دنیا
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، وسط مدتی انتخابات تک مذاکرات ٹالنے کا شبہ ظاہر کیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران مذاکرات میں تاخیر کی حکمت عملی اپنا رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات تک انتظار کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کب ختم کرنا ہے، اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔
ٹیکساس میں انتخابی ریلیوں سے واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ”یہ اس بات کا سوال ہے کہ میں اسے کب ختم کرنا چاہتا ہوں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مذاکرات کو طول دینا پسند کرتے ہیں۔ شاید وہ انتخابات یا کسی اور چیز کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔”
بدھ کو ٹیکساس کے شہر لباک میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ان کے مطابق ایران 1979 سے امریکہ کے خلاف جنگ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ”امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ شروع نہیں کی۔ ایران 1979 سے امریکہ کے خلاف یہ جنگ لڑ رہا ہے اور اس نے ہمارے بہت سے عظیم شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے ہمارے ہزاروں فوجیوں کو ہلاک کیا اور بہت سے دیگر کو زخمی کیا ہے۔”
ٹرمپ نے سابق امریکی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس تنازع کو حل کرنے میں ناکام رہیں، کیونکہ ان میں ایسا کرنے کے لیے ”حوصلے یا ذہانت” کی کمی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کب ختم ہوگی تو انہوں نے جواب دیا، ”جب بھی میں اسے ختم کرنا چاہوں گا۔”
دریں اثنا، ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واشنگٹن پر سفارت کاری کو نقصان پہنچانے اور اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے متعلق 14 نکاتی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیے گئے وعدوں سے منحرف ہونے کا الزام لگایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بقائی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کو وقت کا ضیاع قرار دیے جانے کی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سفارتی وعدوں کا احترام نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا، ”واشنگٹن کا وعدوں سے منحرف ہونے اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو جب بھی اپنے لیے ناموافق سمجھے، ناقابلِ اعتبار سمجھ کر ترک کر دینے کا ایک طویل ریکارڈ ہے۔”
بقائی نے یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ واشنگٹن کو جواب دہی سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ”وعدوں کی خلاف ورزی کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، بین الاقوامی قانون کا اطلاق منتخب طور پر نہیں کیا جا سکتا اور سیاسی بیان بازی واشنگٹن کو جواب دہی سے بری نہیں کر سکتی۔”
روس۔یوکرین تنازع پر بھی پیش رفت کا دعویٰ
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع حل کرنے کی سمت پیش رفت کر رہی ہے اور جلد ہی ایک ملاقات کا انتظام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”روس اور یوکرین کے معاملے میں ہم کافی پیش رفت کر رہے ہیں۔ بہت جلد ایک ملاقات طے کی جائے گی۔”
امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی، مقررہ وقت سے دو دن پہلے، خیرسون خطے میں اولیشکی سے آگے ایک علاقے میں نافذ ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی 27 اکتوبر کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح چار بجے شروع ہوئی اور انسانی امداد کے قافلوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے اس کا جغرافیائی دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے جوائنٹ چیف جنرل ویلری واسیلیویچ نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسپین میں تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم میں کم از کم 46 افراد ہلاک
میڈرڈ، اسپین کے صوبہ تولیڈو میں بدھ کے روز دو تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثہ میڈرڈ کو جنوبی علاقے اندلس سے جوڑنے والی ریلوے لائن پر پیش آیا۔ علاقائی حکومت کے ترجمان، ریلوے بنیادی ڈھانچے کے منتظم ادارے ایڈف اور علاقائی شہری تحفظ کے ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
کاستیا لا مانچا کی علاقائی حکومت کے ترجمان کے مطابق، حادثہ صبح 8 بج کر 54 منٹ پر (جی ایم ٹی کے مطابق صبح 7 بج کر 54 منٹ) پیش آیا۔ اس میں رینفے اور ایریو کمپنیوں کی ٹرینیں شامل تھیں۔ حادثے کے دوران ایریو ٹرین کے دو ڈبے پٹری سے اتر گئے۔
ریلوے بنیادی ڈھانچے کے منتظم ادارے ایڈف کے مطابق، تصادم مورا، اورگاز اور اوردا قصبوں کے درمیان ہوا۔ اس میں سرکاری کمپنی رینفے کی ایک ٹرین اور نجی کمپنی ایریو کی دوسری ٹرین شامل تھی۔ دونوں ٹرینیں جنوبی اندلس کے شہر سیویل کو میڈرڈ سے جوڑنے والے راستے پر چل رہی تھیں۔
علاقائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات کا ابھی تعین نہیں ہو سکا ہے اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق بھی باقی ہے۔
ایڈف نے کہا کہ دونوں ٹرینوں کے پیچھے سے ٹکرانے کے بعد میڈرڈ-اندلس ہائی اسپیڈ ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔
کاستیا لا مانچا کی علاقائی حکومت کی ترجمان ایسٹر پادیلا نے بتایا کہ ایک ٹرین میں 146 مسافر اور ایک شیر خوار بچہ سوار تھا، جبکہ دوسری ٹرین میں 397 مسافر موجود تھے۔
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ”ٹرین کے سنگین حادثے” پر صدمے کا اظہار کیا اور کہا کہ ہنگامی خدمات کی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے جائے حادثہ پر کام کر رہی ہیں۔
سانچیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”تمام متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے میری ہمدردی، یکجہتی اور حمایت۔”
اوردا کے میئر مینوئل گالان نے ریڈیو اسٹیشن کادینا سیر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہری تحفظ کی ایجنسی کی درخواست پر زخمی مسافروں کو منتقل کرنے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک مرکز تیار کیا جا رہا ہے۔
ریال میڈرڈ، بارسلونا اور ایٹلیٹیکو میڈرڈ سمیت فٹ بال کلبوں نے بھی حادثے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
یہ حادثہ اسی ریلوے لائن پر انہی کمپنیوں کی تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان پیش آنے والے ایک اور تصادم کے نو ماہ بعد ہوا ہے، جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
