جموں و کشمیر
جموں و کشمیر بی جے پی کی نیشنل کانفرنس میں پھوٹ کی پیش گوئی، کابینہ میں جموں کو نظرانداز کرنے پر عمر عبداللہ پر تنقید
جموں، جموں و کشمیر میں حکمراں نیشنل کانفرنس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی مبینہ غلط کاریوں کے باعث ”بہت جلد” پھوٹ پڑنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کو حالیہ کابینہ میں ردوبدل کے دوران جموں خطے اور بالخصوص ہندو برادری کو مبینہ طور پر نظرانداز کیے جانے پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔
یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر بی جے پی کے چیف ترجمان سنیل سیٹھی نے کہا کہ پارٹی نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ جس دن عمر عبداللہ اپنی کابینہ میں ردوبدل کریں گے، اسی دن سے نیشنل کانفرنس کے انتشار کا آغاز ہوجائے گا۔ اس پریس کانفرنس میں پارٹی ترجمان ڈاکٹر ابھجیت سنگھ جسروٹیا، زوراور سنگھ جموال اور پریموکش سیٹھ بھی موجود تھے۔
سنیل سیٹھی نے کہاکہ ”اب ہماری پیش گوئی درست ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔’
انہوں نے یاد دلایا کہ جب وزرا کی کونسل میں چھ ارکان تھے تو ان میں سے تین جموں خطے سے تعلق رکھتے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ”ہمیں امید تھی کہ تین خالی وزارتوں میں سے کم از کم ایک جموں کو دی جائے گی اور کابینہ میں ہندوؤں کی نمائندگی بڑھائی جائے گی۔ لیکن اس کے برعکس کابینہ میں ردوبدل سے جموں کے لوگوں، خصوصاً ہندو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔”
کابینہ میں صرف ایک ہندو چہرہ باقی رہ جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ ستیش شرما کو کابینہ سے کیوں ہٹایا گیا۔
سیٹھی نے کہاکہ ”ان پر بدعنوانی کے الزامات سب سے کم تھے۔ کیا نیشنل کانفرنس یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ صاف ستھری شبیہ رکھنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی جگہ نہیں ہے؟ ہم کسی کو کردار کا سرٹیفکیٹ دینے نہیں آئے ہیں، لیکن سنگین الزامات کا سامنا کرنے والوں کو برقرار رکھا گیا، جبکہ صاف شبیہ والے وزیر کو ہٹا دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیشنل کانفرنس ستیش شرما کو کابینہ سے ہٹانا چاہتی تھی تو کم از کم اسے اپنے دیگر ہندو ارکان اسمبلی کو کابینہ میں جگہ دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے سوال کیاکہ ”حکومت نے جموں کے لوگوں کو کیا پیغام دیا ہے؟ جموں کے میدانی علاقوں کو وزرا کی کونسل میں کوئی نمائندگی نہیں ملی۔ ایسے میں جموں کے لوگ اس حکومت سے انصاف کی توقع کیسے کرسکتے ہیں؟”
سیٹھی نے کہا کہ کابینہ میں ردوبدل کے بعد نیشنل کانفرنس کے اندر جو واقعات سامنے آرہے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی تقسیم کی جانب بڑھ رہی ہے اور جموں و کشمیر کے سیاسی منظرنامے سے اس کا وجود بھی ختم ہوسکتا ہے۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس کے ان رہنماؤں کی جانب اشارہ کیا جو کھلے عام پارٹی قیادت کی مخالفت کررہے ہیں، جبکہ پارٹی کے حامی بھی اس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں میں آتشزدگی: بی جے پی صدر کا متاثرین کو معاوضہ دلانے کا یقین
جموں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جموں و کشمیر صدر اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ست شرما نے بدھ کو جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع شیو مارکیٹ کا دورہ کیا اور وہاں بھیانک آتشزدگی سے دکانوں کو پہنچنے والے نقصان اور تاجروں کے بھاری مالی خسارے کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کے مسائل وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور انہیں معاوضہ دلانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے ہمراہ ست شرما نے متاثرہ دکانداروں سے ملاقات کی، آگ سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ست شرما نے کہا کہ آتشزدگی نے برسوں کی محنت، جمع پونجی اور روزگار کو تباہ کردیا ہے۔ اس حادثے کے باعث کئی خاندانوں کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب تہواروں کا موسم جاری ہے۔
ست شرما نے کہاکہ ”شیو مارکیٹ کے تاجروں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ برسوں کی محنت اور ان کی جمع پونجی چند لمحوں میں راکھ ہوگئی۔ ہم ان خاندانوں کو مصیبت کی اس گھڑی میں خود کو بے سہارا محسوس نہیں کرنے دے سکتے۔ بی جے پی مشکل ترین حالات میں عوام کے ساتھ کھڑی رہتی ہے اور متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن سنجیدہ کوشش کرے گی۔”
انہوں نے تاجروں کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھائیں گے اور متاثرہ تاجروں کو مالی امداد دلانے کے لیے تمام ممکنہ راستے اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے مناسب ریلیف فنڈ کے ذریعے مدد فراہم کرنے کا معاملہ ہو، کسی موجودہ سرکاری اسکیم کے تحت امداد کی فراہمی ہو یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومت کی جانب سے خصوصی راحت اور بازآبادکاری پیکیج کا اعلان، وہ تمام قابل عمل امکانات کے لیے کوشش کریں گے۔
ست شرما نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ نقصانات کا جلد از جلد تخمینہ لگایا جائے اور متاثرین کو قواعد کے مطابق ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے دہرایا کہ بی جے پی متعلقہ حکام کے سامنے اس معاملے کو مسلسل اٹھائے گی، تاکہ متاثرہ تاجروں کے جائز مطالبات پر مناسب توجہ دی جاسکے۔
رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے بھی متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے نے برسوں کی محنت اور قیمتی تجارتی سامان کو راکھ میں تبدیل کردیا ہے۔
انہوں نے دکانداروں کو یقین دلایا کہ ان کے جائز مطالبات متعلقہ محکموں کے سامنے اٹھائے جائیں گے اور انہیں راحت و معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع، چار نئے وزراء شامل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو اپنی کابینہ میں پہلی مرتبہ توسیع کی۔
