جموں و کشمیر
بڈگام-پونچھ سرحد کے قریب اشدر گلی میں تصادم کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک
سرینگر، حکام نے بتایا کہ جمعہ کے روز بڈگام-پونچھ سرحد کے قریب اشدر گلی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک نامعلوم دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔
یہ آپریشن ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف نے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق مخصوص انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر شروع کیا تھا۔
فوج کی سرینگر میں قائم چنار کور کے مطابق تلاشی آپریشن کرنے والے اہلکاروں نے مشکوک نقل و حرکت دیکھی۔ للکارنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی، جس سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
فوج نے بتایا کہ اس کے بعد ہونے والے آپریشن میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ واقعے کی جگہ سے ایک اے کے سیریز کی رائفل اور دیگر جنگی سامان برآمد ہوا ہے۔
آخری اطلاعات ملنے تک تلاشی آپریشن جاری تھا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ آپریشن بڈگام-پونچھ سرحد کے قریب تقریباً 15,000 فٹ کی بلندی پر ایک گھنے جنگلاتی علاقے میں چلا یا جا رہا ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز کو ناہموار اور مشکل علاقے کی وجہ سے سخت حالات کا سامنا ہے۔
یہ علاقہ پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ واقع ہے، جو وادی کشمیر کو پونچھ-رجوری خطے سے جوڑتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
وزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
سرینگر، کشمیر کے سرکاری میڈیکل کالجوں کے میڈیکل انٹرنز نے ماہانہ وظیفے (اسٹائپنڈ) میں اضافے کے مطالبات کے حوالے سے وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ اتو کے ساتھ ہوئی ملاقات کے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
احتجاجی انٹرنز کے ایک وفد نے وزیر صحت کے ساتھ ملاقات کی جو تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔
انٹرنز نے بتایا کہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے وظیفے میں اضافے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور ایک ماہ کے اندر حکم نامہ جاری کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، انٹرنز نے کہا کہ وہ تحریری یقین دہانی اور نفاذ کے لیے ایک واضح وقت کی حد (ٹائم فریم) چاہتے ہیں، ان کا موقف تھا کہ زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں ہیں کیونکہ ماضی میں بھی اسی طرح کے وعدے کیے گئے تھے۔
جی ایم سی اننت ناگ کے ایک انٹرن ڈاکٹر ضامن جاوید نے کہاکہ “ہم نے ایک تحریری آرڈر یا واضح ٹائم فریم مانگا ہے جس میں یہ بتایا جائے کہ اس عمل میں کتنے دن لگیں گے۔ ہمیں طویل عرصے سے زبانی یقین دہانیاں مل رہی ہیں، لیکن عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ انٹرنز اپنے متعلقہ کالجوں میں واپس جائیں گے اور آگے کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے سے پہلے دیگر طلباء کے ساتھ ملاقات کے نتائج پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ڈاکٹر ضامن جاوید نے مزید کہاکہ “وزیر موصوف کی طرف سے مزید بات چیت کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ لیکن جب تک ہمیں تحریری یقین دہانی نہیں مل جاتی، ہڑتال جاری رہے گی۔”
انٹرنز نے کہا کہ وہ احتجاج پر نہیں رہنا چاہتے اور اس مسئلے کا جلد از جلد حل چاہتے ہیں۔
احتجاجی میڈیکل انٹرنز کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں گے اور ان خبردار کیا کہ اگر تحریری یقین دہانی کے مطالبے پر غور نہ کیا گیا تو احتجاج کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کشمیر کے میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں کے ایم بی بی ایس انٹرنز نے پیر کے روز سے کام بند کر رکھا ہے اور اپنے وظیفے میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سات سالوں سے ان کے وظیفے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔
انٹرنز کو فی الحال تقریباً 12,300 روپے ماہانہ ملتے ہیں، جو کہ روزانہ کے حساب سے تقریباً 400 روپے بنتے ہیں اور وہ اسے بڑھا کر 30,000 روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنز رات کی ڈیوٹیوں اور 24 گھنٹے کی شفٹوں سمیت طویل اوقات کار تک کام کرتے ہیں اور سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال میں شامل رہتے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سری نگر میں کشمیری پنڈتوں نے شوبھا یاترا کے ساتھ جنم اشٹمی منائی