جنوری میں صوبہ قرطبہ کے قریب اداموز کے مقام پر پیش آنے والے اس حادثے میں پٹری سے اترنے والی ایک ٹرین سامنے سے آنے والی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد حالیہ برسوں میں ریلوے کی دیکھ بھال پر ہونے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے بحث دوبارہ تیز ہو گئی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جرمنی میں ایک گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، کم از کم چار افراد زخمی
برلن، جرمنی کے صوبہ زیریں ساکسونیاکےنیوسٹاد ایم روب برگ شہر میں ایک گاڑی کے جان بوجھ کر شہریوں پر چڑھانے کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد زخمی ہو گئے۔
جرمن نیوز ایجنسی (دی پی اے) نے ہانوور کے پولیس ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ ہانوور کے قریب واقع نیوسٹاد ایم روب برگ میں گزشتہ شب ایک شخص نے گاڑی کو ہجوم پر چڑھا دیا۔
جائے وقوعہ کے قریب ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے اس پر فائرنگ کی۔
گاڑی میں سوار مشتبہ افراد، جن کی تعداد کا تاحال علم نہیں ہو سکا، جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔ مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے شروع کردہ کارروائی تا حال کامیاب نہیں ہو سکی۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ مشتبہ افراد نے ہجوم کو حادثاتی طور پر نہیں بلکہ غالباً خاص طور پر نشانہ بنایا؛ اس واقع میں 4 سے 5 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بعض شدید زخمی ہیں۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کو اکثریت حاصل نہیں، عرب جماعتیں کنگ میکر بننے کی پوزیشن میں
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کا اتحاد بدھ کو پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج میں آگے ہے، لیکن اسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اس صورتحال میں ملک کا سیاسی مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت سازی کے لیے اپنے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے جاری کردہ جزوی نتائج کے مطابق، تقریباً 55 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 56 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 49 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ذرائع ابلاغ کے اندازوں کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں 16 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اگر اپوزیشن رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو یہ جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دونوں عرب جماعتوں کو اب تک کے کسی بھی انتخاب کے مقابلے میں زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ عرب شہریوں میں ووٹنگ کی شرح میں اضافے کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عرب شہری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں اور ان میں سے بہت سے خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔
اسرائیل کے بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ایگزٹ پول کے مطابق، ووٹروں کی اکثریت نے نیتن یاہو کے اتحاد کی مخالف جماعتوں کی حمایت کی ہے، تاہم ان کی لیکوڈ پارٹی سب سے بڑی واحد جماعت برقرار ہے۔ نیتن یاہو اور اپوزیشن، دونوں میں سے کسی کے پاس بھی حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے کا واضح راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔
نیتن یاہو کے موجودہ اتحاد میں شامل انتہائی قوم پرست اور الٹرا آرتھوڈوکس یہودی جماعتوں کی مجموعی نشستیں کم ہونے کا امکان ہے۔ اس اتحاد کو سبکدوش ہونے والی پارلیمنٹ میں 68 نشستیں حاصل تھیں۔
نیتن یاہو اور آئزن کوٹ، دونوں کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کی خاطر مشکل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عرب جماعتوں کی بہتر کارکردگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عرب آبادی والے علاقوں میں جرائم اور تشدد سے نمٹنے کے معاملے پر دائیں بازو کی سخت گیر حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر ناراضگی پائی جاتی ہے۔ تاہم، مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے کئی رہنما عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے سے انکار کر چکے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ عرب جماعتوں کی شمولیت سے قومی سلامتی اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگر اپوزیشن رہنما اپنا موقف تبدیل کر لیتے ہیں تو وہ ممکنہ طور پر حکومت تشکیل دے کر نیتن یاہو کے دور اقتدار کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، عرب ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون کے معاملے پر اپوزیشن کے اندر اختلافات آئزن کوٹ کی اقتدار حاصل کرنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل میں پہلے عام انتخابات ہیں۔ ان حملوں نے اسرائیل کی سلامتی کے نظام کی سنگین خامیوں کو اجاگر کیا تھا اور ایک ایسے علاقائی تنازعے کو جنم دیا جس میں غزہ، لبنان اور شام بھی شامل ہو گئے۔ اسرائیل ایران کے ساتھ براہ راست تصادم کے دو ادوار سے بھی گزر چکا ہے، جبکہ نیتن یاہو مزید فوجی کارروائیوں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
لبنان اور ایران سمیت متعدد محاذوں پر تقریباً تین برس سے جاری جنگ کے بعد انتخابی مہم میں سلامتی اور ملک کے مستقبل کی سمت اہم موضوعات رہے۔
اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے نیتن یاہو نے موقف اختیار کیا کہ ان کی حکومت کو اپنے فوجی اہداف حاصل کرنے اور مخالفین پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
آئندہ چند روز میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے ساتھ نشستوں کے حتمی اندازوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
نتائج کی توثیق کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں خیال ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
ہندوستان1 week agoاو آئی سی میں کشمیر پر بدنیتی پر مبنی بیانات کو ہندوستان نے کیا مسترد، پاکستان کو بنایا نشانہ
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
دنیا1 week agoیوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
