جموں و کشمیر
کشمیر میں شدید گرمی کی پیش گوئی، والدین نے اسکولوں کے لیے مختصر تعطیلات کا مطالبہ کیا
سری نگر، محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں آئندہ تین روز کے دوران شدید گرمی کی لہر کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد والدین کی جانب سے اسکولوں میں مختصر دورانیے کی تعطیلات کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ 13 جون تک موسم عمومی طور پر گرم اور خشک رہے گا، جبکہ 14 سے 17 جون کے دوران کہیں کہیں ہلکی بارش اور گرج چمک کے ساتھ تیز ہوا چلنے کے امکانات ہیں۔ تاہم 18 سے 20 جون کے درمیان ایک بار پھر موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ نے شدید گرمی کے پیش نظر ایک ایڈوائزری بھی جاری کی ہے جس میں عوام کو دن کے سب سے گرم اوقات (دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک) غیر ضروری بیرونی سرگرمیوں سے پرہیز کرنے اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کسانوں کو اپنے زرعی کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
موسم کی شدت اور وادی کے بیشتر اسکولوں میں ناکافی انتظامات کے پیش نظر والدین کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پر اسکولوں کے لیے مختصر دورانیے کی تعطیلات کا اعلان کرے تاکہ بچوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔
والدین کا کہنا ہے کہ طلبہ گرمی کی شدت سے نڈھال ہو رہے ہیں، کلاسز میں توجہ دینا ممکن نہیں رہا۔ کئی بچے بے ہوشی، تھکن اور گھبراہٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت کو فوری فیصلہ کرنا چاہیے۔
ریاض احمد نامی ایک شہری نے یو این آئی کو بتایا کہایسے حالات میں اسکول جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں، جب بچے کلاس میں بھی گرمی سے پریشان ہوں اور واپسی پر شدید دھوپ کا سامنا کریں۔
واضح رہے کہ وادی میں جون کے آغاز سے ہی درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث طلبہ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
بجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
سری نگر، بجلی کے کرایوں میں اضافے کے فیصلے پر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ نے اس اضافے کو عام لوگوں کے لیے “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت” قرار دیا۔ ایک بیان میں قرہ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب گھرانے پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی دباؤ سے جوجھ رہے ہیں، حکومت کو بجلی کے اعلیٰ بلوں کے ذریعے ان کا بوجھ بڑھانے کے بجائے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔
قرہ نے کہا۔”جموں و کشمیر کے لوگ حکومت سے بجلی کے بلوں میں ریلیف اور کٹوتی کا اعلان کرنے کی توقع کر رہے تھے، نہ کہ فی یونٹ ٹیرف میں اضافے کی۔ ایک عام گھرانے کے لیے، بجلی کے بل پر ہر اضافی روپیہ براہ راست خاندانی بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کے لیے غیر حساس ہے،”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ٹیرف میں اضافے کا جائزہ لے کر اسے واپس لے اور گھریلو صارفین، خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقوں پر بجلی کا بوجھ کم کرنے کے لیے معنی خیز اقدامات کرے۔ “حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بجلی کوئی آسائش نہیں ہے؛ یہ ایک ضروری سروس ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ سستی اور قابل اعتماد بجلی کے مستحق ہیں، نہ کہ مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں کے۔ کانگریس لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گی جو ان پر غیر معقول مالی بوجھ ڈالتا ہے،” مسٹر قرہ نے کہا۔ انہوں نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ وسیع تر عوامی مفاد میں اس فیصلے پر ثانی اور صارفین کو ریلیف بحال کرے، بجائے اس کے کہ ضروری سہولیات کو مزید پہنچ سے باہر بنایا جائے۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے 2024 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات اتحاد میں لڑے تھے۔ پیر کے روز پی ڈی پی اور اپنی پارٹی نے بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور اسے عوام مخالف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے “مجبوری” قرار دیا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے بجلی کے اعلیٰ بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے ٹیرف میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک ’’مجبوری‘‘ تھا اور حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’ہم نے کب کہا تھا کہ بجلی کے نرخ نہیں بڑھیں گے؟ ہم نے کہا تھا کہ سب سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو 200 یونٹ بجلی دیں گے۔ ہم انہیں 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت مفت بجلی کی اپنی یقین دہانی پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی سے اس اسکیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’بجلی کی قیمت اور اس اسکیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ضرورت مند لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘
اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے موجودہ نرخوں میں اضافے پر تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ سابقہ حکومتوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان کے دور حکومت میں بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت انہیں یہ ناانصافی نہیں لگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چار سال قبل بھی بجلی کے نرخوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ خاموش رہے تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں پنڈت ملازمین نے تازہ ’دھمکی آمیز پوسٹر‘ سامنے آنے کے بعد سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا
سری نگر، آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سکیورٹی کے انتظامات فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ایک نیا مبینہ دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آیا ہے۔
فورم نے پیر کو جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کو پیش کی گئی ایک درخواست میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت خدمات انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
فورم نے کہا کہ 23 اگست کو یونائیٹڈ لبریشن کونسل (یو ایل سی) نامی تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیا گیا ایک دھمکی آمیز پوسٹر سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں پی ایم پیکیج ملازمین کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
درخواست کے مطابق پوسٹر میں بعض افراد کے نام، رہائشی پتے اور گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں سمیت حساس ذاتی معلومات بھی درج تھیں۔
فورم نے کہاکہ ’’پوسٹر کی صداقت کی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم، اس طرح کے دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر، خاص طور پر ان میں حساس ذاتی معلومات شامل ہونا، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔‘‘
ملازمین کی تنظیم نے کہا کہ اس معاملے سے متعلقہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ اس کی تصدیق اور ضروری کارروائی کی جاسکے۔
وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کے سابقہ ہدف بنا کر کیے گئے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر نے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف اور عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کردیا ہے۔
فورم نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پوری کشمیر وادی میں تعینات پی ایم پیکیج ملازمین کو مناسب اور اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے اور تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کی فوری اور مکمل جانچ کی جائے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
پاکستان7 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
-
ہندوستان7 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
