دنیا
یمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
صنعاء، سعودی عرب کی رائل سعودی ایئر فورس نے یمن کے بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہی شہر موخا میں ملٹری آپریشن کیا، جس میں چھ افراد ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہو گئے۔
یمن کی صبا نیوز ایجنسی کی منگل کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے پیر کی دیر رات موخا پر بمباری کی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں تمام عام شہری بتائے جا رہے ہیں۔ زخمیوں میں دو بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب نے 8 ستمبر کو یمن میں اپنی فضائی مہم کا آغاز کیا تھا۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی مسلح تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سعودی ایئر فورس نے حال ہی میں فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ ساتھ مختلف فوجی اور لاجسٹک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حوثی ہائی کمان کے حکام نے بتایا کہ 11 ستمبر سے 18 ستمبر کے درمیان سات دنوں میں سعودی ایئر فورس نے تقریباً 300 آپریشنز کیے۔ گزشتہ 16 ستمبر کو حوثی افواج نے سعودی عرب کے ایک ایف-15 جنگی طیارے کو مار گرایا اور بعد میں سوشل میڈیا پر اس کے ملبے کی ویڈیو پوسٹ کی۔ اس کے علاوہ، حوثی افواج نے حال ہی میں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کئی حملے کیے ہیں، جس سے ریاض کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگست کے آخری ہفتے میں سعودی عرب اور حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔
سعودی توانائی کے اثاثوں کو بھاری نقصان پہنچانے والے متعدد میزائل حملوں کے بعد، حوثی جنگجوؤں نے 11 ستمبر کی رات باب المندب آبنائے (اسٹریٹ) پر قبضہ کر لیا— جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتی ہے۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کے لیے ایک بڑی شکست ہے، خاص طور پر اس لیے کہ امریکہ-ایران کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے ریاض کو اپنی زیادہ تر پیٹرولیم کی برآمدات کے لیے باب المندب آبنائے پر انحصار کرنا پڑا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
مغرب ایشیا کے تنازعات کے لیے ترکی اور امریکہ کے درمیان قریبی بات چیت ضروری: اردوغان
انقرہ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ مغرب ایشیا اور دنیا بھر کے ممالک کے سامنے موجود تنازعات، جنگوں اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ترکی اور امریکہ کے درمیان قریبی بات چیت اور ہم آہنگی ضروری ہے۔
ہیبرترک براڈکاسٹر کے مطابق نیویارک میں اردوغان نے کہا، “ہمارے علاقے اور دنیا میں جن تنازعات، جنگوں اور بحرانوں کا ہم سامنا کر رہے ہیں، ان کے لیے ترکی اور امریکہ کے درمیان قریبی بات چیت ضروری ہے۔”
ترکی رہنما کے مطابق، واشنگٹن کے ساتھ بات چیت اور ہم آہنگی سے انقرہ کو عالمی اثرات والے کئی مسائل پر اچھے نتائج حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اردوغان نے بتایا کہ اس کا بنیادی تعلق مغرب ایشیا کے مسائل کے ساتھ ساتھ افریقہ اور ایشیا پر اثر انداز ہونے والے واقعات سے ہے۔ ترکی کے صدر نے زور دے کر کہا کہ انقرہ آنے والے وقت میں امریکہ کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھنے اور اسے مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
سعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے فوجی مداخلت کی اپیل کے بعد امریکہ یمن میں حوثی اہداف پر فضائی حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ امریکی کمانڈروں نے پہلے ہی اہداف کی فہرست تیار کر لی تھی اور جنگی طیاروں کو مشن کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، لیکن حملوں کی پہلی لہر شروع ہونے سے عین قبل آخری لمحے میں مجوزہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی تیاری پہلے معلوم تفصیلات کے مقابلے میں کہیں زیادہ آگے بڑھ چکی تھی۔ امریکی کمانڈروں نے اہداف کی فہرست کی منظوری دے دی تھی، جبکہ فوجی اہلکار مشن کے لیے منتخب امریکی جنگی طیاروں میں بم لوڈ کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی شروع ہونے ہی والی تھی کہ ٹرمپ نے حملوں سے پیچھے ہٹنے یا کم از کم انہیں مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے آخری لمحے میں اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے مجوزہ کارروائی روک دی۔ یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کے اندر کئی ہفتوں سے جاری اس بحث اور تذبذب کے بعد کیا گیا کہ آیا امریکہ کو حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں براہ راست شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔
ٹرمپ ابتدا میں حملوں کی منظوری دینے سے گریزاں تھے، تاہم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بات چیت کے بعد ان کے موقف میں تبدیلی آئی۔تاہم، اتوار تک ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔
امریکی حکام نے کہا کہ فی الحال حملے نہیں کیے جائیں گے، اگرچہ انتظامیہ نے مستقبل میں فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
یہ واقعہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں ایک اور فوجی محاذ کھولنے کے خطرات کے درمیان واشنگٹن کو درپیش مشکل صورت حال کو نمایاں کرتا ہے۔ امریکی حکام نے یہ خدشات بھی ظاہر کیے ہیں کہ ایک اور طویل فضائی مہم امریکی فوجی دستوں اور ہتھیاروں کے ذخائر پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
حوثی یمن کے طویل عرصے سے جاری تنازع میں شامل ہیں اور ماضی میں بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ 2025 میں بھی اس گروپ کو امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
تازہ فیصلے کا مطلب ہے کہ امریکہ فی الحال حوثی ٹھکانوں پر براہ راست حملوں میں سعودی عرب کا ساتھ دینے سے گریز کرے گا۔ تاہم، واشنگٹن ریاض کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے اور خطے میں جاری وسیع تر تنازع میں بھی مصروف ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر امریکی فوجی منصوبہ بندی کتنی تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن کو اپنے اتحادیوں کے مطالبات اور پہلے ہی پیچیدہ علاقائی تنازع کو مزید پھیلانے کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک یمن میں نئی پیش قدمیاں کر رہی ہے، جس سے سعودی عرب اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے لیے تشویش بڑھ گئی ہے۔ بحیرہ احمر کے اطراف اہم تزویراتی علاقوں کی جانب حوثیوں کی پیش قدمی نے اس خطے پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے جو پہلے ہی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے اثرات سے دوچار ہے۔
