دنیا
امریکہ غیر ملکی سرکاری ملازمین کے بچوں کو پیدائشی شہریت نہیں دے گا
واشنگٹن، امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے ایک دستاویز میں کہا ہے کہ امریکہ غیر ملکی سرکاری ملازمین کے ان بچوں کو پیدائشی شہریت نہیں دے گا، جن کی پیدائش امریکہ میں ہوئی ہو، بشرطیکہ ان کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری نہ ہو۔
جمعہ کے روز شائع ہونے والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ “ڈی ایچ ایس اس بات کی بھی وضاحت کر رہا ہے کہ غیر ملکی سرکاری ملازم کا بچہ پیدائشی شہریت کے مقصد کے لیے امریکہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جب تک کہ بچے کے والدین میں سے کم از کم ایک امریکی شہری نہ ہو۔”
ڈی ایچ ایس نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرکاری ملازم کا بچہ امریکہ میں مستقل سکونت حاصل کرنے کا اہل ہے۔
امریکہ غیر ملکی سفارت کاروں کو غیر ملکی سرکاری ملازمین شمار کرتا ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
نئے تیل روٹ بننے سے آبنائے ہرمز کی اہمیت ختم ہو جائے گی: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہو جائے گی، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنیں بن رہی ہیں اور تیل لے جانے کے لیے متبادل راستے تیار کیے جا رہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “ابھی پائپ لائنیں بن رہی ہیں۔ شام سے گزرنے والا راستہ (جو بہت اچھا ہے) بن رہا ہے اور دراصل کھل بھی چکا ہے؛ لوگ سیریا سے ٹرک لے جا رہے ہیں، تیل سے بھرے بڑے بڑے ٹرک۔ آبنائے ہرمز کے کئی متبادل تیار کیے جا رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز اب ویسا نہیں رہا جیسا پہلے ہوا کرتا تھا… ایرانیوں کے پاس آخر میں ایسا آبنائے ہرمز بچے گا جس کی اب بہت زیادہ ضرورت نہیں رہے گی۔ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پائپ لائنیں بن رہی ہیں، اس لیے انہیں ہرمز سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
مسٹر ٹرمپ نے جمعرات کو ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک تصویر پوسٹ کی، جس کے مطابق ابھی اس آبنائے سے روزانہ تقریباً 1.8 کروڑ (18 ملین) بیرل تیل گزر رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تصادم شروع ہونے سے پہلے یہ اعداد و شمار 2 کروڑ (20 ملین) بیرل تھے۔
اٹھارہ اگست کو ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلا قرار دے دیا تھا، لیکن ایران کے خلاف بحری ناکا بندی ابھی بھی جاری ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ بنا ہوا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے درمیان اس سے ہونے والی جہازوں کی آمد و رفت میں کافی کمی آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ بڑے آئل ٹینکر اور گیس کیریئر تقریباً اس راستے کا استعمال کرنا بند کر چکے ہیں۔
کشیدگی بڑھنے سے پہلے، دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس کی کھیپ اسی آبنائے سے ہو کر گزرتی تھی۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی مسماری کا سلسلہ ’دن رات‘ جاری
بیروت، جنوبی لبنان کے فروان میں دھماکوں سے زمین لرز رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
56 سالہ حسن سعید رمضان جنوبی لبنان کی اس بلدیاتی حدود میں اپنے گھر پر موجود تھے جب انہوں نے دھماکوں کی آواز سنی۔انہوں نے قریب واقع قنطارہ پہاڑیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’زمین زلزلے کی طرح لرز اٹھی اور پہاڑ کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔‘‘
اسرائیلی فوج فروان کے بالکل جنوب میں موجود ہے اور جنوبی لبنان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے باقاعدگی سے فوجی کارروائیاں اور دھماکے کرتا ہے۔
اس ہفتے قنطارہ پہاڑی سلسلے کے ساتھ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم دو مقامات پر پہاڑوں کا ایک نمایاں حصہ منہدم ہوگیا۔ فروان، غندوریہ، برج قلاویہ اور قلاویہ جیسے اسرائیلی زیر کنٹرول لبنانی علاقوں کی سرحد سے متصل دیہات کے مقامی باشندوں اور حکام نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ جنگی آوازیں—جنگی طیاروں اور ڈرونز کی آوازیں، اور سب سے بڑھ کر اسرائیلی مسماری کے دھماکے—مسلسل سنائی دیتے ہیں اور اکثر رات بھر انہیں سونے نہیں دیتے۔
رمضان سے گفتگو کے دوران دور سے ایک اور دھماکے کی آواز سنائی دی، جو بظاہر اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک مکان کو مسمار کرنے کا دھماکہ تھا۔ رمضان نے کہا، ’’دن رات۔ ہم انہیں دیکھتے بھی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اب یہ معمول بن چکا ہے۔‘‘
مارچ میں اسرائیل نے دو سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ لبنان پر حملہ کیا۔ اکتوبر 2024 میں ہونے والے پہلے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے تقریباً مکمل انخلا کرلیا تھا، تاہم جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر فوجی اہلکار موجود رہے۔ دوسری بار حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ان کی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی، حالانکہ امریکی حکام یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ اسرائیل کو لبنان میں علاقائی عزائم نہیں ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے اطراف ان اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں وہ حزب اللہ سے متعلق قرار دیتی ہے۔
