۔
شری امرناتھ شرائن بورڈ نے لنگر تنظیموں کے کھانے کے مینو کو بھی حتمی شکل دے دی ہے اور ان سے تیلی اشیاء سے پرہیز کرنے کو کہا ہے۔
بورڈ نے یاتریوں کو غذائیت سے بھرپور اور صحت بخش کھانا کھانے کی ترغیب دی ہے۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے بالتل میں شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور یاتری نواس کمپلیکس کا معائنہ کیا۔
اس دوران انہوں نے یاترا ٹریک کو بہتر بنانے اور اس کو برقرار رکھنے میں مصروف بی آر او کے ٹاسک فورس اور عملے کے ساتھ بات چیت کی۔
منوج سنہا نے بعد ازاں پوتر گھپا میں ‘پراتھم پوجا’ بھی انجام دی جس کے ساتھ سالانہ یاترا کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
انہوں نے عقیدت مندوں سے بڑی تعداد میں شری امرناتھ جی یاترا کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہاں سیکورٹی اور دوسرے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے اس سال یاترا کے لیے 580 نیم فوجی کمپنیوں پر مشتمل تقریباً 42,000 اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں سے 424 کمپنیاں جموں و کشمیر روانہ کی جا رہی ہیں، جب کہ باقی یونٹس، جن میں وہ 80 کمپنیاں بھی شامل ہیں جو ’آپریشن سندور‘ کے دوران پہلے ہی یو ٹی میں تعینات تھیں، کو یاترا کے راستے، سری نگر سمیت حساس علاقوں میں دوبارہ تعینات کیا جائے گا۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کیا
سرینگر، لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے جمعہ کو سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اسے علاقے کے عوام کی دیرینہ خواہش کی تکمیل قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سکسینہ نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس” کے وژن کے عین مطابق ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ”یہ علاقے کے عوام کی دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے۔”
سانکو ضلع کے قیام کے ساتھ ہی لداخ میں اضلاع کی تعداد موجودہ سات سے بڑھ کر آٹھ ہو جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس مطالبے کو حقیقت کا روپ دینے میں انجمن صاحب زمان کے تعمیری کردار اور اس کے سرپرست اعلیٰ سید محمد رضوی، جو عام طور پر آغا میگی اوتھ کے نام سے مشہور ہیں اور چیئرمین شیخ صادق بلاغی کی کوششوں کو سراہا۔
سکسینہ نے ضلع کے قیام میں کرگل کے چیف ایگزیکٹیو کونسلر ڈاکٹر جعفر اخون، لداخ کی رکن پارلیمنٹ حنیفہ جان اور لیہ کے سابق چیف ایگزیکٹیو کونسلر تاشی گیلسن کی خدمات کا بھی اعتراف کیا۔
انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے کام کرنے والے تمام افراد کو مبارک باد دی۔
یہ اعلان لداخ کے ضلعی انتظامی ڈھانچے میں توسیع کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ سال 2024 میں مرکزی حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کو منظوری دی تھی۔ ان پانچ اضلاع کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن 27 اپریل کو جاری کیا گیا تھا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر عمر عبداللہ برہم، چیف سکریٹری کو خط
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک سرکاری آن لائن اجلاس کے دوران سینئر آئی اے ایس افسر کی جانب سے جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروس (جے کے اے ایس) کی ایک خاتون افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا سخت نوٹ لیا ہے۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو خط لکھ کر اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے کہ متعلقہ خاتون افسر کو اس معاملے کی وجہ سے کسی قسم کی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویر صادق نے اس بات پر زور دیا کہ جواب دہی کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور کسی کو بھی اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو دھمکانے یا انہیں نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
صادق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہاکہ ”وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے کا سخت نوٹ لیا ہے اور چیف سکریٹری کو خط لکھ کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا ہے کہ جے کے اے ایس افسر کو کسی قسم کی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ جواب دہی ضروری ہے اور کسی کو بھی اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو دھمکانے یا انہیں نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔”
