دنیا
پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع
کابل، پاکستانی فوج نے افغانستان کے مختلف حصوں میں فضائی آپریشن کیا ہے جن میں دارالحکومت کابل کے ساتھ ساتھ قندھار اور پکتیا کے صوبے بھی شامل ہیں۔یہ اطلاع افغان حکومت کے ترجمان نے دی ہے۔
ایک بیان میں افغان حکام نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے کچھ مخصوص علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ڈھائی بجے کابل کے مرکزی علاقے میں متعدد بڑے دھماکے رپورٹ کیے گئے۔
ترک میڈیا کے مطابق افغان حکومت کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی مگر اسلام آباد نے اس سے کہیں زیادہ سنگین صورتِ حال پیش کی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا کہ جوابی کارروائیوں میں 133 افغان فوجی ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ان کے بقول پاکستانی فورسز نے 27 افغان فوجی پوسٹس، دو کور ہیڈکوارٹرز، اور 80 سے زائد ٹینکوں اور زرہ بکتر گاڑیوں کو تباہ کر دیا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ قندھار میں حملوں کے دوران ایک گولہ بارود کا ڈپو اور ایک لاجسٹکس بیس تباہ ہو گئے۔
دریں اثنا افغانستان کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے افغان فورسز کی جوابی کارروائیاں آدھی شب ختم ہو گئی ہیں۔
جمعرات کو ایک چار گھنٹے طویل سرحدی جھڑپ کے دوران کم از کم آٹھ افغان اور دو پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ کشیدگی پچھلے ہفتے کے فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان میں 70 “دہشت گرد” ہلاک ہوئے جبکہ اقوامِ متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی رپورٹس دی تھیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرِش نے ان جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے ترجمان اسٹیفان ڈوجارک نے کہا کہ گوٹیرِس “متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کریں” اور سفارتی حل تلاش کریں
پاکستان کا الزام ہے کہ عسکریت پسند افغان علاقے سے کارروائیاں کر رہے ہیں جسے کابل مسترد کرتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ’’ایران مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے!‘‘۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور امریکہ ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مختصر پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ ادھر امریکی محکمہ خزانہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ان ممالک کے لیے آخری انتباہ کے طور پر کام کرنا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں۔
یہ مہم واشنگٹن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات بھی محدود ہوئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے توقع تھی کہ وہ پیر کو ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اقتصادی ’’ڈی ڈے‘‘ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے یا اہم کمپنیوں اور اداروں کے لیے ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاکستان کے فوجی سربراہ سے بھی بات کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور ’’ایرانی عوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔‘‘
بقائی نے کہا کہ نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی ایک غلط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ’’فوجی جارحیت ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو اعتراف کیا کہ ایران کے عوام اس وقت ’’بہت سے مسائل‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کی معیشت کو مزید تنہا کرنے کے مقصد سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پزشکیان نے جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل سے نکلنے کا بہترین راستہ قرار دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے بعد دونوں ممالک ایک ایسی صورت حال میں ہیں جسے پزشکیان نے ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت قرار دیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں پزشکیان نے کہا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل ہیں۔ ہم حتی الامکان ان مسائل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران عملی طور پر ’’مکمل پیمانے کی اقتصادی، فوجی اور سلامتی کی جنگ‘‘ میں مصروف ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ’’سب سے زیادہ تباہ کن اور خوفناک پابندیاں‘‘ عائد کرنا چاہتے ہیں۔تاہم ایرانی صدر نے جون میں ٹرمپ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل توڑنے کے لیے ایران کا بہترین راستہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔ سپریم لیڈر پالیسیاں طے کرتے ہیں اور ہم اسی راستے پر چلیں گے۔‘‘
پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ سفارتی غیر یقینی صورتحال ملک کی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ اس کے باعث ایران میں سرمایہ کاری لانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بار بار عائد کی جانے والی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور شرح تبادلہ میں شدید اتار چڑھاؤ نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا، ’’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مہنگائی، معاشی مشکلات اور بے روزگاری پر قابو پایا جائے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘‘
ایران میں حالیہ برسوں کے دوران معاشی مشکلات بارہا بدامنی کا سبب بنی ہیں۔ دسمبر کے اواخر میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک بعد میں حکومت مخالف بڑے مظاہروں میں تبدیل ہوگئی۔
ایرانی حکام نے اس بدامنی کے دوران 3,000 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی اور امریکہ و اسرائیل پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم بیرون ملک قائم غیر سرکاری تنظیموں نے الزام لگایا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے عوام کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعض اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار تک بتائی گئی ہے۔
ادھر نئی امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل پیر کو ایرانی کرنسی ریال بھی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ غیر رسمی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 20 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی، جبکہ مرکزی بینک کی سرکاری شرح تقریباً 15 لاکھ ریال فی ڈالر تھی۔
غیر رسمی شرح تبادلہ ہی ایران میں زیادہ تر عوام استعمال کرتے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی ریال شدید دباؤ میں تھا، جبکہ ملک میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی اور منفی اقتصادی نمو جاری تھی۔ جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث پہلے ہی کمزور ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھنے سے ریال مسلسل نئی ریکارڈ کم ترین سطحوں پر گر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
ریاض، برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع سے 63 بحری میل مغرب میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم میزائل نما شے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے مرکزی ڈیک پر آگ بھڑک اٹھی۔
یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور سب کی موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ادارے کے مطابق واقعے سے کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادارے نے بحری جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس علاقے سے انتہائی احتیاط کے ساتھ گزریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں، خصوصاً ینبع، پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی مفادات سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سعودی عرب کی اس متبادل برآمدی راہداری کی سلامتی پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ینبع، یمن کی قریب ترین سرحد سے تقریباً 900 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان7 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا7 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان7 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا7 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
ہندوستان6 days agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
