جموں و کشمیر
یاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
سرینگر، تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی محمد یاسین ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور استغاثہ کے کیس کو “بعد میں گھڑی گئی کہانی” قرار دیا ہے جس کی تائید کے لیے اس دور کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) نے جون میں سرینگر کی ایک خصوصی عدالت میں سرلا بھٹ کے 1990 کے اغوا اور قتل کے سلسلے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سرلا بھٹ شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس )، سورا میں اسٹاف نرس تھیں، اور چارج شیٹ میں ملک سمیت ان کے چار ساتھیوں—خورشید چالکو، عبدالحمید شیخ، غلام محمد تاپلو اور محمد یوسف صوفی—کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج (ٹاڈا/پوٹا کورٹ) سرینگر کے سامنے پیش کیے گئے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا کہ ایس آئی اے نے 19 اپریل 1990 کو بھٹ کے قتل کے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں خود کو بطور ملزم دیکھ کر انہیں “شدید صدمہ اور حیرت” ہوئی۔
حلف نامے کے مطابق، تہاڑ جیل میں 2 اور 3 جون کو ملک سے پوچھ گچھ کرنے والے ایس آئی اے افسران نے ان کے سامنے دو الزامات رکھے۔ پہلا الزام ایک مبینہ دستی تحریر (نوٹ) سے متعلق تھا جو مبینہ طور پر جے کے ایل ایف کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور جائے وقوعہ سے برآمد ہوا تھا، جس میں قتل کے سلسلے میں جاوید میر، شیخ عبدالحمید اور ملک کا نام درج تھا۔ دوسرا الزام یہ تھا کہ بھٹ نے نروارہ کے ایک مکان میں ملک کی موجودگی کے بارے میں سیکیورٹی فورسز کو مخبری کی تھی، جس کے بعد مبینہ طور پر ملک نے ان کے قتل کا حکم دیا۔
ملک نے دونوں الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 1990 میں واقعی ایسا کوئی نوٹ موجود تھا تو اس وقت کی تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں، جاوید کو یا حمید کو اس کیس میں کیوں نامزد نہیں کیا۔
ملک کے دفاع کا ایک بڑا حصہ 8 اپریل 1990 کے واقعات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نروارہ میں بی ایس ایف کے چھاپے سے بچنے کی کوشش کے دوران عمارت کی پانچویں منزل سے چھلانگ لگانے کے بعد وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بے ہوش اور کوما میں رہے اور بعد میں ایس ایم ایچ ایس اور سکمز اسپتالوں میں ان کا علاج ہوا۔
ملک نے دلیل دی کہ ان حالات میں ان کے لیے 19 اپریل کو بھٹ کے قتل کا حکم دینا ناممکن تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں بڑے پیمانے پر ان کے انتقال کی خبریں تک پھیل چکی تھیں اور بعد میں بھی وہ شدید چوٹوں کی وجہ سے معذور اور بے بس تھے۔
جے کے ایل ایف کے سربراہ نے بھٹ کو ایک بے قصور شہری قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ بھٹ کوئی مخبر تھیں یا نروارہ چھاپے میں ان کا کوئی کردار تھا۔
حلف نامے میں کہا گیا: “تفتیشی افسران کی جانب سے مجھ سے پوچھے گئے سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ کیا محترمہ سرلا بھٹ سیکیورٹی فورسز کے لیے خفیہ طور پر کام کر رہی تھیں اور کیا وہ 8 اپریل 1990 کو نروارہ، ڈاون ٹاون سرینگر میں کیے گئے چھاپے کی ذمہ دار تھیں۔ میں نے واضح طور پر کہا کہ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ محترمہ سرلا بھٹ نہ تو سیکیورٹی فورسز کے لیے کسی خفیہ حیثیت میں کام کر رہی تھیں اور نہ ہی وہ 8 اپریل 1990 کو نروارہ چھاپے کی کسی بھی طرح ذمہ دار تھیں۔ وہ ایک معصوم شہری تھیں۔ میری نظر میں وہ اتنی ہی معصوم تھیں جتنی میری اپنی تیرہ سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ۔”
ان کے مطابق، آپریشن کی قیادت کرنے والے بی ایس ایف کے ایک افسر نے بعد میں انہیں بتایا تھا کہ فورس کو عمارت میں ان کی موجودگی کی پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور چھاپے کا اصل ہدف ایک اور شخص تھا جو مبینہ طور پر اغوا کے ایک کیس سے جڑا ہوا تھا۔
ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں سرلا بھٹ کے قتل کے بارے میں پہلی بار 21 فروری 1991 کو—ان کی موت کے تقریباً 10 ماہ بعد—عدالتی تحویل کے دوران معلوم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک افسر نے انہیں بتایا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کو بھٹ کے قتل میں خورشید چالکو کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے پوچھا، “سرلا بھٹ کون ہے؟” اور کہا کہ یہ پہلی بار تھا جب انہوں نے یہ نام سنا تھا۔
حلف نامے میں واقعے کے دہائیوں بعد مبینہ طور پر ریکارڈ کیے گئے بیانات پر استغاثہ کے انحصار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ ملک نے نشاندہی کی کہ عبدالحمید اور جاوید میر کو 1990 کی دہائی میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے عسکریت پسندی سے متعلق دیگر مقدمات کا سامنا کیا، لیکن اس وقت ان پر بھٹ کے قتل کا مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
انہوں نے استغاثہ کے موجودہ بیانیے کو “بعد کی سوچ” قرار دیا اور دلیل دی کہ اس کیس کا فیصلہ قابلِ اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ اپنے ذاتی حالات اور گہرے غور و خوض کے بعد انہوں نے مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے حلف نامے میں کہا، “اپنے ذاتی حالات کے پیش نظر اور گہرے غور و فکر کے بعد، میں نے مقدمے کی سماعت میں مزید حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ میرے اس فیصلے کو استغاثہ کے کسی بھی واقعے، جرم یا میرے خلاف لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرنے سے تعبیر نہ کیا جائے۔ میں اپنے لیے سزائے موت کی درخواست کرتا ہوں۔”
یواین آئی، م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں سیشن 21 سے 30 ستمبر تک ہوگا
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس 21 تا 30 ستمبر منعقد ہوگا۔ اسمبلی سکریٹریٹ نے منگل کو اجلاس کا عارضی کاروباری کیلنڈر جاری کردیا۔
اسمبلی اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے جاری کیلنڈر کے مطابق اجلاس کا آغاز 21 ستمبر کو تعزیتی قراردادوں سے ہوگا، جس کے بعد سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔ 22 ستمبر کو بھی سرکاری امور ہوں گے، جبکہ 23 ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ کے موقع پر تعطیل رہے گی۔
24 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز بل اور 25 ستمبر کو پرائیویٹ ممبرز قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ 26 ستمبر کو ایوان کی کارروائی نہیں ہوگی، جبکہ 27 ستمبر کو بھی تعطیل رہے گی۔ 28 ستمبر کو دوبارہ پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیے جائیں گے، جبکہ 29 اور 30 ستمبر کو سرکاری امور انجام دیے جائیں گے۔
یہ اجلاس 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد منتخب حکومت کی بحالی کے بعد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا چھٹا اجلاس ہوگا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے میڈیکل انٹرنز 30 روز میں وظیفہ بڑھانے کی حکومتی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے پر راضی
سری نگر، جموں و کشمیر میں میڈیکل انٹرنز نے حکومت کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد اپنی ہڑتال ختم کرنے اور ڈیوٹی پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ ان کے وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو 30 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
یہ فیصلہ حکومت اور احتجاج کرنے والے انٹرنز کے نمائندوں کے درمیان تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا۔ انٹرنز گزشتہ آٹھ روز سے ماہانہ وظیفہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے تھے۔
انٹرنز نے پیر کو اپنے احتجاج کو مزید تیز کرتے ہوئے 48 گھنٹے کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ وہ موجودہ 12,300 روپے ماہانہ وظیفے کو بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
وزیر صحت و طبی تعلیم کے ذاتی شعبے کی جانب سے درج کارروائی کے مطابق حکومت نے کہا کہ معاملے کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر ’’منطقی انجام‘‘ تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ انٹرنز کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں اور اسپتالوں میں طبی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال بلا تعطل جاری رہے۔
