تازہ ترین
مودی نے مشرقی ناگالینڈ پر تاریخی معاہدے کی ستائش کی، اسے سنگ میل قرار دیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو مشرقی ناگالینڈ سے متعلق دہائیوں پرانے مسائل کو حل کرنے کے مقصد سے ایک تاریخی معاہدے کی ستائش کی۔ انہوں نے اسے ایک سنگ میل قرار دیا جو خطے میں ترقی اور خوشحالی کو نمایاں طور پر فروغ دے گا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ شمال مشرق میں امن اور جامع ترقی کے لیے مرکز کے طویل مدتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
مودی نے کہا، “یہ واقعی ایک تاریخی معاہدہ ہے، جو ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا، خاص طور پر مشرقی ناگالینڈ میں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ لوگوں کے لیے مواقع اور خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا۔ یہ قدم شمال مشرق میں امن، ترقی، اور جامع ترقی کے لیے حکومت کی غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت ہند، حکومت ناگالینڈ اور ایسٹرن ناگالینڈ پیپلز آرگنائزیشن (ای این پی او) کے درمیان معاہدے پر 5 فروری کودستخط ہوئے تھے۔ اس کا مقصد ناگالینڈ کے مشرقی اضلاع کے دیرینہ مطالبات اور خدشات کو دور کرنا ہے، جو برسوں سے زیادہ انتظامی توجہ اور مساوی ترقی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے اس معاہدے کو ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے ایکس پر ایک علیحدہ پوسٹ میں کہا کہ یہ خطہ کو پرامن اور خوشحال شمال مشرق کے ان کے وژن کے قریب لاتا ہے۔ مسٹر شاہ نے کہا، “یہ تمام متنازعہ مسائل کو حل کرکے ایک پرامن اور خوشحال شمال مشرق کے مودی جی کے وژن کو پورا کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔”
مشرقی ناگالینڈ میں ایسے متعدد اضلاع ہیں جن کی اپنی سماجی و اقتصادی چیلنجز ہیں اور بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے اشارے کے لحاظ سے تاریخی طور پر ریاست کے دیگر حصوں سے پیچھے ہیں۔ ای این پی او طویل عرصے سے اس خطے کے لوگوں کی امنگوں کی آواز رہا ہے اور حکمرانی، ترقی اور نمائندگی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے۔
حکام نے کہا کہ اس معاہدے سے اہدافی ترقیاتی اقدامات، بہتر طرز حکمرانی اور فیصلہ سازی میں مقامی برادریوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ مرکزی حکومت نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ شمال مشرق میں پائیدار امن اور ترقی صرف بات چیت اور شمولیتی سیاسی حل کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ نیا معاہدہ شمال مشرق میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے اوراستحکام کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جامع کوششوں کے حصے کے طور پر حالیہ برسوں میں طے پانے والے معاہدوں اور رضامندی کے سلسلے میں ایک اور اہم قدم ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ایران نے عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی
نئی دہلی، ایران نے بغداد کی جانب سے بار بار درخواست کیے جانے کے بعد متعدد عراقی تیل بردار ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق یہ اجازت عراقی حکومت کی اپیلوں کے بعد دی گئی اور یہ ان اہم مطالبات میں شامل تھا جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورہ عراق کے دوران اٹھائے گئے تھے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، جس کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں اہم دباؤ کے ذریعے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دوران 103 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 89 جہاز باہر نکلے۔تاہم اس کے باوجود بحری آمدورفت جنگ سے قبل سات روزہ اوسط کا صرف تقریباً 20 فیصد رہی۔
اس عرصے میں زیادہ تر جہاز پاناما اور لائبیریا کے پرچم تلے سفر کر رہے تھے، جبکہ کسی امریکی پرچم والے جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ آمدورفت میں سب سے بڑا حصہ پروڈکٹ ٹینکروں کا تھا، جو عموماً ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کرتے ہیں۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز کے راستے 15 ملین بیرل سے زیادہ تیل اور پٹرولیم مصنوعات منتقل کی جا چکی ہیں، جبکہ مزید 5 ملین بیرل تیل پائپ لائنوں کے ذریعے منتقل ہوا۔
رائٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، “اس میں کوئی شک نہیں، امریکی بحریہ کی بدولت آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جاری ہے۔”
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس کے ذریعے بحری آمدورفت میں رکاوٹ کے عالمی تیل کی منڈیوں اور توانائی کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب سید بدر البوسعیدی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
جمعہ کی شب ہونے والی گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے موزوں حالات اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت سے متعلق صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں: قالیباف
تہران، قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ “خطے میں نئی سکیورٹی صورتحال کے قیام اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے ہمیں پڑوسی ممالک کی جانب سے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔”
ایرانی پالریمانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں مزید لکھا:”امریکہ نے اسرائیل کے مفاد میں جو ظلم کیا اور اپنے حلیفوں کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، اس کے نتیجے میں اس نے اپنے تمام حلیفوں کی سکیورٹی اتنے بڑے خطرے میں ڈال دی کہ حلیفوں نے مختصر عرصے کے لیے اپنے تمام اثاثے خطرے میں محسوس کیے۔”
قالیباف نے یہ بھی کہا کہ “حقیقی معنوں میں امن اور سلامتی ایک علاقائی اور خودمختار نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جائے گی۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف “کسی بھی ملک پر اب تک نافذ کی گئی سب سے سخت اقتصادی کارروائی” شروع کر دی ہے اور اسے “اقتصادی ڈی ڈے” اور “بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور تنہائی” قرار دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جو بھی ممالک ایران کو کسی بھی شکل میں مدد فراہم کریں گے، انہیں بھی سخت اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ٹرمپ کی نئی پابندیاں واشنگٹن انتظامیہ کی سابقہ پابندیوں کی طرح “ناکام” ثابت ہوں گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
چھڑی مبارک سری نگر سے پہلگام کے لیے روانہ
سری نگر، بھگوان شیو کی مقدس گدی چھڑی مبارک ہفتہ کو سری نگر کے دشنامی اکھاڑے سے پہلگام کے لیے روانہ ہوگئی، جس کے ساتھ رواں سال کی امرناتھ یاترا کی اہم مذہبی رسومات کا آغاز ہوگیا۔
چھڑی مبارک کے نگراں مہنت دیپیندر گری نے دشنامی اکھاڑے میں پوجا اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد سادھوؤں کے ایک گروپ کی قیادت کرتے ہوئے جلوس کی روانگی کی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گری نے بتایا کہ چھڑی مبارک 28 اگست کو، یعنی شراون پورنیما کے موقع پر، مقدس گپھا پہنچے گی، جہاں روایتی پوجا اور درشن کی رسومات ادا کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ مقدس مقام تک پہنچنے سے قبل جلوس پہلگام، چندن واری، شیش ناگ اور پنچ ترنی میں قیام کرے گا۔ گری نے کہاکہ ’’ہم اپنی مذہبی کتابوں میں مقرر کردہ تاریخوں پر عمل کرتے ہیں، گریگورین کیلنڈر پر نہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس سال 26 اور 27 اگست کو پنچ ترنی میں دو دن قیام کیا جائے گا۔
گری کے مطابق، شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گپھا میں روایتی رسومات ادا کرنے کے بعد چھڑی مبارک واپس پنچ ترنی آئے گی اور اس کے بعد سری نگر کی جانب روانہ ہوگی۔ اختتامی پوجا اور وسرجن کی رسومات 30 اگست کو ادا کی جائیں گی۔
رواں سال کی یاترا کا ذکر کرتے ہوئے گری نے کہا کہ خراب موسم سب سے بڑا رکاوٹ بنا، جس کے باعث 9 اگست کو یاترا معطل کرنا پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ یاترا کا دورانیہ کم ہونے کے باوجود اس سال 4.75 لاکھ سے زیادہ یاتری مقدس گپھا پہنچے۔
یواین آئی۔ ظا
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
ہندوستان1 week agoآنے والے 10 سال میں پانچ نئے ایٹمی توانائی پلانٹ شروع کرنے کا ہدف: مودی
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