سری نگر، کشمیری پنڈت برادری نے جمعہ کے روز بھگوان کرشن کے یومِ پیدائش کے موقع پر مذہبی عقیدت اور جوش و خروش کے ساتھ جنم اشٹمی کا تہوار منایا اور سری نگر شہر کے اہم علاقوں سے شوبھا یاترا نکالی۔
یہ شوبھا یاترا حبہ کدل، ریگل چوک اور لال چوک سمیت مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی اپنے مرکزی مقام پر واپس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ یاترا کو پرامن طریقے سے مکمل کرنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
ایک کشمیری پنڈت رہنما نے کہا کہ یہ تہوار کشمیری پنڈت برادری کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے اور مختلف برادریوں کے لوگوں کو ایک ساتھ لانے کا ذریعہ بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تہوار دوستوں، رشتہ داروں اور اکثریتی برادری کے افراد کو ایک ساتھ مل کر خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”ہمارے دوست اور رشتہ دار یہاں ملتے ہیں، خاص طور پر ہماری اکثریتی برادری کے لوگ۔ وہ اس تہوار کا انتظار ہم سے زیادہ کرتے ہیں کیونکہ ہم سب شوبھا یاترا کے لیے ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔“
تقریبات کی تاریخ یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 1990ء کی دہائی سے پہلے بھی سری نگر میں یہ تہوار منایا جاتا تھا، لیکن وادی میں حالات بگڑنے کے بعد یہ روایت منقطع ہو گئی تھی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ”یہ 1990ء کی دہائی سے پہلے منایا جاتا تھا۔ جب 1990ء کی دہائی میں حالات خراب ہوئے تو یہ سلسلہ رک گیا، پھر ہم نے 2007ء میں اسے دوبارہ شروع کیا۔ 2007ء سے ہم اسے مسلسل منا رہے ہیں۔“
ان تقریبات میں کشمیری پنڈت برادری کے ساتھ ساتھ دیگر برادریوں کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ کئی چھوٹے بچوں کو روایتی کشمیری لباس زیب تن کیے اور بھگوان کرشن کے چھوٹے مجسمے اٹھائے ہوئے دیکھا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر : میر واعظ کا گھر میں نظر بند کیے جانے اور جامع مسجد جانے سے روکے جانے کا الزام
سری نگر، کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق نے جمعہ کو کہا کہ انہیں ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور تاریخی جامع مسجد سری نگر جانے سے روک دیا گیا ہے، جہاں انہیں ایک مذہبی تقریب کی صدارت کرنی تھی۔
میر واعظ نے کہا کہ یہ پابندیاں انہیں عوام کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکیں گی۔
میر واعظ نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا، “جامع مسجد کے منبر کو خاموش کرنے اور لوگوں کے خدشات اٹھانے، ان کے حقوق اور انصاف کے حق میں کھڑے ہونے کی سزا دینے کی پالیسی بلا روک ٹوک جاری ہے۔
آج جمعہ کے دن مجھے پھر سے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔”
انہوں نے کہا، “خاص طور پر جمعہ کے دن جامع مسجد میں نمازیوں سے خطاب کرنے اور میر واعظ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے روکنے والی یہ پابندیاں ذاتی طور پر انتہائی تکلیف دہ ہیں، لیکن یہ مجھے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور لوگوں کے حقوق کے لیے ان کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتیں۔”
دریں اثنا، میر واعظ نے کہا کہ سری نگر کی ایک عدالت میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے صدر یاسین ملک کا حلف نامہ، جس میں خاص طور پر خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے اور سزائے موت کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، انتہائی تشویش ناک ہے۔
حریت کے صدر میر واعظ نے کہا، “یہ فیصلہ ان سے کیے گئے وعدوں پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے اور مناسب قانونی عمل، غیر جانب داری اور انسانی نقطۂ نظر کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔”
سری نگر کی ایک عدالت کے سامنے حال ہی میں داخل کیے گئے حلف نامے میں جیل میں بند ملک نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں اپنے کسی بھی کردار سے انکار کیا ہے، اس کے باوجود انہوں نے اپنے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتے ہوئے اس معاملے میں مزید اپنی پیروی نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
-
پاکستان1 week agoپاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
-
دنیا1 week agoچین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ، بھاری جانی نقصان
-
دنیا1 week agoنیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
-
دنیا1 week agoقطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی
-
جموں و کشمیر1 week agoحکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
-
جموں و کشمیر2 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