فیصلہ کیا گیا کہ 27 جون 2023 کے سرکاری حکم نامہ نمبر 538-جے کے (ایچ ایم ای) کے تحت تشکیل دی گئی وظیفہ اضافے کی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر معاملے کو 30 روز کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔
دستاویز کے مطابق فیصلے میں میڈیکل انٹرنز کے جائز مفادات اور خدشات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
حکومت کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کرنے والے انٹرنز نے مریضوں کی دیکھ بھال کے وسیع تر مفاد اور اپنے تعلیمی و پیشہ ورانہ مفادات کے تحفظ کے پیش نظر ہڑتال ختم کرکے اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
انٹرنز کا کہنا ہے کہ موجودہ وظیفہ تقریباً سات برس سے تبدیل نہیں ہوا ہے، جبکہ اس دوران رہن سہن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور کام کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔
حکومت کی یہ یقین دہانی جموں و کشمیر کے کئی سرکاری میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں جاری طویل احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
دراندازی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خلاف چوکس رہیں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ کے سرحدی باشندوں کو آگاہ کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے پونچھ کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو دراندازی اور ملک دشمن سرگرمیوں کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایڈیشنل ایس پی پونچھ ڈاکٹر اجے شرما کی نگرانی میں بالاکوٹ کے زیرو لائن علاقے میں پولیس کمیونٹی پارٹنرشپ گروپ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پولیس حکام نے پولیس اور عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے، سلامتی سے متعلق معاملات میں مقامی لوگوں کی شمولیت بڑھانے اور سرحدی آبادی کی جائز شکایات دور کرنے کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس کے دوران سرحدی دیہات کے رہنے والوں کو موجودہ سکیورٹی چیلنجز اور دراندازی، دہشت گردی، ملک دشمن سرگرمیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے خلاف چوکس رہنے کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی مشتبہ شخص، گاڑی، چیز یا غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس اور سکیورٹی اداروں کو دیں۔ متعلقہ افسران کے موبائل نمبر بھی مقامی باشندوں کے ساتھ شیئر کیے گئے۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں منشیات اور ان کی اسمگلنگ کے خطرے پر بھی بات ہوئی اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں قابل اعتماد معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ انہیں سائبر فراڈ سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جعل سازی پر مبنی روابط، ون ٹائم پاس ورڈ اور پن کے ذریعے دھوکہ دہی اور بینکنگ لین دین میں فراڈ شامل ہیں۔ لوگوں کو آن لائن لین دین کے دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
مقامی باشندوں نے سرحدی دیہات تک رسائی، سکیورٹی جانچ، اسمارٹ فینس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے نظام کی تنصیب کے علاوہ جنگلی سؤروں کی جانب سے زرعی فصلوں کو پہنچائے جانے والے مسلسل نقصان سے متعلق مسائل بھی اٹھائے۔
پولیس حکام نے ان کے مسائل غور سے سنے اور یقین دلایا کہ جائز شکایات کو متعلقہ حکام کے سامنے مناسب کارروائی کے لیے اٹھایا جائے گا، تاہم سکیورٹی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
مقامی باشندوں کو زیرو لائن اور بالاکوٹ کے سرحدی علاقوں میں امن، سلامتی اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اجلاس میں پولیس اور عوام کے درمیان مسلسل رابطے، کمیونٹی کی چوکسی اور بروقت معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
یو این آئی۔ م ع
-
جموں و کشمیر4 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
دنیا7 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا7 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا7 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر4 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان7 days agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