دریں اثنا، لبنانی حکومت امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے، حالانکہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی ان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں اور جنگ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی موجودگی کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے حامی ہیں۔
اسرائیل اور لبنان نے جون میں ایک ’’فریم ورک معاہدے‘‘ پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت ’’پائلٹ زون‘‘ منصوبہ شروع کیا گیا۔ ان پائلٹ زونز کو ایسے آزمائشی علاقوں کے طور پر استعمال کیا جانا ہے جہاں لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی اور اسرائیلی فوج ان علاقوں سے انخلا کرے گی۔
پہلے پائلٹ زونز فروان، صریفا اور زوتر الغربیہ کے دیہات کو بنایا گیا تھا۔ تاہم مقامی لوگوں نے فروان اور صریفا کو اس منصوبے میں شامل کیے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان علاقوں پر اسرائیل نے کبھی قبضہ ہی نہیں کیا تھا۔
رمضان نے کہا، ’’اسرائیلی یہاں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھے تھے۔‘‘
اسرائیل بھی مبینہ طور پر پائلٹ زون منصوبے پر تنقید کر رہا ہے اور تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ اسرائیل اس منصوبے کو آگے بڑھنے دینے پر آمادہ ہوگا۔
حزب اللہ پر کتاب لکھنے والے اور اٹلانٹک کونسل کے غیر مستقل سینئر فیلو نکولس بلانفورڈ نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا، ’’پائلٹ زونز اسی وقت مؤثر ہوسکتے ہیں جب مختلف فریقوں کی نیک نیتی شامل ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی کہہ چکے ہیں کہ وہ مزید انخلا نہیں کریں گے، اس لیے یہ عمل رک جاتا ہے۔‘‘
لبنانی حکومت اور فوج کی کوششوں کے باوجود حزب اللہ اور اسرائیل دونوں نے اس عمل کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے لبنان کے لیے سینئر تجزیہ کار ڈیوڈ ووڈ نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا، ’’حزب اللہ اس منصوبے کی مکمل مخالفت کرتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ لبنان کو اسرائیلی انخلا کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کی خاطر ایران پر انحصار کرنا چاہیے۔ اسرائیل نے پائلٹ زون منصوبے کی محض رسمی حمایت کی ہے، لیکن حال ہی میں اس نے لبنانی علاقے پر اپنے قبضے کو کم کرنے کے بجائے مزید وسعت دی ہے۔‘‘
اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کے قریب واقع دیہات میں متعدد مکانات اور مقامی بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔ دیہات تک جانے والی کئی سڑکوں کے کناروں پر کنکریٹ کا ملبہ اور گرد و غبار کے ڈھیر نظر آتے ہیں۔ جمعرات کو دن بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے اور ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
تہران، ایران پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ‘ایران کی تجارتی جہازوں پر فائرنگ’ کہنے والے امریکی انتظامیہ کے بیان کے جواب میں کہا: ‘کہانی شروع سے بتائیں۔ مت بھولیں، یہ جنگ آپ نے ہی چھیڑی تھی۔’
ابراہیم عزیزی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ وینس کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ایران کو موردِ الزام ٹھہرانے والے بیان کا جواب دیا۔
امریکی نائب صدر وینس نے کل وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: ‘ایندھن کے نرخوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ ایرانیوں کی تجارتی جہازوں پر فائرنگ ہے۔’
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبناے ہرمز سے گزر کو بڑی حد تک محدود کر دیا تھا۔ 17 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان دستخط ہونے والے مفاہمتی نوٹس کے بعد گزرگاہ سے گزر کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم ایران نے اس مفاہمت کے نفاذ کے بارے میں اختلافات کے باعث 8 جولائی کو جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کے بعد 12 جولائی کو گزرگاہ کو دوبارہ محدود کر دیا تھا۔
ایران کی جانب سے ہرمز بند کرنے کے بعد خطے سے تیل کا بہاؤ بڑی حد تک رک گیا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
-
پاکستان1 week agoپاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
-
جموں و کشمیر1 week agoحکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
-
جموں و کشمیر3 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
-
دنیا1 week agoنیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار
-
جموں و کشمیر1 week agoاننت ناگ میں دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزام میں بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج
-
دنیا1 week agoروبیو قدرتی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی بورڈ کے لیے چار امیدوار مقرر کریں گے
