ہندوستان
سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نابالغوں کی سکیورٹی کے لیے دائر درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کیا
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے جڑے آن لائن استحصال اور دیگر خطرات سے بچانے کے لیے فائر وال جیسے سکیورٹی اقدامات کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک مفادِ عامہ کی درخواست (پی آئی ایل) پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بینچ نے جمعرات کے روز ایک غیر سرکاری تنظیم ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس’ کی دائر کردہ درخواست پر یہ نوٹس جاری کیا۔ اس درخواست میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ انڈین کنٹریکٹ ایکٹ، 1872 کی دفعہ 11 کے تحت نابالغوں کے معاہدہ (کنٹریکٹ) کرنے کا اہل نہ ہونے کے باوجود انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آزادانہ طور پر اکاؤنٹ بنانے اور چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ صارفین کی عمر اور ان کی جانب سے کسی قانونی طور پر جائز معاہدے میں داخل ہونے کے حق کی تصدیق کرنے والے موثر اور یکساں نظام کے عدم موجودگی میں بچے آن لائن گرومنگ، جنسی استحصال، ڈیجیٹل ٹریفکنگ، سیکس ٹارشن، بیہیویئرل پروفائلنگ، ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال، سائبر ہراسانی اور عمر کے مطابق نہ ہونے والے بالغ مواد کے نمائش جیسے سنگین خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔
درخواست میں انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز-2021 میں ایک خصوصی شق شامل کرنے یا مناسب رہنما خطوط تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی کے بغیرنابالغ ایسا کوئی معاہدہ نہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی والدین یا سرپرست کی شناخت اور ان کے اختیار کی تصدیق الیکٹرانک کے وائی سی یا قانوناً جائز کسی دوسرے نظام کے ذریعے کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جہاں نابالغوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت ہے، وہاں والدین یا سرپرست کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ایڈوائزری جاری کی جائے اور متعلقہ ڈیجیٹل سروس کی نوعیت نیز اس سے جڑے خطرے کے مطابق سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جائیں۔ اس میں حکومت کی جانب سے مناسب نظام تیار کیے جانے تک عبوری رہنما خطوط جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
امریکہ کے ساتھ ہندوستانیوں کے مفادات کی مضبوط وکالت نہ کرنے کی وجہ بتائے حکومت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہند نژاد لوگوں کی مسلسل توہین ہو رہی ہے لیکن ان معاملات میں مودی حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ ہندوستانیوں کے مفادات اور وقار کی مضبوطی سے وکالت نہیں کر پا رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ وزیراعظم نریندر مودی جن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا ‘دوست’ بتاتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ میں ہندوستانیوں اور ہند نژاد لوگوں کی مسلسل توہین ہو رہی ہے لیکن مودی حکومت اس پورے معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے شعبہ (ڈی ایچ ایس) کے سرکاری ہینڈل سے ‘مسٹر سنگھ’ کو نشانہ بنا کر ایک قابلِ اعتراض پوسٹر جاری کیا گیا جس میں پگڑی پوش ہندوستانی کو ‘ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ، رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دو، ورنہ نتائج بھگتو’ جیسی دھمکی دی گئی۔ اس کی جب امریکہ میں شدید مخالفت ہوئی تو اس کے بعد محکمہ کو یہ پوسٹ ہٹانی پڑی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھی اس نے اپنے سرکاری پوسٹ کے ذریعے اس مہم اور اس کی زبان کا دفاع کیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ یہ صرف کسی ایک شخص یا برادری کی توہین نہیں، بلکہ تمام ہندوستانیوں کے وقار کی توہین ہے اور ایسی نسل پرستانہ ذہنیت اور سرکاری سطح کی بدتمیزی کا سخت جواب دیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہندوستانیوں کو ہتھکڑیوں اور پیروں میں بیڑیوں کے ساتھ امریکی فوجی طیارے سے ہندوستان بھیجے جانے نیز امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر یکطرفہ اضافی چارجز (ڈیوٹی) عائد کیے جانے کے معاملات میں مودی حکومت کا کردار سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے۔
