جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں موسم کی پہلی برف باری
سری نگر، کشمیر کے بالائی علاقوں میں ہفتہ کے روز رواں موسم کی پہلی برف باری ریکارڈ کی گئی۔ تقریباً 3,900 میٹر سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں ہلکی برف باری ہوئی، جو وادی میں موسم خزاں کی جانب بتدریج منتقلی کی علامت ہے۔
گاندربل ضلع کے سونا مرگ اور زوجیلا کے علاقوں، بشمول زوجیلا اور گمری پہاڑوں میں ہلکی برف باری ریکارڈ کی گئی، جبکہ بارہمولہ ضلع کے گلمرگ کے اطراف کے بالائی علاقوں اور پیر پنجال سلسلۂ کوہ میں بھی تازہ برف باری ہوئی۔
سری نگر ضلع میں واقع مہادیو چوٹی ہلکی تازہ برف سے ڈھک گئی، جبکہ بانڈی پورہ ضلع کی کاؤبل گلی اور گریز کی تلائل وادی سے بھی برف باری کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
برف باری انتہائی بلند علاقوں تک ہی محدود رہی اور خطے کے لیے موسم کی پیش گوئی کے پیش نظر اس کی توقع کی جا رہی تھی۔
موسم کے ماہرین نے کہا کہ اتنی بلندی پر برف باری کا ہونا، خواہ مختصر وقفے کے دوران ہی کیوں نہ ہو، موسم کی تبدیلی اور خطے سے مانسون کی بتدریج واپسی کی علامت ہے۔
محکمہ موسمیات نے 13 ستمبر تک جموں و کشمیر میں موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، تاہم بعض مقامات پر مختصر وقفے کے لیے بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے 14 اور 15 ستمبر کو کہیں کہیں بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ 16 سے 18 ستمبر کے دوران موسم عموماً خشک رہنے کی توقع ہے۔ تاہم بعض مقامات پر مختصر وقفے کے لیے بارش یا گرج چمک کے ساتھ بوندا باندی ہو سکتی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
سرینگر، وادی کشمیر میں جنگلی سوروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے سائنسدانوں نے جینیاتی تحققی کام شروع کر دیا ہے۔
شیرِ کشمیر زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی کشمیر (ایس کے یو اے ایس ٹی-کے) کے وائلڈ لائف سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر خورشید احمد نے بتایا کہ جانور کا ایک نمونہ پہلے ہی جمع کر لیا گیا ہے۔ اب جموں اور ہندوستان کے اہم حصوں میں پائی جانے والی جنگلی سوروں کی آبادی کے ساتھ ان کے تعلق کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی تجزیہ کیا جائے گا۔
مسٹر خورشید نے یو این آئی کو بتایا، “ہم جینیاتی طور پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کا تعلق اہم آبادی (جموں یا ہندوستان کے اہم حصے کی آبادی) سے ہے یا پھر ان کا تعلق کشمیر کے دوسری طرف یعنی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار کی آبادی سے ہے۔”
یہ مطالعہ کشمیر میں اس نوع کی موجودگی کو لے کر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ہو رہا ہے کیونکہ وادی کے کئی علاقوں میں کسان زراعت اور سبزیوں کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ جنگلی سور کو کشمیر کا مقامی جانور نہیں مانا جاتا ہے اور 1980 کی دہائی میں اس علاقے میں انہیں مقامی طور پر معدوم قرار دے دیا گیا تھا۔ مسٹر خورشید کے مطابق اس نوع کو مہاراجہ گلاب سنگھ کے دورِ حکومت میں شکار کے مقصد سے کشمیر لایا گیا تھا، خاص طور پر داچی گام نیشنل پارک کے آس پاس کے جنگلات اور اس سے ملحقہ علاقوں میں۔ داچی گام میں تین جنگلی سور 2013 میں دوبارہ دیکھے گئے تھے۔ اس سے پہلے 1984 میں اس نوع کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔
آبادی کے ساتھ ان کے تعلقات کی جانچ کی جائے گی اور اس کے بعد پورے کشمیر میں جنگلی سوروں کی آبادی کا جینیاتی تخمینہ لگایا جائے گا۔ اس تحقیق سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ کشمیر کے الگ الگ حصوں میں پائے جانے والے جانور ایک ہی، باہم جڑی ہوئی آبادی کا حصہ ہیں یا الگ الگ آبادی ہیں۔ اس سے جین کے بہاؤ، نقل و حرکت کے انداز اور وادی میں اس نوع کی توسیع کے بارے میں بھی معلومات مل سکتی ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
بڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
سرینگر، وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بالائی علاقوں میں ہونے والے مقابلے کے ایک دن بعد، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتے کے روز آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت لشکرِ طیبہ سے وابستہ پاکستانی شہری یاسر کے طور پر کی ہے۔
پولیس نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “آپ بھاگ سکتے ہیں لیکن چھپ نہیں سکتے! ‘آپریشن اشدر’ کے دوران ہلاک کیے گئے دہشت گرد کی شناخت یاسر کے طور پر ہوئی ہے، جو لشکرِ طیبہ کا ایک پاکستانی شہری تھا۔”
یہ دہشت گرد جمعرات کی شام علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہندستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی جانب سے شروع کیے گئے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک ہوا۔ فوج نے بڈگام میں اس آپریشن کو ‘آپریشن اشدر’ کا کوڈ نام دیا ہے۔
جمعہ کو، فوج کی سرینگر میں قائم چنار کور نے کہا کہ تلاشی مہم میں مصروف فورسز نے مشکوک نقل و حرکت دیکھی اور چیلنج کرنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی، جس سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
فوج نے بتایا کہ اس کے بعد ہونے والے آپریشن میں ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا، جبکہ موقع سے ایک اے کے سیریز رائفل اور دیگر جنگی سامان برآمد ہوا ہے۔
یہ آپریشن بڈگام-پونچھ سرحد کے قریب تقریباً 15,000 فٹ کی بلندی پر واقع ایک گھنے جنگلاتی علاقے میں انجام دیا گیا، جہاں سکیورٹی فورسز کو دشوار گزار راستوں کی وجہ سے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ علاقہ پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے جو وادیِ کشمیر کو پونچھ-راجوری خطے سے جوڑتا ہے۔
فائرنگ کے کچھ گھنٹوں بعد، فوج کے ناردرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے بڈگام کے عمومی علاقے اشدر گلی میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کرنے کے لیے سرینگر میں قائم چنار کور کی فوری اور درست کارروائی کی ستائش کی۔
سکیورٹی فورسز نے جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں، خاص طور پر جنگلاتی اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی موجودگی تیز کر دی ہے جہاں دہشت گردوں کے پناہ لینے کا شبہ ہے۔ ان علاقوں میں مسلسل سکیورٹی موجودگی برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کے تحت، بالائی علاقوں میں کئی مقامات پر عارضی آپریٹنگ بیسز (ٹی اوبی) قائم کیے گئے ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نالن پربھات نے گزشتہ ماہ ان عارضی آپریٹنگ بیسز کے کام کاج اور خطے میں سکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
جموں و کشمیر
این سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
جموں، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی جموں علاقائی یونٹ نے ایک بڑے خفیہ آپریشن کے تحت جموں و کشمیر میں ہیروئن پہنچانے کے دو الگ الگ راستوں کا انکشاف کیا ہے۔ اس میں ایک راستہ پاکستان سے براہِ راست اوری سیکٹر کے ذریعے اور دوسرا پنجاب کے راستے استعمال ہو رہا تھا۔
این سی بی کے ترجمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا کہ گزشتہ تقریباً ایک مہینے کے اندر جموں ڈویژن میں چار کارروائیوں اور پنجاب میں ہوئی برآمدگی کو ملا کر ایجنسی نے کل 6.920 کلوگرام ہیروئن ضبط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص بات یہ رہی کہ ان میں سے دو مہمات نشے سے متاثرہ بستیوں کے اندر چلائی گئیں، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے حساس علاقوں پر براہِ راست کارروائی کی جا سکے۔
