تازہ ترین
لوک سبھا میں تعطل برقرار، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی
نئی دہلی، لوک سبھا میں جمعرات کو بھی اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی جاری رہی جس کے باعث ایوا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
تین بار ملتوی ہونے کے بعد جب کارروائی دوپہر تین بجے شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین دوبارہ نعرے بازی کرنے لگے۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ہنگامے کے دوران کہا کہ بڑے دکھ کے ساتھ ایوان کو مطلع کرنا ہے کہ کل کچھ اراکین نے جس طرح کا رویہ اختیار کیا اور جو مناظر پیدا کیے، وہ لوک سبھا کے آغاز سے آج تک کبھی نہیں ہوئے۔ پارلیمانی نظام میں ایوان کے اسپیکر کا باوقار مقام ہمارے آئین میں قائم کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے اراکین نے جو رویہ ایوان کے دفتر میں اختیار کیا وہ ہماری پارلیمانی روایات کے لیے مناسب نہیں تھا اور ایک سیاہ دھبے کے مترادف تھا۔ سب کو ایوان کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب ایوان کے لیڈر کو صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا جواب دینا تھا تو ہمیں پختہ اطلاع ملی کہ کانگریس کے کئی اراکین وزیر اعظم نریندر مودی کی نشست کے قریب آکر کوئی غیر متوقع واقعہ کر سکتے تھے۔ اگر ایسا واقعہ ہو جاتا تو یہ نہایت ناگوار منظر ہوتا اور ملک کی جمہوری روایات کو تار تار کر دیتا۔ اسپیکر نے کہاکہ ’’اسے روکنے کے لیے ہم نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ انہیں ایوان میں نہیں آنا چاہیے۔ ایوان کے اسپیکر ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری تھی کہ ایوان کی عظمت کو برقرار رکھا جائے۔ لیڈر ایوان نے اپنی بات نہیں رکھی یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ لیڈر ایوان نے میری درخواست کو مان کر ایوان کو ناگوار منظر سے بچایا۔ اس کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘
لوک سبھا کے اسپیکر نے کہا کہ اگر اراکین پوسٹر لے کر آئیں گے تو ایوان نہیں چلے گا۔ ایوان میں کل کا واقعہ ملک نے دیکھا، جس میں ایک خاتون رکن حکمراں پارٹی کے پوڈیم تک پہنچ گئیں۔ اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کو بڑھتے دیکھ کر مسٹر برلا نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر میں سیاسی جماعتوں نے پیر کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اس اضافے کو ’’عوام مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے حکومت سے نظرثانی شدہ نرخ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے خلاف پارٹی ہیڈکوارٹر پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مظاہرین نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
پی ڈی پی رہنما آسیہ نقاش نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ عوامی مسئلہ ہے اور اسے سیاسی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے یہاں پی ڈی پی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’بجلی کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ یہ عوامی مسئلہ ہے۔ یہ سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور غربت کے باعث لوگ پہلے ہی معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور سوال کیا کہ صارفین کو راحت فراہم کیے جانے کی توقع کے باوجود بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگ 200 یونٹ مفت بجلی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے باوجود آپ نرخوں میں 6.8 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔ اگر یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
نقاش نے کہا کہ گھرانے پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’لوگ بے روزگاری، غربت اور بجلی کے بلوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومت یہ سب جانتی ہے۔ اس کے باوجود آپ عوام، ہمارے نوجوانوں اور ان کے خاندانوں پر اتنا بوجھ ڈال رہے ہیں۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ظا
ہندوستان
اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے بحران پر جے رام رمیش نے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیر کے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں پر نریندر مودی حکومت پر تازہ حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور ملازمتوں کے ختم ہونے سے عام شہریوں اور متوسط طبقے کی زندگی مسلسل دشوار ہو رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو بے روزگاری اور مہنگائی کے دوہرے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ برسوں سے ملازمت کرنے والے افراد بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت کے اقتدار میں آج مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے روزگاری ہے تو دوسری طرف برسوں سے کام کرنے والے لوگ اپنی نوکریوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کا بم مسلسل پھٹ رہا ہے۔”
کانگریس رہنما نے پیاز کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکر کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب پیاز بھی عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ کے اندر پیاز کی قیمتوں میں 76 فیصد تک کا اچھال آیا ہے، جبکہ متعدد ریاستوں میں تھوک قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت کا پیاز کا بفر اسٹاک بھی ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا، “شکر کے بعد اب پیاز بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ دودھ، تیل، پھل اور راشن سب کچھ عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوتے جارہے ہیں ۔”
گھریلو بجٹ پر مہنگائی کے اثرات پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور متوسط طبقے کے خاندان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “مودی حکومت، جو ‘اچھے دن’ لانے کا دعویٰ کرتی تھی، اسے بتانا چاہیے کہ غریب اور متوسط طبقہ کس طرح اپنا گزر بسر کرے۔”
ان کے یہ تبصرے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر بڑھتی تشویش کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں پیاز اور دیگر گھریلو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت نے ماضی میں یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ اس نے صارفین کے تحفظ کے لیے بفر اسٹاک کے انتظام اور قیمتوں میں استحکام لانے کے اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ بھی یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
واشنگٹن، امریکہ کے وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے۔
بیسنٹ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریوں کو ختم کر دیا اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ’’اب ہم آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ صبح ہوتے ہی ایک اقتصادی ڈی ڈے شروع ہو رہا ہے۔ یہ، ایک دشمن کے خلاف، اب تک کی سب سے بڑی مالی کارروائی۔‘‘
بیسنٹ نے کہا ہےکہ انتظامیہ کا مقصد ایران کو اقتصادی طور پر مزید تنہا کرنا اور ایرانی حکومت کو مدد فراہم کرنے والے وسائل کا راستہ روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ’’صدر نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہیں جو ہمیں ہر ادارے، ہر اختیار اور ہر ایسے اقدام کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے ہیں جنہیں بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ ہم کبھی استعمال نہیں کریں گے۔ ہمارا مقصد تہران کے تنہا ہونے تک اس جابر حکومت کو سہارا دینے والی ہر اقتصادی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔‘‘
انہوں نے ایران کی حامی حکومتوں اور دیگر فریقوں کو یہ سمجھنے سے پرہیز کرنے کی بھی تنبیہ کی ہے کہ امریکہ، واشنگٹن کی ایران پالیسی کو چیلنج کرنے والوں کو معاف کردے گا۔
بیسنٹ نے مزید کہا ہے کہ’’اسلامی جمہوریہ نے بلیک میلنگ کو سکیورٹی ضمانت کے پردے میں چھپا کر اپنا وجود برقرار رکھا ہوا ہے۔ اسے ایران کی یقینی جوابی کاروائی اور امریکی پابندیوں کو مذاکرات کا موضوع بنا سکنےکی سوچ سے طاقت ملی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے دور میں یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ جو لوگ تہران کی مخالفت کے خطرے سے خوفزدہ ہیں انہیں واشنگٹن کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘
بیسنٹ نے اپنی پوسٹ میں اس منصوبہ بند کاروائی کے تحت نافذ کیے جانے والے مخصوص اقتصادی اقدامات یا اس میں شامل کیے جانے والے اداروں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیے جانے کے بعد جاری کی ہےا کہ ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
دنیا6 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