جے رام رمیش نے سوال کیا کہ ‘وشو گرو’ ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں ہندوستان کی سفارتی طاقت اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہے کہ ملک کے مفادات اور خودمختاری پر ایک کے بعد ایک حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں دوستی اہم ہے، لیکن قومی مفاد، ہندوستانیوں کا وقار اور ہندوستان کی خودمختاری سب سے مقدم ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
آئی ایم ڈی کی 14 اور 15 ستمبر کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی
پنچکولا، ہندوستانی محکمہ موسمیات نے 14 اور 15 ستمبر کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ آنے والے دنوں میں شمال مغربی ہندستان کے کئی حصوں میں بارش اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کی بھی توقع ہے۔
11 ستمبر کو صبح 8:30 بجے جاری کیے گئے پورے ہندستان کے موسم کے خلاصے اور پیش گوئی کے بلیٹن کے مطابق، محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ پیش گوئی کی مدت کے دوران شمال مغربی ہندستان کے باقی حصوں میں الگ الگ سے لے کر کچھ مقامات پر بارش کے ساتھ گرج چمک اور بجلی چمکنے کا امکان ہے۔
ہریانہ، چندی گڑھ اور دہلی کے لیے محکمہ موسمیات کی 7 روزہ پیش گوئی کے مطابق 11 ستمبر کو الگ الگ مقامات پر بارش، 12 سے 15 ستمبر تک کچھ مقامات پر بارش اور 16 اور 17 ستمبر کو دوبارہ الگ الگ مقامات پر بارش ہونے کا امکان ہے۔
پنجاب میں 11 سے 13 ستمبر تک الگ الگ مقامات پر بارش، 14 اور 15 ستمبر کو کچھ مقامات پر بارش اور 16 اور 17 ستمبر کو دوبارہ الگ الگ مقامات پر بارش کی توقع ہے۔
14 ستمبر کے لیے محکمہ موسمیات کی روزانہ کی موسمی تنبیہ کے مطابق ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں الگ الگ مقامات پر موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔ اروناچل پردیش، آسام اور میگھالیہ، مشرقی راجستھان، ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بھی اسی طرح کے حالات رہنے کا امکان ہے۔
15 ستمبر کو ہریانہ، چندی گڑھ، دہلی اور پنجاب میں موسلادھار بارش جاری رہنے کی توقع ہے۔ اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورہ، سوراشٹر، کچھ، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کارائیکل میں بھی الگ الگ مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دریں اثنا، شمال مغربی ہندستان میں اتراکھنڈ میں 11 سے 14 ستمبر تک وسیع پیمانے پر بارش کے ساتھ گرج چمک کا امکان ہے، جبکہ 11 سے 13 ستمبر تک الگ الگ مقامات پر موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔ مشرقی راجستھان میں 13 سے 15 ستمبر تک وسیع پیمانے پر بارش ہونے کی توقع ہے، جبکہ 13 اور 14 ستمبر کو الگ الگ مقامات پر موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ شمال مغربی خلیج بنگال پر کم دباؤ کا علاقہ 11 ستمبر کو صبح 5:30 بجے تک شمال مغرب کی سمت بڑھ کر وسطی خلیج بنگال کے مغربی حصے اور اس سے ملحقہ جنوبی اڈیشہ اور شمالی آندھرا پردیش کے ساحلوں تک پہنچ گیا۔ اس سے وابستہ گردابی گردش اوسط سطح سمندر سے 7.6 کلومیٹر کی بلندی تک پھیلی ہوئی تھی۔
جنوب مغربی اتر پردیش اور اس سے ملحقہ شمالی مدھیہ پردیش پر بالائی فضا میں گردابی گردش موجود ہے۔ مون سون کی پٹی سری گنگا نگر، گنا، جبل پور اور بلاسپور سے گزرتے ہوئے کم دباؤ کے علاقے کے مرکز تک پھیلی ہوئی ہے۔
