ہندوستان
سال 2030 تک گرین انرجی کے لیے 220 ارب ڈالر کی ضرورت، بھارت آر ای کانفرنس سے سرمایہ کاری میں اضافے کی امید
نئی دہلی، ملک میں گرین انرجی کو مزید فروغ دینے کے لیے آئندہ چار برسوں کے دوران اس شعبے میں 220 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اگلے ہفتے منعقد ہونے والی بھارت ری نیوایبل انرجی (بھارت آر ای) کانفرنس اور نمائش 2026 سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو مزید رفتار ملنے کی امید ہے۔
وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے سکریٹری سنتوش کمار سارنگی نے بدھ کے روز یہاں کانفرنس کے بارے میں میڈیا کو معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں منعقدہ بھارت آر ای کانفرنس کے بعد دو برسوں کے دوران حکومت نے گرین انرجی کے شعبے میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے حوصلہ پاکر نجی شعبے کی جانب سے 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اس میں 6.2 ارب ڈالر کی راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے بھی اسی طرح کی توقع ہے اور امید ہے کہ یہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
مسٹر سارنگی نے کہا کہ 500 گیگاواٹ غیررکازی ایندھن پر مبنی توانائی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سال 2030 تک ملک کے گرین انرجی کے شعبے میں 220 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس میں براہ راست گرین انرجی اور اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ شمسی توانائی کے لیے 70 ارب ڈالر، ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے لیے 30 سے 35 ارب ڈالر، گرین ہائیڈروجن کے لیے 20 سے 25 ارب ڈالر، حیاتیاتی توانائی کے لیے تین سے پانچ ارب ڈالر اور آبی بجلی کے لیے 12 سے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس کے علاوہ بیٹری اسٹوریج کے لیے 20 ارب ڈالر، مینوفیکچرنگ کے لیے 15 ارب ڈالر اور بجلی کی ترسیل کے نظام کے لیے 40 سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہاں بھارت منڈپم میں 2 سے 5 نومبر تک منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں گرین انرجی سے متعلق تمام امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ اس میں 130 سے زیادہ ممالک کے 75 ہزار سے زائد نمائندے شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں 14 ریاستوں اور 70 ممالک کے خصوصی اجلاس منعقد ہوں گے۔ بیرونِ ملک سے 40 وزرا سمیت 835 سفارت کاروں نے اب تک اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔ کانفرنس اور نمائش کا انعقاد 32 ہزار مربع فٹ کے رقبے میں کیا جا رہا ہے، جہاں 400 نمائش کنندگان اور 500 مقررین شرکت کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی 2 نومبر کو بھارت آر ای کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ اسی دن بند کمرے میں چیف ایگزیکٹیو افسران (سی ای اوز) کی گول میز کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔ اگلے روز، یعنی 3 نومبر سے عام لوگوں کے لیے مفت داخلے کی سہولت دستیاب ہوگی۔ نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن 5 نومبر کو اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
مسٹر سارنگی نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ بھارت نے اب تک گرین انرجی کے شعبے میں کتنی پیش رفت کی ہے اور مستقبل کے لیے اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ دوسرے ممالک کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی ہوگا۔ کانفرنس میں حکومتوں کے درمیان، حکومتوں اور کاروباری اداروں کے درمیان اور کاروباری اداروں کے آپس میں معاہدے ہونے کی امید ہے۔ اس میں کئی ماہرینِ تعلیم، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) اور اسٹارٹ اَپس بھی شرکت کریں گے۔
اس وقت ملک میں توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 550 گیگاواٹ سے زیادہ ہے، جس میں 308 گیگاواٹ غیر رکازی ایندھن پر مبنی توانائی شامل ہے۔ ہندوستان گرین انرجی کا 50 فیصد ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر چکا ہے اور خود مقرر کردہ مدت سے پہلے 500 گیگاواٹ گرین انرجی کا ہدف بھی حاصل کر لیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا موضوع ”سرمایہ کاری کرو، جدت لاؤ، ترغیب دو” رکھا گیا ہے۔
مسٹر مودی اس موقع پرگرین انرجی کے حوالے سے ریاستوں کی درجہ بندی بھی جاری کریں گے۔ وہ 1947 سے اب تک ملک میں شمسی توانائی کے سفر پر مبنی ایک دستاویز بھی جاری کریں گے۔
کانفرنس کے دوران قابلِ تجدید توانائی پر قومی کوئز مقابلے، بھارت آر ای ہیکاتھون اور اسکول کے بچوں کے درمیان منعقدہ اختراعی مقابلے کے فاتحین کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ہردیپ پوری مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کے لیے بی جے پی کے امیدوار نامزد
نئی دہلی، مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی ایک نشست کے ضمنی انتخاب کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ اس نشست کے لیے ضمنی انتخاب 12 نومبر کو ہونا ہے۔
بی جے پی کے جنرل سکریٹری ترون چُگ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق، پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے مسٹر پوری کو مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر پوری کی راجیہ سبھا کی موجودہ مدت 25 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ وہ اس وقت اتر پردیش سے ایوان بالا کے رکن ہیں۔
اس نشست کے لیے نامزدگی کا عمل 26 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے اور 2 نومبر تک جاری رہے گا۔ 3 نومبر کو نامزدگی کے کاغذات کی جانچ ہوگی، جب کہ 5 نومبر تک امیدوار اپنے نام واپس لے سکیں گے۔
یہ نشست سابق مرکزی وزیر ایل مروگن کے استعفے کے باعث خالی ہوئی ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
کھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم کو کابینہ کی منظوری، 1,856.67 کروڑ روپے خرچ ہوں گے
نئی دہلی، مرکزی کابینہ نے 2026 سے 2033-34 تک کے لیے 1,856.67 کروڑ روپے کی لاگت سے ‘کھیلو انڈیا کھیلوں کے سامان کی تیاری کی اسکیم’ کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں کھیلوں کے سامان کی تیاری، ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور برآمدات کو فروغ دینا اور عالمی بازار میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کے روز منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سلسلے میں پیش کی گئی تجویز کو منظوری دی گئی۔
میٹنگ کے بعد اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کھیلوں کے سامان کی تیاری کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جہاں مینوفیکچررز، سپلائرز، جانچ کے مراکز اور ڈیزائن کی سہولتیں ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گی۔ ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لیے ترغیب دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے پیداوار میں اضافے اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کو وسعت دینے سے متعلق امداد پر 1,130 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم میں چھوٹی اور درمیانہ صنعتوں کے موجودہ پیداواری مراکز کو جدید بنانے، مشترکہ سہولتوں کی ترقی اور بین الاقوامی کھیلوں کی فیڈریشنوں سے معیار کی تصدیق حاصل کرنے کے لیے بھی امداد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ سرٹیفکیشن کے لیے 105 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کھیلوں کے آلات، نئے مواد اور جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی سے متعلق تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ اسٹارٹ اپس، ہنرمندی کے فروغ اور ہندوستانی کھیلوں کے سامان کی بین الاقوامی بازاروں تک رسائی بڑھانے پر بھی زور دیا جائے گا۔
مسٹر ویشنو نے کہا کہ اس اسکیم سے ملک میں کھیلوں کے سامان کی پیداواری صلاحیت مضبوط ہوگی، درآمدات پر انحصار کم ہوگا، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافہ ہوگا اور ہندوستانی کھیلوں کے سامان کی برآمدات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بدھ کے روز کہا کہ ووٹ کا حق چھیننے پر آمادہ مودی حکومت اب لوگوں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ تہواروں کے موسم میں کمر توڑ مہنگائی عام لوگوں کی کمائی کا ایک ایک پیسہ نگل رہی ہے، جس سے عام خاندانوں کے لیے گھر چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مہنگائی اور گھریلو معاشی صورت حال سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غذائی مہنگائی 2.13 فیصد سے بڑھ کر 7.74 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جب کہ خردہ مہنگائی 5.54 فیصد اور تھوک مہنگائی 11.39 فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھریلو قرض میں 36.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور گھریلو مالی بچت میں چار فیصد کی کمی آئی ہے۔
کانگریس صدر نے بی جے پی کے پرانے انتخابی نعروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اقتدار میں بیٹھی بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بیان بازی سے فرصت ملے تو انہیں 2014 سے پہلے اپنے اشتہار ‘بہت ہوئی مہنگائی کی مار’ کو دوبارہ دیکھنا چاہیے۔ مسٹر کھرگے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے ‘اچھے دن’ کی امید میں 12 سال گنوا دیے ہیں۔
یواین آئی۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
ہندوستان1 week agoاو آئی سی میں کشمیر پر بدنیتی پر مبنی بیانات کو ہندوستان نے کیا مسترد، پاکستان کو بنایا نشانہ
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
دنیا1 week agoیوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
