پاکستان
پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا: یونیسیف
اسلام آباد، پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً ہر 16 میں سے ایک بچے کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک شکل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے تقریباً 15 لاکھ بچے متاثر ہوئے۔ یہ بات یونیسیف کی حمایت سے تیار کی گئی ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
یہ نتائج اسلام آباد میں ’’ڈس رپٹنگ ہارم اِن پاکستان: ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے شواہد‘‘ کے عنوان سے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر جاری کیے گئے۔ یہ مطالعہ یونیسیف آفس آف اسٹریٹیجی اینڈ ایویڈنس – انوسینٹی، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول نے سیف آن لائن کی مالی معاونت سے کیا۔
تحقیق میں ملک بھر کے نمائندہ سروے کے ذریعے بچوں اور ان کے والدین و نگہداشت کرنے والوں سے معلومات حاصل کی گئیں، فرنٹ لائن اور انصاف کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے انٹرویوز کیے گئے، جبکہ پاکستان کے قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ بھی لیا گیا تاکہ ملک میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کی نوعیت اور پیمانے کا اندازہ لگایا جاسکے۔
رپورٹ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی بدسلوکی کی متعدد اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا گفتگو، نجی تصاویر طلب کرنا، بچوں کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا، جنسی بلیک میلنگ اور دھمکیاں، جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی جنسی تصاویر اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ بدسلوکی کی روک تھام اور مجرموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنانے کے لیے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں بچوں سے صرف خطرات سے بچنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے ایسے مضبوط نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بدسلوکی کو روکیں اور مجرموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جواب دہ بنائیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے واقعات اکثر پوشیدہ رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کا سامنا کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا، جبکہ سروے میں شامل کسی بھی بچے نے ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس جیسے باضابطہ ذرائع سے واقعے کی اطلاع نہیں دی۔
محققین نے اس خاموشی کی بعض وجوہات میں معاشرتی بدنامی، متاثرہ فرد کو ہی قصوروار ٹھہرانے کے رجحان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی کو قرار دیا۔ رپورٹ میں ایسے محفوظ، خفیہ اور آسانی سے قابل رسائی نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن کے ذریعے بچے مدد اور تحفظ حاصل کرسکیں۔
ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل کے پروگرام برائے انصاف و بچوں کے حقوق کے سربراہ اینڈریا وریلا نے کہا کہ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں لڑکیوں اور لڑکوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال اور بدسلوکی کا سامنا تقریباً یکساں شرح سے ہوتا ہے، تاہم ان کے تجربات نمایاں طور پر مختلف ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’لڑکوں کے معاملے میں معاشرتی بدنامی اور مردانگی سے متعلق توقعات کے باعث انہیں متاثرین کے طور پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہوا، اس کے بارے میں بات کرنے سے ان کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ لڑکوں کے منفرد تجربات کو تسلیم کرنا اور ان کے مطابق اقدامات کرنا مؤثر تحفظِ اطفال کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
رپورٹ کی ایک اہم دریافت اس تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا بنیادی خطرہ صرف ’’اجنبی افراد‘‘ سے ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بچوں کی جانب سے بیان کیے گئے 85 فیصد واقعات میں مبینہ مرتکب شخص وہ تھا جسے بچہ پہلے سے جانتا تھا۔ اس سے آن لائن بدسلوکی کو بنیادی طور پر ’’اجنبی سے خطرے‘‘ کا مسئلہ سمجھنے کے تصور کو چیلنج ملتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
