کھیل
ورلڈ کپ کے حوالے سے شکوک و شبہات کے درمیان بی سی سی آئی نے روہت شرما کی حمایت کی
ممبئی، روہت شرما کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ بی سی سی آئی نے اشارہ دیا ہے کہ سابق کپتان کی جگہ پر فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے، جبکہ 2027 ورلڈ کپ کے لیے ان کی دستیابی کو لے کر کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔
جمعرات کو بی سی سی آئی ہیڈکوارٹر میں ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائکیہ نے کہا، ”آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ شاندار کھیل رہے ہیں۔“
اس میٹنگ میں ہندوستان کے دونوں کپتان – شبھمن گل (ٹیسٹ اور ون ڈے) اور شریاس ایئر (ٹی-20) – شامل ہوئے۔ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور سی او ای کے سربراہ وی وی ایس لکشمن بھی موجود تھے۔ سلیکٹرز کے چیئرمین اجیت اگرکر میٹنگ میں نہیں تھے۔ وہ ممبئی سے باہر تھے اور شاید ایسی جگہ پر تھے جہاں انٹرنیٹ نہیں تھا۔
دیوجیت سائکیہ نے جمعرات کو بورڈ کی پرفارمنس ریویو میٹنگ کے بعد روہت کی حمایت کی۔ انہوں نے سابق کپتان کی حالیہ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مستقبل کو لے کر کوئی قیاس آرائیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا، ”وہ تمام میچوں میں بہترین کھیل رہے ہیں۔ آپ کو اور کیا چاہیے؟ گزشتہ میچ میں انہوں نے 130-140 رن بنائے۔ تو پھر قیاس آرائیاں کیوں؟ میں قیاس آرائیاں کرنے والوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا۔“
گزشتہ سال ہندوستان کی چیمپئنز ٹرافی فتح کے بعد روہت کو ون ڈے کپتانی سے ہٹائے جانے کے بعد سے ہی ان کے مستقبل پر بحث چل رہی ہے۔ ان کی عمر کے باعث 2027 ورلڈ کپ میں ان کی شرکت پر سوال اٹھنے لگے تھے، لیکن جولائی میں انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے میں سنچری بنا کر انہوں نے ان قیاس آرائیوں کا جواب دیا۔
39 سالہ روہت ہندوستان کے سب سے تجربہ کار ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اس فارمیٹ میں 11,895 رن بنائے ہیں اور 34 سنچریاں اسکور کی ہیں۔ ان کے نام ون ڈے میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور (264 رن) کا ریکارڈ بھی ہے اور انہوں نے 2019 ورلڈ کپ میں پانچ سنچریاں لگائی تھیں۔
اس دوران، سائکیہ نے واضح کیا کہ جمعرات کی میٹنگ کوئی سلیکشن میٹنگ نہیں تھی اور ٹیم کی تشکیل کو لے کر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا، ”تو، آج ہماری کوئی سلیکشن میٹنگ نہیں تھی۔ یہ ایک روٹین میٹنگ تھی، جیسی ہم اکثر تین مہینے کے وقفے پر کرتے ہیں۔ آج ہماری میٹنگ ہیڈ کوچ، ہیڈ آف کرکٹ، سی او ای اور دو کپتانوں – ہمارے ٹی-20 کپتان اور ٹیسٹ و ون ڈے کپتان شبھمن – کے ساتھ ہوئی۔“ انہوں نے کہا، ”ہم نے بنیادی طور پر اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ہماری ٹیم نے انگلینڈ اور آئرلینڈ میں کیسی کارکردگی دکھائی اور اگلے ایک سال میں ہم کیا کرنے والے ہیں۔ اس لیے، ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے اور ہم کچھ ایسی سرگرمیاں کریں گے جس سے 2027 میں ہماری کارکردگی بہت اچھی ہو۔“
کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور چوٹ کے نظم و نسق پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں بی سی سی آئی مصروف بین الاقوامی شیڈول کے دوران بہتر تیاری اور ریکوری یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔
”کھلاڑیوں کو چوٹیں اس لیے لگ رہی ہیں کیونکہ انہیں بہت سارے میچ کھیلنے پڑتے ہیں۔ اگر آپ ان کے شیڈول کو دیکھیں، تو انگلینڈ میں ون ڈے کے لیے ہماری 15 کھلاڑیوں کی ٹیم گئی تھی، اور ان میں سے 3 یا 4 کھلاڑی زخمی ہو گئے۔ ہمیں اس بات کا بھی دھیان رکھنا ہو گا کہ اس سے پہلے انہوں نے دو مہینے تک آئی پی ایل کھیلا تھا۔“
”اس لیے ان سب کا کھلاڑیوں کی صحت پر اثر پڑتا ہے۔ موجودہ ایف ٹی پی کے تحت ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے ہم کچھ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس ایک پروٹوکول ہے کہ چوٹ کے بعد کوئی کھلاڑی بین الاقوامی میچوں میں کیسے واپسی کر سکتا ہے۔ ہم ایسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے صحیح حکمتِ عملی بنانے کے لیے کپتانوں اور چیف کوچ سے فیڈ بیک لے رہے ہیں۔ اگلے ایف ٹی پی میں، ہم اے سی این اے ممالک میں کسی بھی بڑی سیریز سے پہلے کھلاڑیوں کے لیے مناسب آرام، ماحول کے مطابق ڈھلنے یا کچھ پریکٹس میچوں کا انتظام یقینی بنائیں گے۔“
سائکیہ نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ لکشمن کو ہندوستانی کرکٹ سیٹ اپ میں کوئی نئی ذمہ داری دی جا سکتی ہے اور اشارہ دیا کہ اگرکر کی صدارت والی سلیکشن کمیٹی میں تبدیلی کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔
یواین آئی۔الف الف
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم
-
ہندوستان1 week agoتہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
دنیا1 week agoایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس
-
دنیا1 week agoنیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل
-
دنیا1 week agoامیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے میلاد النبی پر ملک کو مبارکباد دی، زیادہ ہم آہنگی کی امید ظاہر کی
-
دنیا1 week agoقطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی
-
پاکستان1 week agoپاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
