ہندوستان
امریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
تہران، امریکی فوج کے ساتویں روز بھی ایران پر فضائی حملے جاری رہے تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق جب کہ 14 افراد زخمی ہو گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی فوج کے ایران پر تازہ فضائی حملوں میں 8 افراد جاں بحق جب کہ 14 زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی فوج نے بوشہر میں ایرانی فضائیہ اور فوجی چھاؤنی پر متعدد حملے کیے اور ایٹمی پلانٹ کو امریکی فوج نے نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق حملوں میں رہائشی علاقوں، ایئرپورٹ، پُل، ریلوے جنکشن کو نشانہ بنایا گیا۔ بندرعباس، اہواز، بوشہر، بندر خمیر اور ایرانشہر پر فضائی حملے کیے گئے۔ بندر خمیر کے قریب ایک پُل پر حملے میں سات افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوئے۔
بندر عباس کے رہائشی علاقے تپہ اللہ اکبر میں بھی حملے ایک شخص جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوئے۔ بندر عباس ریلوے جنکشن پر حملے میں دو افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حملوں کے بعد بندر عباس، بندر خمیر، لار شاہراہ سمیت متعدد اہم سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جب کہ حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمزمیں ناکا بندی کی خلاف ورزی پر ایرانی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا۔ سینٹ کام نے ایرانی آئل ٹینکر قبضے میں لینے کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
ایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر نیز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے متاثرہ ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے میں انہیں قومی دارالحکومت دہلی میں آٹھ گھنٹے لگ گئے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں کی صورتحال کیا ہوگی، لیکن انہیں خوشی ہے کہ یہ انصاف کی سمت میں ان کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
راہل نے پیلٹ گن سے متاثرہ نوجوان ساحل کو انصاف دلانے کے لیے صبح سے یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں دھرنا مظاہرے کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کی سمت میں ان کی کامیابی کا یہ پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ ساحل کے جسم میں ایک مہینے سے چھرے ہیں، جن میں تین اس کی آنکھ میں ہیں اور اسے دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین-چار چھرے اس کے دل کے پاس بھی ہیں۔
سابق کانگریس صدر نے کہا، “ہم صبح تقریباً 11.30 بجے پولیس دفتر پہنچے تھے اور شام تقریباً 7.45 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہم نے یہاں کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہم نے صرف ایک ہندوستانی شہری، اس کی ماں اور اس کے والد کے لیے انصاف مانگا ہے اور اس کے لیے آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ یہ نئی دہلی کے بیچوں بیچ واقع پولیس اسٹیشن ہے، جہاں انصاف ملنے میں اتنا وقت لگا۔ سوال ہے کہ گاؤں یا چھوٹے شہر کے کسی تھانے میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟” انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا، “ایف آئی آر درج کرنے کی حتمی اجازت ہوم سکریٹری اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے کے بعد ملی، تو آپ سمجھ جائیے ایف آئی آر روک کون رہا تھا۔ یہ بیچارے جو پولیس والے ہیں، یہ چاہتے تھے ایف آئی آر درج کرنا، لیکن اوپر سے انصاف پر بریک لگی ہوئی ہے۔” راہل نے ایف آئی آر درج ہونے کو انصاف کی لڑائی کی شروعات بتایا اور کہا کہ یہ طلبہ کو انصاف دلانے میں کامیابی کا ان کا پہلا قدم ہے۔
پیلٹ گن سے زخمی ساحل نے کہا، “راہل کے ساتھ ہونے کے باوجود میری شکایت درج کرانے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ ہم 14 اگست سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ میرے جسم میں تقریباً 200 چھرے ہیں۔ شاید یہ ایف آئی آر لی بھی نہیں جاتی، اگر قائد حزب اختلاف میرا ساتھ نہیں دیتے اور میں 14 اگست سے ایف آئی آر کے لیے گھوم رہا ہوں۔”
ساحل نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ آنے کے بعد اسے یقین ہوا کہ شکایت درج ہوگی۔ اس نے ملک کے طلبہ سے کہا کہ انہیں یقین رکھنا چاہیے اور ان کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس نے کہا کہ جدوجہد کی جیت ہوئی ہے اور یہ انصاف کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ساحل نے ایمس کے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے دوران انہوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ہندستان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب وہ ہسپتال میں تھا، تب لوگوں نے اس کے لیے دعا کی۔
راہل اس سے پہلے صبح یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ واقع تھانے پہنچے، جہاں انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ ڈی سی پی کے دفتر پہنچے اور وہاں بھی ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ساحل نے بتایا کہ 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن پولیس نے شکایت کے جانچ افسر کا نمبر اور رسید نہیں دی۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
راہل نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ وہ ساحل لوچب کے ساتھ اس کے خلاف ہوئی پولیس بربریت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے ڈی سی پی دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کر رہے ساحل پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے۔ انہوں نے پرامن مظاہرے کے خلاف ایسی بربریت کو سنگین جرم بتایا۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ وہ انصاف سے اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساحل انصاف کے لیے ایف آئی آر درج کرانا چاہتا ہے، لیکن اسے بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، “ایف آئی آر ہوگی۔ عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔ ساحل اور اس کے جیسے ہر متاثرہ طالب علم کو انصاف دلا کر رہیں گے۔” دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری سیلجہ، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش اور ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ” طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔” انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، “تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔”
راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔
راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔
اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، “ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان نے آر ایس ایس کے بارے میں امریکی تنظیم کی رپورٹ مسترد کی، کہا یہ تنظیم تعصب پسند: وزارت خارجہ
نئی دہلی، ہندستان نے امریکہ کی ایک تنظیم کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی لگانے والی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تعصب پسند تنظیموں سے دور رہنا چاہیے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی تنظیم یو ایس سی آئی آر ایف (یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم) تعصب برتنے والی تنظیم ہے اور اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تنظیم طویل عرصے سے ہندستان کے سلسلے میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز تبصرے کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیم اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ساکھ قابل اعتماد اور بھروسے مند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تنظیموں سے دوری بنا کر رکھنی چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں امریکہ سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی لگانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کی یہ رپورٹ سنگھ سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے کچھ دن پہلے آئی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
وندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانگریس کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کے مکمل گانے کے بجائے صرف شروعات کے دو بند گائے جانے کے فیصلے کو غیر آئینی، افسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے وزیر دفاع نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ میں اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہوتا ہے۔ اگر کوئی قانون کو نہیں مانتا تو آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اس کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا، “کانگریس کے ذریعہ وندے ماترم کا احترام کرنے سے باضابطہ طور پر نہ صرف انکار کرنا، بلکہ براہ راست مخالفت کرنا، انتہائی افسوس ناک اور آئینی نقطہ نظر سے بہت سنگین معاملہ ہے۔ ہندوستان کے آئین کے مطابق، پارلیمنٹ ملک کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے اور پارلیمنٹ سے منظور شدہ کوئی بھی قانون ہر شخص کے لیے واجب التعمیل ہے۔ اگر کوئی اسے ماننے سے انکار کرتا ہے تو یقیناً آئین کے تئیں اس کی وفاداری شک کے دائرے میں آ جاتی ہے اور اگر قومی ترانے کا احترام کرنے سے کوئی انکار کرتا ہے تو اس کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ کانگریس 1937 کی جس قرارداد کی بات کرتی ہے، وہ کانگریس نے مسلم لیگ کے بنیاد پرستی پرمبنی مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک کر منظور کی تھی اور اس کا خمیازہ مستقبل میں ملک کو تقسیم کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادپرست عناصر کے آگے سمجھوتہ کرنا، ہمیشہ ملک کے لیے مہلک ثابت ہوا ہے اور آج کانگریس جب بنیادپرست عناصر کے آگے اسی طرح خودسپردگی کر رہی ہے، تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے سنگین خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، “میں مانتا ہوں کہ کانگریس کا یہ فیصلہ سراسر غیر آئینی اور قابل مذمت ہے ساتھ ہی سیاسی نقطہ نظر سے مستقبل میں ایک سنگین بحران پیدا کرنے والا ہے۔ وندے ماترم کی مخالفت کر کے کانگریس نے اپنے نا سمجھی بھرے خطرناک ارادوں کو ملک کے سامنے ظاہر کر دیا ہے۔”
قابل ذکر ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس اپنے پروگراموں میں قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو مکمل طورپر نہیں گائیگی اور پہلے کی طرح صرف شروعات کے دو بند ہی گائے جائیں گے۔
حکومت نے مانسون سیشن میں بل منظور کر کے قومی گیت ‘وندے ماترم’ کو قومی ترانے کے مساوی درجہ دیتے ہوئے اس کی توہین کرنے والے کے لیے سزا اور جرمانے کا التزام کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
دنیا1 week agoایران جنگ اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ٹرمپ کا دو ٹوک موقف: “میں کبھی معافی نہیں مانگوں گا، فیصلہ درست تھا”