واشنگٹن نے اب تک حوثیوں پر براہ راست حملہ کرنے سے گریز کیا ہے اور اس کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف کے تعین سے متعلق معاونت فراہم کی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعدد مرتبہ بات کر چکے ہیں اور امریکی حملوں کی درخواست بھی کر چکے ہیں، تاہم اس درخواست کے نتیجے میں اب تک امریکہ نے براہ راست فوجی کارروائی نہیں کی۔
حوثیوں کی تازہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا ایک تنگ آبی راستہ ہے۔ وہاں کسی بڑے خلل سے تجارتی جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی سے متعلق پہلے سے موجود خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
حوثیوں نے سعودی دارالحکومت میں ان کے بقول حساس مقامات اور ینبع میں آرامکو کی ایک تنصیب پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
امریکی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ ان کے اس موقف نے سعودی عرب کے لیے ایک پیچیدہ صورت حال پیدا کر دی ہے، جو امریکی مدد کا خواہاں ہے اور ساتھ ہی حوثیوں کی پیش قدمی کو اپنے طور پر محدود کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
یہ معاملہ ایران کے ساتھ وسیع تر محاذ آرائی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ امریکی اور خلیجی حکام حوثیوں اور ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے درمیان تعلق دیکھتے ہیں، تاہم حوثی گروپ پر تہران کے کنٹرول کی سطح اب بھی بحث کا موضوع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے مذاکرات میں واپس آنے کا راستہ کھلا، تنازع کے خاتمے کی کوئی مدت مقرر نہیں :مائیک والٹز
واشنگٹن، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران کے لیے تنازع ختم کرنے کی غرض سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا راستہ کھلا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر اقتصادی دباؤ جاری رہے گا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ال مانیٹر لائیو کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والٹز نے کہا کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ’’وقت ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ یہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے تو والٹز نے کہا، ’’میں واقعی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا دروازہ کھلا ہے‘‘، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو ’’خیالی‘‘ قرار دیا کہ تہران نے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ہرجانے کی ادائیگی کو شرائط کے طور پر پیش کیا ہے۔
والٹز نے کہا، ’’ایرانی حکومت 1979 کے بعد سے اپنی کمزور ترین حالت میں ہے اور مزید کمزور ہو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اس کی وجہ اقتصادی دباؤ اور ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ مذاکرات میں واپس آئیں گے، میری امید ہے کہ پرامن اور سفارتی طریقے سے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تنازع 2029 تک جاری رہ سکتا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام کا سال ہے، تو والٹز نے کہا کہ وہ جنگ کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’میں اس کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کروں گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ایران ’’کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے‘‘ اور تہران جب بھی ’’نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو‘‘، مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔
والٹز نے کہا کہ اس دوران امریکہ ایران کی معیشت پر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور دعویٰ کیا کہ خلیجی اتحادی ممالک سے عالمی منڈیوں تک ایک ارب سے زیادہ بیرل تیل امریکی بحریہ کی نگرانی میں پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات بدستور روکی گئی ہیں۔
والٹز نے ایران کی اقتصادی مشکلات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی ریال کی قدر دو ملین ریال فی ڈالر سے بھی نیچے چلی گئی ہے، جبکہ افراط زر میں اضافہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے حوالے سے والٹز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ واشنگٹن کیا ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی بحری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
والٹز نے کہا، ’’ہمیں آزاد اور کھلی تجارت کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز سمیت اہم بحری راستوں کا حوالہ دیا۔
والٹز نے حوثیوں اور ایران پر شہری بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ میں 146 ممالک نے اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔
غزہ کے حوالے سے والٹز نے انتظامیہ کے طریقہ کار کو ’’کثیرالجہتی سفارت کاری کی ایک نئی قسم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ بات چیت ’’انتخابات کے نتائج طے ہونے کے بعد آگے بڑھ سکتی ہے‘‘۔ ان کا اشارہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کی جانب تھا۔
منصوبے میں فلسطینی ٹیکنوکریٹک انتظامیہ، تعمیر نو اور بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام شامل ہے، جبکہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی انخلا سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
والٹز نے یہ بھی کہا کہ ایسے ’’ممکنہ رکن ممالک‘‘ موجود ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔
انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل اور مراکش کی جانب سے سفیروں کے تبادلے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
عراق کے حوالے سے والٹز نے عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ ایران کی ’’کمزور ریاست‘‘ ان ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتی ہے۔
والٹز کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے ساتھ جاری تنازع کی مدت اور سفارتی حل کے امکانات کے حوالے سے مسلسل سوالات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مؤقف برقرار رکھا کہ تہران مذاکرات میں واپس آ سکتا ہے، تاہم واشنگٹن کا اقتصادی دباؤ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہو جاتا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا7 days agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