ترجمان کے مطابق تین ستمبر کو ہوئی تازہ کارروائی میں این سی بی نے سانبہ کے نئے بس اسٹینڈ کے پاس ایک مسافر بس کو روکا۔ ٹیم نے پلوامہ کے کاکاپورہ کے رہنے والے عاقب بشیر کے پاس سے 522 گرام ہیروئن برآمد کیے۔ انہوں نے بتایا، “این سی بی نے اس معاملے کی جانچ کی تو اس کے تار پنجاب کے لدھیانہ سے جڑے ملے، جہاں اگلی کارروائی میں 197 گرام مزید ہیروئن برآمد ہوئی۔”
انہوں نے بتایا کہ سانبہ-لدھیانہ نیٹ ورک سے اب تک کل 719 گرام ہیروئن ضبط ہو چکی ہے۔ اس کھیپ کی سپلائی، نقل و حمل اور فروخت سے جڑے باقی لوگوں کی شناخت کر کے انہیں پکڑنے کے لیے جانچ جاری ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اس سے پہلے این سی بی جموں نے 5.160 کلوگرام ہیروئن ضبط کر کے پاکستان-اوری روٹ کا انکشاف کیا تھا۔ پنجاب کا یہ معاملہ اسی بڑی کارروائی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا، “اس معاملے کی جانچ سے پتہ چلا کہ ہیروئن پاکستان سے بھیجی گئی تھی اور اوری سیکٹر کے راستے جموں و کشمیر میں لائی گئی تھی۔ این سی بی نے آگے کے کڑیاں جوڑتے ہوئے لیہہ تک تفتیش کی اور سپلائر کو گرفتار کر لیا۔” انہوں نے کہا کہ ان دو الگ الگ تحقیقات نے علاقے میں ہیروئن پہنچانے والے دو بڑے راستوں کا پردہ فاش کر دیا ہے جن میں ایک براہِ راست پاکستانی سرحد سے اور دوسرا پنجاب-جموں-کشمیر راہداری (کوریڈور) سے چل رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس مہم کے تحت این سی بی نے جموں اور سانبہ کی نشے سے متاثرہ بستیوں میں دو الگ الگ چھاپے مار کر بالترتیب 438 گرام اور 603 گرام ہیروئن برآمد کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 5.160 کلوگرام جموں ضبطی، 522 گرام سانبہ ضبطی، 197 گرام لدھیانہ برآمدگی اور بستیوں سے ہوئی ضبطی کو ملا کر کل 6.920 کلوگرام ہیروئن پکڑی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ این سی بی کی حکمتِ عملی صرف منشیات پکڑنے یا صرف کورئیر/پیڈلر کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا، “ہم ہر کھیپ کے اہم ذرائع تک پہنچنے، اس کے خریداروں کی شناخت کرنے اور پیسوں کے لین دین کی چھان بین کرنے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ اسمگلنگ کے اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔”
انہوں نے بتایا کہ ان نیٹ ورکس کے اہم ذرائع، خریداروں، فائنانسروں اور دیگر ساتھیوں کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بین ریاستی اور سرحد پار رابطوں کا پتہ لگانے کے لیے آگے کی جانچ چل رہی ہے۔ اس دوران، این سی بی نے عام لوگوں سے نشے کے خلاف اس لڑائی میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ منشیات کی فروخت، ذخیرہ اندوزی، نقل و حمل یا اسمگلنگ سے جڑی کوئی بھی معلومات قومی نارکوٹکس ہیلپ لائن ‘مانس’ کے نمبر 1933 پر دی جا سکتی ہے، جس میں اطلاع دینے والے کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر3 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
جموں و کشمیر1 week agoاننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا6 days agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoسینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
-
دنیا1 week agoامریکہ اور وینزویلا ‘دنیا کا سب سے بڑا تیل معاہدہ’ پر پہنچ گئے ہیں: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
-
ہندوستان1 week agoکھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے رکشا بندھن پر عوام کو مبارکباد دی
-
ہندوستان5 days agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا1 week agoنیپال میں سیلاب سے تقریباً 470 افراد ہلاک، امدادی کارروائیاں جاری
-
ہندوستان1 week agoنیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
