جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی بہت جلد متوقع: مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال
سری نگر، جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے مرکزی حکومت کی جانب سے ایک بڑا اشارہ سامنے آیا ہے۔ مرکزی وزیر برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے منگل کے روز کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق فیصلہ بہت جلد سننے کو ملے گا۔
مرکزی وزیر نے سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا معاملہ ’انتہائی حساس‘ ہے اور مرکزی حکومت اس پر نہایت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ہند بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا اور یہ سارا عمل مکمل طور پر آئینی طریقہ کار کے تحت انجام پائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں پہلے ہی یقین دہانی کرائی ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو ان کا حق ضرور ملے گا۔ میگھوال نے کہا:’ہمارے ہوم منسٹر نے لوک سبھا میں کہا ہے کہ جو کچھ جموں و کشمیر کے لوگوں کا حق بنتا ہے، وہ انہیں دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں آپ کو بہت جلد کوئی فیصلہ سننے کو ملے گا۔‘
واضح رہے کہ اگست 2019 میں حکومت ہند نے آئین کے دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی اور اس سابق ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا ۔ اسی کے بعد سے ریاستی درجہ کی بحالی کا معاملہ مسلسل زیرِ بحث ہے۔
مرکزی وزیر کے اس تازہ بیان نے جموں و کشمیر کے سیاسی حلقوں اور عوام میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ریاستی درجہ بحالی کا فیصلہ جلد سامنے آتا ہے تو یہ گزشتہ کئی برسوں میں ہونے والی سب سے بڑی سیاسی پیش رفت ہو گی۔
مرکزی حکومت نے ماضی میں اشارہ دیا تھا کہ ریاستی درجہ بحالی کا فیصلہ اسمبلی انتخابات کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، آج کے بیان میں ٹائم لائن واضح نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود بہت جلد کے الفاظ نے سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ مرکز اس سلسلے میں کسی بڑے قدم کی تیاری کر چکا ہے۔ اگر واقعی آنے والے دنوں یا ہفتوں میں کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے آتا ہے تو یہ 2019 کے بعد کی سب سے بڑی آئینی تبدیلی ہوگی۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
چھڑی مبارک سری نگر سے پہلگام کے لیے روانہ
سری نگر، بھگوان شیو کی مقدس گدی چھڑی مبارک ہفتہ کو سری نگر کے دشنامی اکھاڑے سے پہلگام کے لیے روانہ ہوگئی، جس کے ساتھ رواں سال کی امرناتھ یاترا کی اہم مذہبی رسومات کا آغاز ہوگیا۔
چھڑی مبارک کے نگراں مہنت دیپیندر گری نے دشنامی اکھاڑے میں پوجا اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد سادھوؤں کے ایک گروپ کی قیادت کرتے ہوئے جلوس کی روانگی کی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گری نے بتایا کہ چھڑی مبارک 28 اگست کو، یعنی شراون پورنیما کے موقع پر، مقدس گپھا پہنچے گی، جہاں روایتی پوجا اور درشن کی رسومات ادا کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ مقدس مقام تک پہنچنے سے قبل جلوس پہلگام، چندن واری، شیش ناگ اور پنچ ترنی میں قیام کرے گا۔ گری نے کہاکہ ’’ہم اپنی مذہبی کتابوں میں مقرر کردہ تاریخوں پر عمل کرتے ہیں، گریگورین کیلنڈر پر نہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس سال 26 اور 27 اگست کو پنچ ترنی میں دو دن قیام کیا جائے گا۔
گری کے مطابق، شراون پورنیما کے موقع پر مقدس گپھا میں روایتی رسومات ادا کرنے کے بعد چھڑی مبارک واپس پنچ ترنی آئے گی اور اس کے بعد سری نگر کی جانب روانہ ہوگی۔ اختتامی پوجا اور وسرجن کی رسومات 30 اگست کو ادا کی جائیں گی۔
رواں سال کی یاترا کا ذکر کرتے ہوئے گری نے کہا کہ خراب موسم سب سے بڑا رکاوٹ بنا، جس کے باعث 9 اگست کو یاترا معطل کرنا پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ یاترا کا دورانیہ کم ہونے کے باوجود اس سال 4.75 لاکھ سے زیادہ یاتری مقدس گپھا پہنچے۔
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
آئی آئی ایم جموں کو منفرد شناخت بنانی چاہیے، جموں و کشمیر اور لداخ کو عملی مطالعات میں تبدیل کرے: ایل جی سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں پر زور دیا کہ وہ اپنی منفرد تعلیمی شناخت قائم کرے اور جموں و کشمیر اور لداخ کے بورڈ رومز، بازاروں اور کاروباری ماحول کو انتظامی تعلیم کے لیے ’’عملی مطالعات‘‘ میں تبدیل کرے۔
آئی آئی ایم جموں کی دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہا کہ یہ ادارہ ایک معمولی آغاز سے ملک کے تیزی سے ابھرنے والے بزنس اسکولوں میں شامل ہوگیا ہے اور اب وقت کا تقاضا ہے کہ اگلی دہائی کے لیے ایک بلند حوصلہ منصوبہ تیار کیا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یاد دلایا کہ آئی آئی ایم جموں نے ایک دہائی قبل کینال روڈ پر واقع عارضی کیمپس میں محض 56 طلبہ کے ساتھ آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد یہ ادارہ انتظامی تعلیم کا قومی سطح پر تسلیم شدہ اور بین الاقوامی سطح پر فعال مرکز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی آئی ایم جموں ملک کا پانچواں آئی آئی ایم بن گیا ہے جسے AMBA اور EFMD دونوں کی منظوری حاصل ہوئی ہے۔ ادارے نے فرانس، مراکش، جنوبی کوریا، یونان، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، پولینڈ، سویڈن، تائیوان اور حال ہی میں برازیل کے تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی شراکت داری قائم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کی تحقیقی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2017 میں جہاں صرف دو تحقیقی مقالے شائع ہوئے تھے، وہیں اس سال یہ تعداد تقریباً 350 تک پہنچ گئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس سہائے، فیکلٹی اور بورڈ آف گورنرز کی قیادت میں ایک دہائی کی مسلسل محنت اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کا سفر ایک ایسا نمونہ بن گیا ہے جس سے دیگر بزنس اسکول بھی تحریک حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’میں نے ایک کے بعد ایک کامیابی کی تفصیلات دیکھی ہیں، اس کے ساتھ کئی منفرد اقدامات بھی سامنے آئے ہیں جو دیگر بزنس اسکولوں کے لیے متاثر کن مثال اور رول ماڈل بن گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں لوگ ان کامیابیوں کو ایک معیار اور مثالی نمونے کے طور پر یاد کریں گے اور ان کی تقلید کرنا چاہیں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے دنیا کے تین انتہائی معتبر بزنس اسکولوں کی بنیاد رکھنے کی کہانیوں کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے ہارورڈ کا ذکر کیا، جو کیس پر مبنی تعلیم کے نظم و ضبط پر قائم ہوا، اسٹینفورڈ کا، جس نے سلیکان ویلی کے ذریعے کلاس روم کو حقیقی کاروباری دنیا سے جوڑا اور وارٹن کا، جس نے عالمی سرمایہ بازاروں کی پیچیدگیوں میں مہارت حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کی۔
جاری۔یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
سری نگر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے فرضی ملازمت کے فراڈ کے ایک معاملے میں ایک عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے۔ حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ ملزم پر جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ملازمت دلانے کا وعدہ کرکے شکایت کنندہ کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کا الزام ہے۔
ای او ڈبلیو نے کپواڑہ کے لشتئیال کلاروس کے رہنے والے عبدالمجید میر کے خلاف رواں سال درج کیے گئے ایک مقدمے میں کپواڑہ کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں فردِ جرم عائد کی ہے۔ یہ مقدمہ آر پی سی کی دفعات 420، 468، 471 اور 201 کے تحت درج کیا گیا تھا۔
ای او ڈبلیو کے مطابق، معاملہ ایک تحریری شکایت سے متعلق ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے سرکاری ملازمت دلانے کے بہانے شکایت کنندہ سے لاکھوں روپے ہتھیا لیے۔ دھوکہ دہی کو آگے بڑھاتے ہوئے اس نے شکایت کنندہ کو ایک جعلی اور فرضی تقرری کا حکم نامہ بھی فراہم کیا، جو مبینہ طور پر جے اینڈ کے بینک کے چیئرمین/چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق، اس کے بعد تحقیقات کا حکم دیا گیا اور تفتیش کے دوران سامنے آنے والے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر الزامات ثابت پائے گئے۔ اس کے نتیجے میں معاملے کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے اسے ثابت شدہ قرار دیا گیا۔
بعد ازاں عدالتی فیصلہ کے لیے عدالت میں فردِ جرم پیش کردی گئی۔
حکام نے بتایا کہ میر ایک معروف عادی مجرم ہے اور وادی کشمیر میں اس کے خلاف 15 مختلف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ اسے 18 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اقتصادی جرائم ونگ، تھانہ ای او ڈبلیو سے متعلق ایک الگ مقدمے کے سلسلے میں سینٹرل جیل سری نگر میں قید ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان7 days agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
دنیا7 days agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
پاکستان6 days agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoپی ڈی پی نے وزیرِ اعظم کے خواتین ریزرویشن کے مطالبے پر سوال اٹھایا، کہا 2023 کا قانون نافذ کیا جائے
-
ہندوستان7 days agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا6 days agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی کے موقع پر وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلیدان استمبھ پر پھول چڑھائے
-
دنیا1 week agoاسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان میں سات افراد جاں بحق، حملوں میں شدت
-
ہندوستان7 days agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
دنیا7 days agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
دنیا1 week agoہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے: ٹرمپ
