دنیا
پیٹر مینڈلسن تنازع پر افسوس: برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی مستعفی
لندن، برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی معاون اور چیف آف اسٹاف مورگن مک سویینی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ جیفری ایپسٹین کی فائلوں کی ایک اور قسط کے اجرا کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی بحران کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں سابق رکنِ پارلیمنٹ اور اب بدنام سابق برطانوی سفیر برائے امریکہ، پیٹر مینڈلسن، کا متعدد بار حوالہ دیا گیا ہے۔ ان دستاویزات نے مرحوم سابق فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم ایپسٹین کے جرائم کی غیر معمولی وسعت کو مزید بے نقاب کیا ہے۔
اتوار کو جاری بیان میں مک سویینی — جنہیں 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی بھاری اکثریتی کامیابی کی حکمتِ عملی کا معمار سمجھا جاتا ہے، نے اعلان کیا کہ وہ پیٹر مینڈلسن کی تقرری کی ذاتی طور پر سفارش کرنے پر افسوس کے باعث مستعفی ہو رہے ہیں۔
مک سویینی نے کہا “غور و فکر کے بعد میں نے حکومت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹر مینڈلسن کی تقرری ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے ہماری جماعت، ہمارے ملک اور خود سیاست پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے وزیرِاعظم کو اس تقرری کا مشورہ دیا تھا اور میں اس مشورے کی پوری ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔”
مینڈلسن کو گزشتہ برس ستمبر میں اس وقت برطرف کر دیا گیا تھا، جب ایپسٹین فائلوں کے ایک حصے سے ایسی ای میلز سامنے آئیں جن میں ان کے ایپسٹین سے رابطے اور حمایت کو اجاگر کیا گیا، اس وقت جب ایپسٹین پر جنسی جرائم کے متعدد الزامات عائد تھے۔
مزید برآں، اسی ہفتے کے آغاز میں جاری ہونے والی تازہ دستاویزات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ سابق رکنِ پارلیمنٹ نے 2008 میں ایپسٹین کی سزا کے بعد بھی اس بدنام فنانسر سے روابط برقرار رکھے، جس کے بعد لیبر پارٹی کے اندر اس قدر اہم عہدہ دیے جانے پر شدید غم و غصے اور احتجاج کی نئی لہر اٹھی۔
اسٹارمر کے مطابق، مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کی نشاندہی اس وقت کی گئی تھی جب انہیں سفیر کے عہدے کے لیے جانچا پرکھا جا رہا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ سابق کابینہ وزیر نے انہیں اپنے تعلقات کی گہرائی کے بارے میں گمراہ کیا۔ تاہم، یہ وضاحت بھی مینڈلسن تنازع کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی انتشار کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اپنے سابق معاون کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے، اسٹارمر نے مک سویینی کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ “ہماری جماعت اور میں ان کے شکر گزار ہیں”، تاہم انہوں نے مینڈلسن کا نام نہیں لیا۔ اس پیش رفت نے اسٹارمر کی سیاسی گرفت کو مزید کمزور کر دیا ہے، کیونکہ وہ اس وقت برطانیہ کے سب سے غیر مقبول رہنماؤں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ پارٹی کے اندر اور باہر دونوں جانب غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کئی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِاعظم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
نئی دہلی، ایران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اجازت عراقی حکومت کی اپیلوں کے بعد دی گئی اور یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورہ عراق کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 103 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 89 جہاز باہر نکلے۔تاہم اس کے باوجود بحری آمدورفت جنگ سے قبل سات روزہ اوسط کا صرف تقریباً 20 فیصد رہی۔
اس عرصے میں زیادہ تر جہاز پاناما اور لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے، جبکہ کسی امریکی پرچم والے جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آمدورفت میں سب سے بڑا حصہ پروڈکٹ ٹینکروں کا تھا، جو عموماً ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کرتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز کے راستے 15 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 5 ملین بیرل تیل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “اس میں کوئی شک نہیں، امریکی بحریہ کی بدولت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
جمعہ کی شب ہونے والی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے موزوں حالات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں: قالیباف
تہران، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔”
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:”امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔”
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ “حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف “کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی” شروع کر دی ہے اور اسے “اقتصادی ڈی ڈے” اور “بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح “ناکام” ثابت ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عراقی سرزمین کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی: صدر نجار عمیدی
بغداد، عراقی صدر نجار عمیدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے عراقی سرزمین کے استعمال کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے اندر سے خطے کے کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔
مسٹر عمیدی نے بغداد ڈائیلاگ کانفرنس کے آٹھویں ایڈیشن کے دوسرے دن کہا کہ عراق میں صرف “دو یا تین” مسلح گروہ ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا، “آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ ہتھیار ریاستی کنٹرول میں ہونے چاہئیں، اور نجف میں مذہبی اتھارٹی بھی اسی کا مطالبہ کرتی ہے۔”
مسٹر عمیدی نے کہا کہ تمام فریق عراق کو خطے میں جاری جنگ میں گھسیٹنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعہ کے اثرات “ہمارے ملک کے لیے بہت سخت” رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا بحران نہ صرف عراق بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بغداد آبنائے کے پیچیدہ مسائل پر ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
مسٹر عمیدی نے کہا کہ عراقی تیل لے جانے والے کئی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مدد کی جا رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ چاہتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