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر 2010 بیچ کے آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کو ایک خاتون افسر کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ راجیو رنجن اس وقت محکمہ محنت و روزگار کے انتظامی سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر انہیں مشن یوتھ اپ لفٹمنٹ اینڈ وائبرنٹ ایڈوانسمنٹ (یووا) کے جائزہ اجلاس کے دوران گاندربل میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایمپلائمنٹ اینڈ کاؤنسلنگ بینش وانی کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ ویڈیو میں رنجن کو آن لائن اجلاس کے دوران اپنا غصہ کھوتے ہوئے اور بینش وانی کے لیے انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ وہ مبینہ طور پر یہ کہتے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ وہ ان سے ہمیشہ اسی طرح بات کر سکتے ہیں۔ ویڈیو میں آئی اے ایس افسر اپنے دفتر میں موجود عہدیداروں کو فوری طور پر خاتون افسر کی معطلی کا حکم تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
تاہم، رنجن کی انتظامی نگرانی میں کام کرنے والے محکمہ محنت و روزگار نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کلپ کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان صادق نے کہا کہ یہ واقعہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ حاصل ہوتا تو کمار راجیو رنجن کے خلاف ان کے طرز عمل کی باضابطہ تحقیقات مکمل ہونے تک انہیں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا۔” صادق نے استدلال کیا کہ انتظامیہ میں جواب دہی کو مضبوط بنانے کے لیے ریاستی درجے کی بحالی ضروری ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بااثر عہدیدار بدستور جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بااختیار عہدوں پر فائز افراد کو اپنے طرز عمل کے لیے جواب دہ ہونا چاہیے۔
دریں اثنا، اسی اجلاس کی ایک اور ویڈیو کلپ بھی سامنے آئی ہے، جس میں ایک آئی اے ایس افسر کے مبینہ بیان نے جموں و کشمیر میں سول سروس میں بھرتی کے عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ویڈیو میں مذکورہ افسر کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ بعض امیدوار ان کے بقول ”سیٹنگ” کے طریقے سے سرکاری خدمات میں داخل ہوتے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
جموں و کشمیر اسمبلی کی ماحولیاتی کمیٹی نے جمعرات کو آنچار جھیل اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر ہونے والی تجاوزات پر شدید تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کو ہٹایا جائے اور تجاوزات کی گئی زمین واپس لی جائے۔ رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کی صدارت میں کمیٹی نے آنچار جھیل اور اس کے آس پاس کے علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد جھیل کے تحفظ، بحالی اور آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ اس کے ساتھ ہی جھیل کے مؤثر تحفظ اور پائیدار انتظام کے لیے مزید ضروری اقدامات کی نشاندہی کرنا بھی دورے کا مقصد تھا۔
کمیٹی نے زور دیا کہ مستقبل میں مزید تجاوزات کو روکنے کے لیے سخت ضابطے نافذ کرنے، باقاعدہ نگرانی رکھنے اور متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی تال میل کے ساتھ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ دورے کے دوران کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ کئی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے، جن میں دلیپ سنگھ پریہار، شوکت حسین غنی، جاوید احمد میرچل، ڈاکٹر سجاد شفیع، سلمان ساگر، جاوید ریاض بیدار اور مبارک گل شامل تھے۔
معائنے کے دوران کمیٹی نے آنچار جھیل اور اس کے آس پاس بڑے پیمانے پر ہونے والی تجاوزات پر گہری تشویش ظاہر کی۔ کمیٹی نے کہا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے اور قبضہ کی گئی زمین واپس لینے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سخت ضابطوں پر عمل درآمد، باقاعدہ نگرانی اور متعلقہ محکموں کے باہمی تعاون سے جھیل اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کسی بھی طرح کی نئی تجاوزات کو روکا جانا چاہیے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
جموں و کشمیر6 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
