ہندوستان
اردو صحافت چمک دمک کے بجائے قومی شعور کی بیداری کا آئینہ دار ہے: لئیق رضوی
نئی دہلی اردو صحافت محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ قومی شعور کی بیداری میں مستحکم کردار ادا کرتی رہی ہے اس کی تاریخ مولوی محمد باقر کی شہادت کے لہو سے روشن ہے اردو چینل کی اسکرین پر مصنوعی چمک دمک بھلے ہی نہ ہو، لیکن اپنے مشمولات اور ادارتی رنگ و آہنگ کے نظریے سے یہ کسی سے بھی کم نہیں۔ اردو بلیٹین تیار کرتے وقت بنیادی طور پر اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی ضرورت اور پسند پیشِ نظر رہتی ہے عجلت کے چکر میں کچھ بھی اسکرین پر انڈیل دینے کی بدنام روِش ، مین اسٹریم میڈیا کی بہ نسبت اردو میں بہت کم پائی جاتی ہے۔ خبرناموں کی طرح اردو چینل پر نشر ہونے والے مذاکرے بھی عمومی طور پر صحافتی اصول اور اخلاق کے ماتحت ہوتے ہیں۔ چیخ و پکار، ہنگامے اور دیگر ڈرامائی صورتوں کے بجائے یہاں بحث کا تناظر اور پیرایۂ اظہار سنجیدہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام شمیم حنفی سیمینار ہال میں ’’اردو صحافت: چیلنجز اور امکانات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ توسیعی خطبے میں معروف صحافی لئیق رضوی نے کیا۔
انھوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ اردو صحافت کو بہت سی علمی دشواریوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ فعال اور وسیع اشاعت کے حامل اخبارات محدود رہ گئے ہیں۔ اردو اخبارات کو سرکولیشن کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ اردو صحافت میں وسائل، تربیت اور تکنیکی مہارتوں کی کمی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ معاشی بحران، قارئین کا بدلتا رجحان، تکنیکی پس ماندگی، تعلیمی و لسانی مسائل اور سماجی تاثر، اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ لئیق رضوی نے اردو صحافت کے روشن امکانات کے حوالے سے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا اردو صحافت کے لیے سب سے بڑا میدان ہے۔ یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور ای میگزین نئی نسل تک رسائی دے سکتے ہیں۔ ڈیٹا جرنلزم میں بھی اردو صحافت کے امکانات وسیع ہیں۔
صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے خطبۂ صدارت میں مہمان مقرر کو ہدیۂ تبریک و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطبہ محض معلومات کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ پرخلوص درمندی اور تصنع سے پاک جذبات کا مظہر بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ لئیق رضوی کے خطبے سے یہ بصیرت بھی ملی کہ اخبار صرف خبر کی ترسیل کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ تہذیبی، سیاسی، معاشرتی اور ادبی شعور وآگہی کا سرچشمہ بھی ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اردو صحافت کو زندہ رکھنے کے لیے تمام اردو والوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ لازماً اردو اخبارات کے خریدار بنیں۔ راشٹریہ سہارا کا بند ہوجانا اردو صحافت کے ایک روشن باب کا خاتمہ ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مہمان مقرر کا نہال پیشی سے استقبال کیا۔
اس توسیعی خطبے کے کنوینر پروفیسر سرورالہدیٰ نے مہمان مقرر کے تعارفی کلمات میں اردو کے صحافتی نظام کو ہمہ گیر تاریخی، قومی، تہذیبی اور تخلیقی سفر کا ایک ثروت مند ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادبی روایت سے صحافتی تاریخ کو منہا کردینا مناسب نہیں۔ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ لئیق رضوی کے لیے صحافت علم نہیں، بلکہ زندگی ہے۔
علم محض سوزِ دماغ کا عمل ہے، جب کہ زندگی سوزِ جگر چاہتی ہے۔ خطبے کا آغاز شعبے کے ریسرچ اسکالر عبدالرحمن عابد کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر مخمور صدری، ڈاکٹر شاداب تبسم، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر خان رضوان، ڈاکٹر ثاقب فریدی اور ڈاکٹر راحت افزا کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبا و طالبات موجود تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔ م الف
ہندوستان
ایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر نیز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے متاثرہ ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے میں انہیں قومی دارالحکومت دہلی میں آٹھ گھنٹے لگ گئے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں کی صورتحال کیا ہوگی، لیکن انہیں خوشی ہے کہ یہ انصاف کی سمت میں ان کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
راہل نے پیلٹ گن سے متاثرہ نوجوان ساحل کو انصاف دلانے کے لیے صبح سے یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں دھرنا مظاہرے کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کی سمت میں ان کی کامیابی کا یہ پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ ساحل کے جسم میں ایک مہینے سے چھرے ہیں، جن میں تین اس کی آنکھ میں ہیں اور اسے دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین-چار چھرے اس کے دل کے پاس بھی ہیں۔
سابق کانگریس صدر نے کہا، “ہم صبح تقریباً 11.30 بجے پولیس دفتر پہنچے تھے اور شام تقریباً 7.45 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہم نے یہاں کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہم نے صرف ایک ہندوستانی شہری، اس کی ماں اور اس کے والد کے لیے انصاف مانگا ہے اور اس کے لیے آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ یہ نئی دہلی کے بیچوں بیچ واقع پولیس اسٹیشن ہے، جہاں انصاف ملنے میں اتنا وقت لگا۔ سوال ہے کہ گاؤں یا چھوٹے شہر کے کسی تھانے میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟” انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا، “ایف آئی آر درج کرنے کی حتمی اجازت ہوم سکریٹری اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے کے بعد ملی، تو آپ سمجھ جائیے ایف آئی آر روک کون رہا تھا۔ یہ بیچارے جو پولیس والے ہیں، یہ چاہتے تھے ایف آئی آر درج کرنا، لیکن اوپر سے انصاف پر بریک لگی ہوئی ہے۔” راہل نے ایف آئی آر درج ہونے کو انصاف کی لڑائی کی شروعات بتایا اور کہا کہ یہ طلبہ کو انصاف دلانے میں کامیابی کا ان کا پہلا قدم ہے۔
پیلٹ گن سے زخمی ساحل نے کہا، “راہل کے ساتھ ہونے کے باوجود میری شکایت درج کرانے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ ہم 14 اگست سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ میرے جسم میں تقریباً 200 چھرے ہیں۔ شاید یہ ایف آئی آر لی بھی نہیں جاتی، اگر قائد حزب اختلاف میرا ساتھ نہیں دیتے اور میں 14 اگست سے ایف آئی آر کے لیے گھوم رہا ہوں۔”
ساحل نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ آنے کے بعد اسے یقین ہوا کہ شکایت درج ہوگی۔ اس نے ملک کے طلبہ سے کہا کہ انہیں یقین رکھنا چاہیے اور ان کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس نے کہا کہ جدوجہد کی جیت ہوئی ہے اور یہ انصاف کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ساحل نے ایمس کے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے دوران انہوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ہندستان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب وہ ہسپتال میں تھا، تب لوگوں نے اس کے لیے دعا کی۔
راہل اس سے پہلے صبح یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ واقع تھانے پہنچے، جہاں انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ ڈی سی پی کے دفتر پہنچے اور وہاں بھی ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ساحل نے بتایا کہ 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن پولیس نے شکایت کے جانچ افسر کا نمبر اور رسید نہیں دی۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
راہل نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ وہ ساحل لوچب کے ساتھ اس کے خلاف ہوئی پولیس بربریت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے ڈی سی پی دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کر رہے ساحل پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے۔ انہوں نے پرامن مظاہرے کے خلاف ایسی بربریت کو سنگین جرم بتایا۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ وہ انصاف سے اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساحل انصاف کے لیے ایف آئی آر درج کرانا چاہتا ہے، لیکن اسے بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، “ایف آئی آر ہوگی۔ عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔ ساحل اور اس کے جیسے ہر متاثرہ طالب علم کو انصاف دلا کر رہیں گے۔” دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری سیلجہ، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش اور ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ” طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔” انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، “تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔”
راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔
راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔
اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، “ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان نے آر ایس ایس کے بارے میں امریکی تنظیم کی رپورٹ مسترد کی، کہا یہ تنظیم تعصب پسند: وزارت خارجہ
نئی دہلی، ہندستان نے امریکہ کی ایک تنظیم کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی لگانے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تعصب پسند تنظیموں سے دور رہنا چاہیے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی تنظیم یو ایس سی آئی آر ایف (یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم) تعصب برتنے والی تنظیم ہے اور اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تنظیم طویل عرصے سے ہندستان کے سلسلے میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ساکھ قابل اعتماد اور بھروسے مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں امریکہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کی یہ رپورٹ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے کچھ دن پہلے آئی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانگریس کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کے مکمل گانے کے بجائے صرف شروعات کے دو بند گائے جانے کے فیصلے کو غیر آئینی، افسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے وزیر دفاع نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہوتا ہے۔ اگر کوئی قانون کو نہیں مانتا تو آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا، “کانگریس کے ذریعہ وندے ماترم کا احترام کرنے سے باضابطہ طور پر نہ صرف انکار کرنا، بلکہ براہ راست مخالفت کرنا، انتہائی افسوس ناک اور آئینی نقطہ نظر سے بہت سنگین معاملہ ہے۔ ہندوستان کے آئین کے مطابق، پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہے۔ اگر کوئی اسے ماننے سے انکار کرتا ہے تو یقیناً آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اگر قومی ترانے کا احترام کرنے سے کوئی انکار کرتا ہے تو اس کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ کانگریس 1937 کی جس قرارداد کی بات کرتی ہے، وہ کانگریس نے مسلم لیگ کے بنیاد پرستی پرمبنی مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک کر منظور کی تھی اور اس کا خمیازہ مستقبل میں ملک کو تقسیم کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادپرست عناصر کے آگے سمجھوتہ کرنا، ہمیشہ ملک کے لیے مہلک ثابت ہوا ہے اور آج کانگریس جب بنیادپرست عناصر کے آگے اسی طرح خودسپردگی کر رہی ہے، تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، “میں مانتا ہوں کہ کانگریس کا یہ فیصلہ سراسر غیر آئینی اور قابل مذمت ہے ساتھ ہی سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں ایک سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے۔ وندے ماترم کی مخالفت کر کے کانگریس نے اپنے نا سمجھی بھرے خطرناک ارادوں کو ملک کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس اپنے پروگراموں میں قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو مکمل طورپر نہیں گائیگی اور پہلے کی طرح صرف شروعات کے دو بند ہی گائے جائیں گے۔
حکومت نے مانسون سیشن میں بل منظور کر کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کی توہین کرنے والے کے لیے سزا اور جرمانے کا التزام کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
دنیا1 week agoایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