نیشنل کانفرنس (این سی) کے چار ارکان اسمبلی علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی عرف کلو نے وزیر کے عہدے کا حلف لیا۔ چاروں وزراء کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو لوک بھون میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں جموں و کشمیر کی وزارتی کونسل میں شامل کیے گئے نئے وزراء کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔
تقریب میں جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزراء سکینہ مسعود ایتو، جاوید احمد رانا اور جاوید احمد ڈار، رکن پارلیمنٹ گرویندر سنگھ اوبرائے سمیت کئی معزز شخصیات اور سینئر افسران موجود تھے۔
کابینہ میں شامل کیے گئے نئے وزراء میں سری نگر کے خان یار حلقے کے رکن اسمبلی علی محمد ساگر، ترہگام کے رکن اسمبلی میر سیف اللہ، پہلگام کے رکن اسمبلی الطاف احمد کلو اور سری نگر کے حبہ کدل حلقے کی رکن اسمبلی شمیمہ فردوس شامل ہیں۔
واضح رہے کہ علی محمد ساگر اور میر سیف اللہ اس سے قبل 2008 سے 2014 تک عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں۔
ان چاروں ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے اور ستیش شرما کو وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اب وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کونسل کے ارکان کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے، جو مقررہ زیادہ سے زیادہ حد ہے۔ عمر عبداللہ نے آزاد رکن اسمبلی ستیش شرما کو وزارتی کونسل سے ہٹا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جموں خطے کے میدانی علاقوں کو کابینہ میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں رہی۔
ستیش شرما کے پاس خوراک، شہری رسد و امور صارفین، ٹرانسپورٹ، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوجوانوں کی خدمات و کھیل اور اے آر آئی و تربیت جیسے محکموں کی ذمہ داری تھی۔
جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ کی حکومت کے قیام کے دو سال سے زیادہ عرصے بعد کابینہ میں یہ توسیع کی گئی ہے۔ آئینی دفعات کے مطابق، 90 رکنی اسمبلی والی ریاست جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ سمیت وزارتی کونسل کے ارکان کی زیادہ سے زیادہ تعداد نو ہو سکتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ”کابینہ میں ردوبدل ایک بہت اچھا قدم ہے۔ ان لوگوں کو کام کرنے اور عوام کے مسائل کم کرنے کی کوشش کرنے کا موقع ملے گا۔”
تاہم، کابینہ میں توسیع کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کے بعض رہنماؤں میں ناراضگی بھی دیکھی گئی۔ پارٹی کے سینئر رہنما مبارک گل نے کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر عوامی طور پر مایوسی کا اظہار کیا۔
مسٹر گل نے سری نگر میں لوک بھون کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”میں اب تک 30 حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کر چکا ہوں۔ ہر مرتبہ مجھے کابینہ سے باہر رکھا گیا اور آج بھی مجھے باہر ہی رکھا گیا ہے۔”
مبارک گل کے حامیوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں احتجاج بھی کیا۔ ان کی جانب سے ناراضگی ظاہر کیے جانے کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں پارٹی کا نیا جنرل سکریٹری نامزد کر دیا۔
پارٹی کے ایک اور رکن اسمبلی عبدالحمید لَرمی نے بھی کابینہ میں شامل نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
سرینگر میں چوری کے معاملے میں دو گھریلو ملازمین گرفتار، 45 لاکھ روپے کے سونے کے زیورات برآمد
سرینگر، سرینگر پولیس نے خان یار علاقے میں ایک مکان میں چوری کے الزام میں دو گھریلو ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ان کے قبضے سے چوری کیے گئے سونے کے زیورات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مالیت تقریباً 45 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
پولیس اسٹیشن خان یار کو 25 اکتوبر کو مسکین باغ، سرینگر کے رہنے والے بشارت حسین کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت میں انہوں نے اپنے مکان سے قیمتی سونے کے زیورات چوری ہونے کی اطلاع دی تھی۔
شکایت کی بنیاد پر پولیس نے خان یار پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 306 کے تحت ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ تفتیش، انسانی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات اور تکنیکی نگرانی کی مدد سے پولیس ٹیموں نے دونوں ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔ ان کی شناخت 24 سالہ نکیتا داس اور 28 سالہ دیپ باروا کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق آسام کے ضلع موریگاؤں سے ہے۔
پولیس کے مطابق، تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دونوں ملزمان شکایت کنندہ کے گھر میں گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے تھے۔ الزام ہے کہ انہوں نے چوری کی واردات انجام دینے کے بعد وہاں سے فرار اختیار کر لی تھی۔
تفتیش کے دوران پولیس نے چوری کیے گئے زیورات بھی برآمد کر لیے، جن میں سونے کی 16 انگوٹھیاں، پانچ ہار، چار چوڑیاں، دو بروچ، تین ٹائی پن، سات لاکٹ اور کانوں کی نو جوڑیاں شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق، برآمد شدہ سونے کے زیورات کی مجموعی تخمینہ شدہ مالیت تقریباً 45 لاکھ روپے ہے۔
پولیس نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ
-
دنیا1 week agoفرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ
-
دنیا1 week agoہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
-
دنیا1 week agoجے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا
-
ہندوستان1 week agoبچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…
-
دنیا1 week agoیوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن
-
ہندوستان1 week agoآر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا
