جموں و کشمیر
راجوری میں 20000 روپے کی رشوت کے معاملے میں ٹریژری کلرک گرفتار
جموں، جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) کے اہلکاروں نے راجوری ضلع میں محکمہ صحت کے ایک ریٹائرڈ ملازم سے 20000 روپے کی رشوت مانگنے اور قبول کرنے کے الزام میں ٹریژری دفتر کے ایک کلرک کو گرفتار کیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان کے مطابق، ملزم کی شناخت کالاکوٹ واقع ٹریژری دفتر میں تعینات کلرک خادم حسین کے طور پر ہوئی ہے۔ اس نے شکایت کنندہ سے اس کی 50000 روپے کی گریجویٹی رقم کی ادائیگی کی کارروائی آگے بڑھانے کے عوض 25000 روپے کا مطالبہ کیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ محکمہ صحت کے ریٹائرڈ چوتھے درجے کے ملازم شکایت کنندہ اپنی 50000 روپے کی گریجویٹی رقم نکالنے کے لیے ٹریژری دفتر، کالاکوٹ پہنچے تھے، تبھی خادم نے ان کے معاملے پر کارروائی کرنے کے لیے رشوت کا مطالبہ کیا۔
شکایت کے مطابق، شکایت کنندہ اپنی گریجویٹی کی رقم نکلوانے کے سلسلے میں ٹریژری دفتر، کالاکوٹ گئے تھے اور خادم سے ملاقات کی تھی۔ بات چیت کے دوران ملزم افسر نے شکایت کنندہ کی گریجویٹی رقم کی ادائیگی کے معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے غیر قانونی طور پر 25000 روپے کی رشوت طلب کی۔
رپورٹ کے مطابق، شکایت کنندہ نے خود کو غریب بتاتے ہوئے ملزم افسر سے اپنی مالی حالت پر غور کرنے کی درخواست کی، لیکن ملزم مسلسل 25000 روپے کی رشوت مانگنے پر اڑا رہا۔ اس کے بعد رشوت کی رقم پر بات چیت ہوئی اور یہ 20000 روپے میں طے ہوئی۔
ترجمان نے بتایا کہ “چونکہ شکایت کنندہ کوئی رشوت نہیں دینا چاہتا تھا اور اس غیر قانونی مطالبے کے آگے جھکنا نہیں چاہتا تھا، اس لیے اس نے انسداد بدعنوانی بیورو سے رابطہ کیا اور ملزم افسر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تحریری شکایت درج کرائی۔” شکایت موصول ہونے کے بعد الزامات کی تصدیق کی گئی اور مقدمہ درج کرنے کے بعد جال بچھانے کے لیے اے سی بی پولیس اسٹیشن راجوری کے افسران اور اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس کارروائی کے دوران اے سی بی کی ٹیم نے خادم حسین کو شکایت کنندہ سے غیر قانونی رشوت کے طور پر 20000 روپے لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ملزم افسر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد معاملے کے سلسلے میں راجوری میں واقع ملزم کے رہائشی احاطے کی بھی تلاشی لی گئی۔
یو این آئی۔این یو۔
جموں و کشمیر
لداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
سری نگر، مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں اس سال سیاحوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال 2026 کے پہلے 8 ماہ (جنوری سے اگست) میں ہی 4.05 لاکھ سے زیادہ سیاح لداخ پہنچ چکے ہیں۔ ان 8 ماہ کے اعداد و شمار نے سال 2025 کے پورے سال کے مجموعی سیاحتی اعداد و شمار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کے ذریعے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری اور اگست 2026 کے درمیان 4.05 لاکھ سیاح پہنچے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 2.69 لاکھ تھی۔ یہ سالانہ بنیاد پر 50.37 فیصد کا اضافہ ہے۔ سال 2025 میں مجموعی سیاحوں کی آمد صرف 3.35 لاکھ تھی۔
علاقے میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد و رفت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سال جنوری سے اگست کے درمیان لداخ میں 33,346 غیر ملکی سیاح آئے، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں یہ تعداد 25,082 تھی۔
صرف اگست کے مہینے میں 2026 میں 74,753 سیاحوں نے لداخ کا دورہ کیا، جو گزشتہ سال اگست کے مہینے میں آنے والے 45,201 سیاحوں کے مقابلے میں 65.38 فیصد زیادہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر سکسینہ نے اس اضافے کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے ملکی سیاحت کو فروغ دینے کے نظریے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مرکزی حکومت کی مسلسل توجہ اور لداخ کی سیاحت دوست پالیسی کے خاکے کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس علاقے میں پائیدار، ذمہ دار اور پورے سال جاری رہنے والی سیاحتی معیشت قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیاحتی موسم سے باہر ہونے والی تقریبات اور پروگراموں کو فروغ دے کر مقامی نوجوانوں، کاریگروں اور ہوم اسٹے چلانے والوں کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، تاکہ سیاحوں کو پرسکون اور سستا تجربہ حاصل ہو سکے۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیا
سری نگر، جسٹس پشپیندر سنگھ بھاٹی نے بدھ کو یہاں منعقدہ ایک تقریب میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف لیا۔
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے جسٹس بھاٹی کو عہدے کا حلف دلایا۔ مسٹر سکسینہ اس وقت جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کا اضافی چارج بھی سنبھال رہے ہیں۔
عہدیداروں نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے شالیمار آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، کئی کابینی وزرا، ہائی کورٹ کے جج اور سینئر سول و پولیس افسران شریک ہوئے۔
مرکزی حکومت نے 05 ستمبر کو جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس بھاٹی کی تقرری کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
وندے ماترم تنازع نے جموں و کشمیر میں انڈیا اتحاد کے اختلافات کو بے نقاب کر دیا
سری نگر، جموں و کشمیر میں وندے ماترم کے مکمل ورژن پر کانگریس اور اس کی اتحادی جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ سری نگر میں بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں وندے ماترم کا مکمل ورژن گائے جانے پر کانگریس نے اعتراض کیا تھا۔ تقریب میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری اور تنظیمی امور کے انچارج کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کے اس موقف کی حمایت کرے جس میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وندے ماترم کا مکمل ورژن اس ہم آہنگی اور کثرت پسندی کی روح کے مطابق نہیں ہے، جس کا تصور آزادی کے مجاہدین نے ہندستان کے لیے کیا تھا اور اسے فروغ دیا تھا۔‘‘
مسٹر وینوگوپال نے مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، آچاریہ نریندر دیو، مولانا ابوالکلام آزاد، سروجنی نائیڈو اور جے بی کرپلانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس گیت کے حوالے سے آزادی کے مجاہدین کا اجتماعی فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے نے بھی گیت کی موجودہ شکل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی اتحادی جماعتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آزادی کے مجاہدین کے فیصلے کا احترام کریں اور اسی ورژن کو گائیں جسے انہوں نے اختیار کیا تھا۔ ان کے مطابق اس ورژن کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا تاکہ گیت کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیا جائے اور جمہوریہ کے سیکولر اور جامع کردار کو برقرار رکھا جا سکے۔ جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق قرہ نے بھی وندے ماترم کا مکمل ورژن گائے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی علامات، قومی گیت اور روایات ہر ہندستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی اصل طاقت ملک کے تنوع کو متحد کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی جانب سے وندے ماترم کا مکمل ورژن گانا تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ آزادی کی تحریک سے لے کر جمہوریہ کے آئینی سفر تک اس گیت کے کردار میں آنے والی بتدریج تبدیلی کو نظرانداز کرتا ہے۔
مسٹر وینوگوپال کے بیان پر بی جے پی کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے اسے کانگریس کے لیے ایک نئی نچلی سطح قرار دیا۔ بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے ’ایکس‘ پر کہا، ’’…ان کی اپنی اتحادی جماعتوں کے مسلم رہنما فخر اور پورے اعتماد کے ساتھ وندے ماترم گا رہے ہیں اور کانگریس، جو خود کو مسلمانوں کی خود ساختہ ٹھیکیدار سمجھتی ہے، انہی رہنماؤں کو برا بھلا کہہ رہی ہے اور وندے ماترم کو مسلم مخالف قرار دے رہی ہے۔ آپ ہوتے کون ہیں؟ چاول کے بدلے مذہب تبدیل کرنے والے لوگ اب حقیقی مسلمانوں کو اسلام اور مسلم مخالف ہونے کا سبق دیں گے؟ آپ دو تین انتہا پسند ملاؤں کے تلوے چاٹنے کے لیے پوری برادری اور پورے ملک کو بیچ دیں گے؟ کانگریس سے زیادہ مسلم مخالف اور ملک دشمن کوئی پارٹی نہیں ہے۔ آپ کے لیے شرم کی بات ہے۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے گزشتہ ماہ وندے ماترم کے حوالے سے 1937 کی پارٹی قرارداد پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت مستقبل میں کانگریس کے پروگراموں میں گیت کے صرف پہلے دو بند گائے جائیں گے۔
یواین آئی ایم جے
-
جموں و کشمیر5 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا1 week agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر5 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر5 days agoکشمیر میں جنگلی سوروں کی اصل کا پتہ لگانے کے لیے جینیاتی مطالعہ شروع
-
ہندوستان1 week agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
دنیا1 week agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں یومیہ اجرت ملازمین کا احتجاج، وقت مقررہ میں مستقلی کا مطالبہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسرینگر میں اپنی پارٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کا حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
-
دنیا1 week agoنیپال اور چین میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے متجاوز
