دنیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو اعتراف کیا کہ ایران کے عوام اس وقت ’’بہت سے مسائل‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کی معیشت کو مزید تنہا کرنے کے مقصد سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پزشکیان نے جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل سے نکلنے کا بہترین راستہ قرار دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے بعد دونوں ممالک ایک ایسی صورت حال میں ہیں جسے پزشکیان نے ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت قرار دیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں پزشکیان نے کہا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل ہیں۔ ہم حتی الامکان ان مسائل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران عملی طور پر ’’مکمل پیمانے کی اقتصادی، فوجی اور سلامتی کی جنگ‘‘ میں مصروف ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ’’سب سے زیادہ تباہ کن اور خوفناک پابندیاں‘‘ عائد کرنا چاہتے ہیں۔تاہم ایرانی صدر نے جون میں ٹرمپ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل توڑنے کے لیے ایران کا بہترین راستہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔ سپریم لیڈر پالیسیاں طے کرتے ہیں اور ہم اسی راستے پر چلیں گے۔‘‘
پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ سفارتی غیر یقینی صورتحال ملک کی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ اس کے باعث ایران میں سرمایہ کاری لانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بار بار عائد کی جانے والی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور شرح تبادلہ میں شدید اتار چڑھاؤ نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا، ’’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مہنگائی، معاشی مشکلات اور بے روزگاری پر قابو پایا جائے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘‘
ایران میں حالیہ برسوں کے دوران معاشی مشکلات بارہا بدامنی کا سبب بنی ہیں۔ دسمبر کے اواخر میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک بعد میں حکومت مخالف بڑے مظاہروں میں تبدیل ہوگئی۔
ایرانی حکام نے اس بدامنی کے دوران 3,000 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی اور امریکہ و اسرائیل پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم بیرون ملک قائم غیر سرکاری تنظیموں نے الزام لگایا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے عوام کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعض اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار تک بتائی گئی ہے۔
ادھر نئی امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل پیر کو ایرانی کرنسی ریال بھی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ غیر رسمی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 20 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی، جبکہ مرکزی بینک کی سرکاری شرح تقریباً 15 لاکھ ریال فی ڈالر تھی۔
غیر رسمی شرح تبادلہ ہی ایران میں زیادہ تر عوام استعمال کرتے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی ریال شدید دباؤ میں تھا، جبکہ ملک میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی اور منفی اقتصادی نمو جاری تھی۔ جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث پہلے ہی کمزور ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھنے سے ریال مسلسل نئی ریکارڈ کم ترین سطحوں پر گر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ’’ایران مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے!‘‘۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور امریکہ ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مختصر پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ ادھر امریکی محکمہ خزانہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ان ممالک کے لیے آخری انتباہ کے طور پر کام کرنا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں۔
یہ مہم واشنگٹن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات بھی محدود ہوئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے توقع تھی کہ وہ پیر کو ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اقتصادی ’’ڈی ڈے‘‘ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے یا اہم کمپنیوں اور اداروں کے لیے ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاکستان کے فوجی سربراہ سے بھی بات کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور ’’ایرانی عوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔‘‘
بقائی نے کہا کہ نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی ایک غلط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ’’فوجی جارحیت ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملہ، جہاز میں آگ لگ گئی
ریاض، برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق سعودی عرب کے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع سے 63 بحری میل مغرب میں ایک آئل ٹینکر نامعلوم میزائل نما شے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے مرکزی ڈیک پر آگ بھڑک اٹھی۔
یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ جہاز کے تمام عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور سب کی موجودگی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ادارے کے مطابق واقعے سے کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادارے نے بحری جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس علاقے سے انتہائی احتیاط کے ساتھ گزریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل برآمدات کے لیے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں، خصوصاً ینبع، پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی مفادات سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سعودی عرب کی اس متبادل برآمدی راہداری کی سلامتی پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ینبع، یمن کی قریب ترین سرحد سے تقریباً 900 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز توجہ کا مرکز، عمان کے وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے تہران روانہ ہوں گے
مسقط، عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی منگل کو تہران کا دورہ کریں گے، جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ دوطرفہ اور علاقائی امور پر بات چیت کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
مذاکرات میں آبنائے ہرمز کے انتظام کا معاملہ بھی شامل ہوگا۔ دونوں ممالک کی ساحلی حدود اس اہم آبی گزرگاہ سے ملتی ہیں اور گزشتہ کئی ہفتوں سے وہ تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے انتظامات اور سمندری نقل و حمل کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں سلامتی اور بحری ٹریفک کی نقل و حرکت سے متعلق مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نے نئی بحری گزرگاہوں کے لیے جغرافیائی حدود طے کر لی ہیں، تاہم حتمی اعلامیے، آپریشنل فیس اور وسیع تر سکیورٹی شرائط پر بات چیت ابھی جاری ہے۔
مذاکرات میں اہم اختلافی نکات میں ممکنہ ٹرانزٹ یا سروس فیس، سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کی ذمہ داری اور ایران کا یہ وسیع تر مطالبہ شامل ہے کہ مکمل سکیورٹی صرف اس وقت بحال کی جائے جب امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے۔
مذاکرات میں آبنائے سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ممکنہ فیس وصول کرنے اور آبنائے میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے جہازوں کے لیے مخصوص راستے مقرر کرنے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بقائی نے کہا کہ عمانی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے اور یہ دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے اور سیاسی مشاورت جاری رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں علاقائی امن اور سلامتی کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔
بقائی نے واضح کیا کہ عمانی وزیر خارجہ کا دورہ ایران کے پاکستانی آرمی چیف کے مجوزہ دورہ تہران سے الگ ہے۔
پاکستانی آرمی چیف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین یا سہولیات فراہم کرنے سے گریز کریں۔
بقائی نے الگ سے کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں اب صبر کے ساتھ سوچے سمجھے خطرات مول لینے کا امتزاج بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ہم طویل عرصے سے شطرنج کے کھلاڑی رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہم پوکر کے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں اور کچھ عرصے سے ہم دونوں کھیلوں کا امتزاج کھیل رہے ہیں۔“
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان6 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
-
دنیا6 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