بلیٹن کے مطابق ایک مغربی خلل بھی برقرار ہے، جس کی شناخت شمالی پاکستان اور اس سے ملحقہ جموں پر اوسط سطح سمندر سے 5.8 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ’’گردابی گردش‘‘ کے طور پر کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ محکمہ موسمیات نے بتایا کہ روزانہ کی ہر پیش گوئی اور موسمی تنبیہ مقررہ دن صبح 8:30 بجے سے اگلے دن صبح 8:30 بجے تک مؤثر رہتی ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مودی نے وویکانند کی شکاگو تقریر کو یاد کیا، کہا: ان کا پیغام آج بھی پوری دنیا کے لئے بامقصد
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو سوامی وویکانند کی 1893 میں شکاگو میں منعقد عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ میں کی گئی تاریخی تقریر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے متاثر کن خیالات آج بھی پوری دنیا میں گونج رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کو متاثر کررہے ہیں۔
مسٹر مودی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوامی وویکانند کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ’’11 ستمبر 1893 کو شکاگو میں سوامی وویکانند کی مؤثر تقریر نے دنیا کو ہندستان کے تہذیبی ورثے کی جھلک دکھائی۔ ان کے متاثر کن الفاظ آج بھی پوری دنیا میں گونجتے ہیں۔‘‘
سوامی وویکانند نے 11 ستمبر 1893 کو شکاگو میں منعقد عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ میں تاریخی تقریر کی تھی۔
اسے بین الاقوامی سطح پر ہندستان کی روحانی اور فلسفیانہ روایات کی شناخت قائم کرنے والا اہم موقع سمجھا جاتا ہے۔
سوامی وویکانند نے اپنی تقریر کا آغاز ’’امریکہ کی بہنو اور بھائیو‘‘ کہہ کر کیا تھا۔ ان الفاظ کا وہاں موجود سامعین نے زوردار تالیوں کے ساتھ خیرمقدم کیا اور اس نوجوان سنیاسی نے فوراً ہی سامعین کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرلیا۔
سوامی وویکانند نے اپنی تقریر میں ہندستان کی مذہبی رواداری، مختلف عقائد کو قبول کرنے اور روحانی کثرت پسندی کی روایت کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی اپیل کی۔
شکاگو میں منعقد عالمی مذاہب کی پارلیمنٹ کا انعقاد ورلڈس کولمبین نمائش کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ سوامی وویکانند کی شرکت سے ویدانت اور ہندستانی فلسفیانہ خیالات کو بین الاقوامی سطح پر وسیع شناخت ملی۔ عالمگیر بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کا ان کا پیغام ان کی عالمی وراثت کا اہم حصہ بن گیا۔
سوامی وویکانند ہندستان کی جدید روحانی اور قومی بیداری کی اہم شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے خود اعتمادی، انسانی خدمت اور ہندستان کی ثقافتی و تہذیبی بیداری کی تجدید پر زور دیا، جس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
وزیر اعظم مودی مختلف مواقع پر سوامی وویکانند کی تعلیمات کا ذکر کرتے رہے ہیں اور ہندستان کے تہذیبی ورثے کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی، شمولیت اور خدمت کے ان کے پیغام کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔
مسٹر مودی کے تازہ تبصرے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 130 سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سوامی وویکانند کی شکاگو تقریر کا پیغام آج بھی پوری دنیا کے لیے قابلِ عمل اور متاثر کن بنا ہوا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر6 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر6 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
جموں و کشمیر6 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoاساتذہ بچوں کے رویے، اسکرین ٹائم اور نشے کی عادت پر بھی توجہ دیں: مودی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے قریب پاکستانی درانداز کو پکڑ لیا
-
جموں و کشمیر1 week agoنمبر پلیٹ ماسکنگ کے خلاف کشمیر پولیس کی کارروائی، 10 دن میں 150 سے زائد گاڑیاں ضبط
-
جموں و کشمیر7 days agoوزیر صحت سے ملاقات کے بعد بھی میڈیکل انٹرنز کی ہڑتال جاری
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم نریندر مودی نے عوام کو جنم اشٹمی کی مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی
