جموں و کشمیر
دہشت گردی کےخلاف صفررواداری کو مضبوط کرنے کےلئے ایک بڑا قدم وسیع مشاورت میں حقیقی اصلاحات کی جڑیں:لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
پولیس پبلک اسکول بمنہ سری نگر میںفوجداری قوانین کی نمائش کاانعقاد
نئے فوجداری قوانین متاثرین کیلئے مبنی بر انصاف
سری نگر: جے کے این ایس : یونین ٹریٹری جموں وکشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو حال ہی میں متعارف کرائے گئے فوجداری قوانین کو ایک تاریخی اصلاحات کے طور پر بیان کیا جو ملک کے قانونی ڈھانچے کو متاثرین کے پہلے ماڈل کی طرف منتقل کرتا ہے جبکہ کمزور طبقوں کے وقار کو برقرار رکھنے کو یقینی بناتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے نئے فوجداری قوانین دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی ملک کی پالیسی کو تقویت دیں گے اور معاشرے سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد کریں گے۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس پبلک اسکول بمنہ سری نگر میں جموں وکشمیرپولیس کی انسداد اقتصادی جرائم ونگ کے زیر اہتمام منعقدہ فوجداری قوانین کی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے،لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ ان قوانین کا مرکزی مرکز متاثرین کےلئے انصاف ہے۔ وہ سزا پر مبنی دفعات کی نوآبادیاتی میراث کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بجائے ایک ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں جو ہر شہری، خاص طور پر خواتین، بچوں اور پسماندہ گروہوں کو انصاف اور وقار فراہم کرے۔انہوں نے وضاحت کی کہ مسودہ تیار کرنے کی مشق 2019 میں اس وقت شروع ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے برطانوی دور کے قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں، قانون سازوں، یونیورسٹیوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور عام شہریوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔
3200 سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں، جن میں 200 سے زیادہ سینئر پولیس افسران کی تفصیلی سفارشات بھی شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستان کی قانون سازی کی تاریخ میں اس طرح کی وسیع مشاورت کی مثال نہیں ملتی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوٹ کیا کہ اصلاحات بروقت انصاف کی ضمانت کےلئے نئے اقدامات متعارف کراتی ہیں۔ انہوںنے مزیدکہاکہ نئی دفعات ایف آئی آر سے لے کر سپریم کورٹ تک 3 سال کے اندر ٹرائل کو تیز کرنے اور فیصلے کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ منوج سنہا کاکہناتھاکہ پہلی بار، ہندوستانی قانون میں دہشت گردی کو بھی واضح طور پر کسی بھی ایسے عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو اتحاد، عوامی تحفظ یا امن کو خطرے میں ڈالتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف ہمارے صفر رواداری کے نقطہ نظر کو تقویت ملے گی اور خطے سے اس کے نشانات مٹ جائیں گے۔عوامی شرکت پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بیداری کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ ہندوستان کے نئے فوجداری قوانین دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی ملک کی پالیسی کو تقویت دیں گے اور معاشرے سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نئے قوانین نے تقریباً 150 سال بعد نوآبادیاتی دور کے فوجداری انصاف کے قوانین کی جگہ لے لی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو ہندوستان کے نظام انصاف کو نوآبادیاتی حکمرانی کی باقیات سے آزاد کرتا ہے اور کمزور گروہوں کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔منوج سنہانے مزید کہا کہ یہ اصلاحات صرف قانونی تبدیلیاں نہیں ہیں بلکہ ایک نئے ہندوستان کا وڑن ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وہ ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں جہاں انصاف تیز، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی ہو، اور جہاں قانون کی حکمرانی ہر شہری کے وقار کا تحفظ کرتی ہو۔منوج سنہا نے کہاکہ ان تینوں قوانین نے ہمارے فوجداری نظام انصاف کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور صرف سزا کی بجائے متاثرین کی طرف توجہ مرکوز کر دی ہے۔منوج سنہا نے مزید کہا کہ نئے قوانین نے جبر کے نوآبادیاتی نظام کو ختم کر دیا ہے، پرانے سامراجی قانونی فریم ورک کو ختم کر دیا ہے، اور سنگین جرائم کے لیے فرانزک تفتیش کو لازمی قرار دیا ہے۔
انہوں نے ان تبدیلیوں کے بارے میں عوامی بیداری کی ضرورت پر بھی زور دیا، یہ بتاتے ہوئے کہ جموں و کشمیر پولیس، محکمہ تعلیم، اور قانونی خدمات کے محکمے کو آگاہی مہمات کا انعقاد جاری رکھنا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرائم برانچ کشمیر نے اس مہم کو منظم کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے امید ہے کہ کرائم برانچ جموں اور ضلعی سطح پر بھی اسی طرح کی کوششیں کی جائیں گی۔
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
دہلی میں احتجاج پر پابندیوں کو لے کر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں کا کشمیر سے موازنہ
سری نگر، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مجوزہ احتجاج سے قبل نئی دہلی کے بعض علاقوں میں عائد پابندیوں پر جموں و کشمیر کے سیاست دانوں نے ہفتہ کو تنقید کی اور ان کا موازنہ جموں و کشمیر میں عائد کی جانے والی پابندیوں سے کیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کی شام کہا کہ ”کشمیر ماڈل” کو قومی دارالحکومت دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل وسطی دہلی میں انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
عمر عبداللہ نے جمعہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھاکہ ”کشمیر ماڈل کو دہلی منتقل کردیا گیا ہے۔ نئے جموں و کشمیر کے طرز پر بنائی گئی نئی دہلی میں آپ کا خیرمقدم ہے۔”
مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 24 گھنٹے کے لیے معطل کرنے کی اجازت دی تھی۔
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہفتہ کو دہلی کے حالات کا موازنہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں عائد پابندیوں سے کیا۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بندش اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو یاد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعد میں حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس فیصلے کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر لکھاکہ ”آج کی دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کے کشمیر کی ایک خوف ناک یاد دلاتی ہے۔ لوگوں کو گھروں میں بند کردیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کردیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کرلیا گیا تھا۔ اس وقت بی جے پی نے ڈھٹائی سے دعویٰ کیا تھا کہ کسی نے احتجاج نہیں کیا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”آج جب دہلی کا محاصرہ کیا گیا ہے، ٹرینیں روک دی گئی ہیں اور جنتر منتر جانے والی سڑکیں بند کردی گئی ہیں، تو وہ دوبارہ یہی جھوٹ دہرا سکتے ہیں کہ گیانیش کمار کے خلاف کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ پہلے احتجاج کو کچل دو، پھر اس سے انکار کردو کہ ایسا کبھی ہوا بھی تھا۔ جبری خاموشی کو رضامندی کے طور پر پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے۔”
جموں و کشمیر کے سرکردہ سیاست دانوں کے یہ بیانات قومی دارالحکومت میں سخت حفاظتی انتظامات کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں جنتر منتر جانے والی سڑکوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یواین آئی ۔ ظ ا
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
