جموں و کشمیر
زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت
جموں، حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں واضح کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران زعفران کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی ریکارڈ نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی یہ پیداوار 5 فیصد تک گری ہے۔
یہ وضاحت رکن اسمبلی حسنین مسعودی کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیے گئے سوالات کے جواب میں کی گئی۔
حکومت کے مطابق قومی مشن برائے زعفران کے آغاز سے پہلے زعفران کی کاشت اور پیداوار میں شدید کمی آئی تھی، مگر مشن کے نفاذ کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔
محکمہ زراعت کے مطابق 2010-11 سے زعفران کی کاشت شدہ زمین 3,715 ہیکٹر ہے، جبکہ مشن کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی، جی آئی ٹیگنگ، سائنسی خشک کاری، مارکیٹنگ سہولیات اور پروسیسنگ کے باعث مجموعی پیداوار اور معیار میں اضافہ ہوا ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ 2000 کی دہائی میں فی ہیکٹر محض 1.27 سے 1.68 کلو پیداوار رہ گئی تھی، تاہم مشن کے بعد پیدا وار کی شرح مسلسل بہتر ہوئی ہے، سوائے چند برسوں کے جن میں سیلاب (2014) اور خشک سالی (2017-18) کے سبب پیداوار متاثر ہوئی تھی۔
گزشتہ پانچ برسوں کے اعدادوشمار کے مطابق مجموعی پیداوار میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جو 2023-24 میں 23.53 میٹرک ٹن تک پہنچی۔ مشن کے نتیجے میں جی آئی ٹیگنگ اور سائنسی پروسیسنگ کے باعث زعفران کا معیار بہتر ہوا اور قیمت 80 ہزار روپے فی کلو سے بڑھ کر 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی کلو تک پہنچی۔
حکومت نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ پی ایم زعفران مشن ناکام ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشن کے تحت بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم کچھ اہداف—خصوصاً آبپاشی نظام مکمل نہیں ہوسکے۔ کشمیر میں کمیونٹی بورویلز کے نیٹ ورک کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹینڈرنگ میں کم حصہ داری اور کسانوں کی جانب سے بورویلز کی دیکھ ریکھ کے اخراجات برداشت کرنے سے ہچکچاہٹ رہی۔ اب تک 85 بورویلز محکمہ زراعت کے سپرد کیے جا چکے ہیں، جن میں سے صرف چند عملی طور پر فعال ہیں۔
حکومت نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بعض علاقوں میں کچھ عناصر اور رئیل اسٹیٹ مافیا کی سرگرمیوں نے سپرنکلر نظام اور بورویلز کو نقصان پہنچایا، جس کے خلاف کارروائی اور شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائی گئی ہیں۔
وزارت زراعت کے مطابق مشن کا بڑا حصہ کامیابی سے مکمل ہوا ہے اور باقی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کسانوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ زعفران مشن کے اصل مقاصد—پیداوار میں اضافہ، معیار کی بہتری اور آبپاشی نظام کی مضبوطی—کو پوری طرح حاصل کیا جا سکے۔
یو این آئی، ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
بجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ
سری نگر، بجلی کے کرایوں میں اضافے کے فیصلے پر نیشنل کانفرنس کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق قرہ نے اس اضافے کو عام لوگوں کے لیے “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت” قرار دیا۔ ایک بیان میں قرہ نے کہا کہ ایسے وقت میں جب گھرانے پہلے ہی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی دباؤ سے جوجھ رہے ہیں، حکومت کو بجلی کے اعلیٰ بلوں کے ذریعے ان کا بوجھ بڑھانے کے بجائے صارفین کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا۔
قرہ نے کہا۔”جموں و کشمیر کے لوگ حکومت سے بجلی کے بلوں میں ریلیف اور کٹوتی کا اعلان کرنے کی توقع کر رہے تھے، نہ کہ فی یونٹ ٹیرف میں اضافے کی۔ ایک عام گھرانے کے لیے، بجلی کے بل پر ہر اضافی روپیہ براہ راست خاندانی بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کے لیے غیر حساس ہے،”
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ٹیرف میں اضافے کا جائزہ لے کر اسے واپس لے اور گھریلو صارفین، خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقوں پر بجلی کا بوجھ کم کرنے کے لیے معنی خیز اقدامات کرے۔ “حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ بجلی کوئی آسائش نہیں ہے؛ یہ ایک ضروری سروس ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگ سستی اور قابل اعتماد بجلی کے مستحق ہیں، نہ کہ مسلسل بڑھتے ہوئے بلوں کے۔ کانگریس لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی اور ہر اس اقدام کی مخالفت کرے گی جو ان پر غیر معقول مالی بوجھ ڈالتا ہے،” مسٹر قرہ نے کہا۔ انہوں نے جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ وسیع تر عوامی مفاد میں اس فیصلے پر ثانی اور صارفین کو ریلیف بحال کرے، بجائے اس کے کہ ضروری سہولیات کو مزید پہنچ سے باہر بنایا جائے۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس نے 2024 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات اتحاد میں لڑے تھے۔ پیر کے روز پی ڈی پی اور اپنی پارٹی نے بھی بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور اسے عوام مخالف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے “مجبوری” قرار دیا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے بجلی کے اعلیٰ بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے ٹیرف میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اضافہ ایک ’’مجبوری‘‘ تھا اور حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں 6.83 فیصد اضافے کی منظوری دی ہے۔ نرخوں میں اضافے کے خلاف سیاسی جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا ہے۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں صحافیوں سے کہاکہ ’’ہم نے کب کہا تھا کہ بجلی کے نرخ نہیں بڑھیں گے؟ ہم نے کہا تھا کہ سب سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو 200 یونٹ بجلی دیں گے۔ ہم انہیں 200 یونٹ بجلی مفت فراہم کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حکومت مفت بجلی کی اپنی یقین دہانی پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنا چاہتی ہے اور واضح کیا کہ بجلی کے نرخوں میں نظرثانی سے اس اسکیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’بجلی کی قیمت اور اس اسکیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ضرورت مند لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘
اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے موجودہ نرخوں میں اضافے پر تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ سابقہ حکومتوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان کے دور حکومت میں بجلی کے نرخوں میں 14 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت انہیں یہ ناانصافی نہیں لگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چار سال قبل بھی بجلی کے نرخوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ خاموش رہے تھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں پنڈت ملازمین نے تازہ ’دھمکی آمیز پوسٹر‘ سامنے آنے کے بعد سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا
سری نگر، آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کشمیر نے وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سکیورٹی کے انتظامات فوری طور پر بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ ایک نیا مبینہ دھمکی آمیز پوسٹر سامنے آیا ہے۔
فورم نے پیر کو جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کو پیش کی گئی ایک درخواست میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت خدمات انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
فورم نے کہا کہ 23 اگست کو یونائیٹڈ لبریشن کونسل (یو ایل سی) نامی تنظیم کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کیا گیا ایک دھمکی آمیز پوسٹر سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں پی ایم پیکیج ملازمین کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔
درخواست کے مطابق پوسٹر میں بعض افراد کے نام، رہائشی پتے اور گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبروں سمیت حساس ذاتی معلومات بھی درج تھیں۔
فورم نے کہاکہ ’’پوسٹر کی صداقت کی پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم، اس طرح کے دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر، خاص طور پر ان میں حساس ذاتی معلومات شامل ہونا، انتہائی تشویش کا باعث ہے۔‘‘
ملازمین کی تنظیم نے کہا کہ اس معاملے سے متعلقہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ اس کی تصدیق اور ضروری کارروائی کی جاسکے۔
وادی میں کشمیری پنڈت ملازمین کے سابقہ ہدف بنا کر کیے گئے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے فورم نے کہا کہ دھمکی آمیز خطوط اور پوسٹروں کی بار بار تشہیر نے پی ایم پیکیج ملازمین میں خوف اور عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کردیا ہے۔
فورم نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پوری کشمیر وادی میں تعینات پی ایم پیکیج ملازمین کو مناسب اور اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے اور تازہ دھمکی آمیز پوسٹر کی فوری اور مکمل جانچ کی جائے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان7 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا7 days agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
دنیا7 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
-
ہندوستان7 days agoٹرمپ کا ہندوستان کے انتخابی نظام کو ماڈل قرار دے کر۔ دو آخری واشنگٹن
